اسلام آباد (اردو ٹائمز) جذبہ وہی ہے، عمر بدل گئی ہے باعث افتخارِ انجینئر افتخار چودھری سعودی عرب آج ایک بار پھر مشکل اور نازک حالات سے گزر رہا ہے۔

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) جذبہ وہی ہے، عمر بدل گئی ہے باعث افتخارِ انجینئر افتخار چودھری سعودی عرب آج ایک بار پھر مشکل اور نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ حوثی حملوں نے مملکت کے مختلف علاقوں، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دنوں میں طائف، ریاض اور دوسرے علاقوں کے حوالے سے حملوں اور خطرات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے یہ یقیناً ایک حساس وقت ہے اور ایسے وقت میں دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے دل بھی مملکت کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

یہ خبریں دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں کے سامنے تقریباً چھتیس سال پرانا منظر آ جاتا ہے۔ 1990ء کا زمانہ تھا۔ عراق نے کویت پر حملہ کر دیا تھا۔ خلیج کا امن خطرے میں پڑ گیا تھا اور سعودی عرب بھی اس بحران کے براہِ راست اثرات کی زد میں آ گیا تھا۔ عراق نے سعودی سرزمین کی طرف میزائل داغے۔ دھرمام میں اسکاڈ میزائل کا واقعہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ اس حملے میں 28 امریکی فوجی ہلاک اور 97 زخمی ہوئے۔

اس زمانے میں میں پاکستان انجینیئرز کمیونٹی کا ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھا۔ میرے ساتھ ہمارے سیکرٹری جنرل احسان الحق صاحب تھے۔ حفیظ اللہ نیازی نائب صدر تھے اور ڈاکٹر معنی ہمارے صدر تھے۔ہمارے دل میں ایک ہی خیال تھا کہ ہم پاکستان سے دور سہی، مگر جس ملک نے ہمیں روزگار، عزت اور امن دیا ہے، اگر آج اس ملک کو ہماری ضرورت ہے تو ہم خاموش تماشائی بن کر کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟

ہم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان انجینیئرز کمیونٹی کی طرف سے سعودی عرب کو اپنی خدمات پیش کی جائیں۔ ہم بلد میں واقع مکتبِ برید، یعنی پوسٹ آفس گئے۔ وہاں سے ہم نے خادمِ حرمین شریفین، اس وقت کے فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود کے نام ٹیلی گرام روانہ کیا۔

ہم نے لکھا کہ ہم سعودی عرب میں مقیم تقریباً چھ سو پاکستانی انجینیئرز کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس نازک وقت میں اپنی خدمات سعودی حکومت کو بلا معاوضہ پیش کرتے ہیں۔ ہمیں کسی معاوضے، کسی مراعات یا کسی مالی فائدے کی ضرورت نہیں۔ اگر وطنِ ثانی کو ہماری فنی مہارت، انجینیئرنگ کے تجربے یا کسی بھی عملی خدمت کی ضرورت ہے تو ہم حاضر ہیں۔

یہ کوئی رسمی بیان نہیں تھا۔ یہ ہمارے دل کی آواز تھی۔

کچھ عرصے بعد ہمیں شاہ فہد کی طرف سے ہماری پیشکش پر شکریے کا جواب ملا۔ وہ مختصر سا جواب ہمارے لیے بہت بڑی حوصلہ افزائی تھا۔ ہمیں لگا کہ ہم نے سعودی عرب کے لیے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا، مگر کم از کم اپنے دل کا قرض ادا کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔

ہم نے اسی جذبے کے تحت المسلمین اخبار میں بھی تقریباً ساڑھے چار ہزار ریال کا اشتہار دیا۔ اس زمانے میں ذرائع ابلاغ آج جیسے بے شمار نہیں تھے۔ دو ہی بڑے ٹی وی چینلز کا زمانہ تھا، چینل ون اور انگلش چینل۔ سوشل میڈیا کا تو تصور بھی نہیں تھا۔ لیکن پاکستانی کمیونٹی کے دل میں اپنے میزبان ملک کے لیے محبت کسی سوشل میڈیا پوسٹ کی محتاج نہیں تھی۔

ہم اس ملک کے لیے کھڑے ہونا چاہتے تھے جس نے ہمیں کھڑے ہونے کا موقع دیا تھا۔

سعودی عرب ہمارے لیے صرف روزگار کی جگہ نہیں رہا۔ یہاں ہمیں رزق ملا، عزت ملی، دوست ملے، زندگی کے بہترین سال گزارنے کا موقع ملا اور سب سے بڑھ کر حرمین شریفین کی قربت نصیب ہوئی۔ ہماری نسل کے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب ایک ایسی سرزمین ہے جس کے ساتھ تعلق کو صرف معاشی اصطلاحات میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

میں آج یہ سب کیوں یاد کر رہا ہوں؟

اس لیے کہ آج جب سعودی عرب دوبارہ حملوں کی زد میں ہے تو میرے دل میں وہی پرانا جذبہ بیدار ہو گیا ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ 1990ء میں میں جوان تھا، آج اکہتر برس کا ہوں۔

تب میں پاکستان انجینیئرز کمیونٹی کا فعال عہدیدار تھا، آج ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہوں۔ تب میرے قدم تیز تھے، آج عمر نے رفتار کم کر دی ہے۔ تب ہم چھ سو انجینیئرز کی نمائندگی کرتے ہوئے سعودی حکومت کو اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے پوسٹ آفس جا رہے تھے، آج میں اپنے گھر میں بیٹھا یہ کالم لکھ رہا ہوں۔

لیکن دل کی کیفیت؟

وہ بالکل وہی ہے۔

آج بھی اگر سعودی عرب کو پاکستانی انجینیئرز کی ضرورت ہو، پاکستانی ڈاکٹروں کی ضرورت ہو، پاکستانی ٹیکنیشنز کی ضرورت ہو، پاکستانی ماہرین کی ضرورت ہو، تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم کو اپنی استطاعت کے مطابق آگے آنا چاہیے۔ یہ صرف حکومتوں کا معاملہ نہیں، یہ عوامی سطح پر محبت اور وفاداری کا اظہار بھی ہے۔

میں جدہ کے اپنے پاکستانی بھائیوں سے خصوصی طور پر کہوں گا کہ آپ وہاں ایک متحرک اور منظم پاکستانی کمیونٹی ہیں۔ آپ کے پروگرام ہوتے ہیں، آپ کے انجمنیں اور پلیٹ فارم ہیں، آپ کے پاس آواز بھی ہے اور رسائی بھی۔ آپ سعودی عرب کے ساتھ پاکستانی عوام کی یکجہتی کا ایک باوقار پیغام جاری کریں۔ اخبارات میں، اپنی کمیونٹی کے پلیٹ فارم سے، سفارتی ذرائع کے ذریعے، ہر مہذب اور قانونی طریقے سے یہ پیغام پہنچائیں کہ پاکستانی عوام سعودی عرب کی سلامتی اور امن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ہم سعودی عرب سے کوئی مراعات نہیں مانگ رہے۔

ہم سر پر کفن باندھے حرمین کی حفاظت کے لیے حاضر ہیں قدم حرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ولی عہد محمد بن سلمان

ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس ملک نے ہمارے لاکھوں لوگوں کو عزت کے ساتھ روزگار دیا، مشکل وقت میں ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مجھے ایک اور واقعہ بھی یاد آتا ہے۔ جب میں سعودی عرب میں تھا تو ایک بھارتی فلم کے ذریعے سعودی معاشرے اور سعودی شہریوں کو ایک خاص انداز میں پیش کیا گیا۔ میں نے اس وقت حلقہ یاران وطن کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی آواز بلند کی، اخبارات میں اشتہار دیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مقصد کسی قوم سے نفرت نہیں تھا، مقصد یہ تھا کہ جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں، اس کے بارے میں ناانصافی پر خاموش نہ رہا جائے۔

یہی اصول آج بھی ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ ہماری وابستگی کسی وقتی سیاسی مصلحت کی پیداوار نہیں۔ یہ تعلق دہائیوں پر محیط ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے درمیان مذہبی، انسانی، معاشی اور تاریخی روابط ہیں۔ آج پاکستان کے وزیر اعظم کی طرف سے بھی سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اور مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔

میں آج سعودی عرب کے فرمانروا خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مملکت کو امن و امان عطا فرمائے، اس کی سرحدوں، شہروں، مقدس مقامات، شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کی حفاظت فرمائے۔ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے تناظر میں عرب لیگ نے بھی مملکت کی سلامتی کے لیے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اور میں اپنے پاکستانی سفارت خانے اور سعودی عرب میں مقیم پاکستانی بھائیوں سے بھی کہتا ہوں کہ ایسے مواقع پر قوموں کے تعلقات صرف سفارتی بیانات سے نہیں، عوامی جذبات سے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔

میں آج اکہتر سال کا بوڑھا اور ریٹائرڈ آدمی ہوں۔

میرے پاس نہ وہ جوانی ہے، نہ وہ عہدہ، نہ وہ تنظیمی طاقت اور نہ شاید وہ وسائل جو 1990ء میں تھے۔

لیکن میرے پاس آج بھی ایک چیز ہے:

وہی جذبہ۔

وہی جذبہ جس نے مجھے 1990ء میں احسان الحق صاحب کے ساتھ پوسٹ آفس پہنچایا تھا۔ وہی جذبہ جس نے ہمیں شاہ فہد کو ٹیلی گرام بھیجنے پر مجبور کیا تھا۔ وہی جذبہ جس نے ہمیں ساڑھے چار ہزار ریال خرچ کرکے اخبار میں اشتہار دینے پر آمادہ کیا تھا۔

اور وہی جذبہ آج مجھے یہ کہنے پر مجبور کر رہا ہے کہ سعودی عرب اکیلا نہیں۔

پاکستانی عوام اس کے ساتھ ہیں۔

میں تو برسوں پہلے بھی یہی سمجھتا تھا اور آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ:

دنیا کے بت کدے میں پہلا یہ گھرِ خدا کا

ہم اس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا۔

اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کی حفاظت فرمائے، سعودی عرب کو امن عطا فرمائے، اس کے عوام اور مقیم غیر ملکیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور مسلم دنیا کو ایسے تمام بحرانوں سے نکالے جن میں بے گناہ انسانوں کا خون بہتا ہے۔

آج میری عمر 71 برس ہے، جسم ریٹائر ہو چکا ہے، مگر دل نے ابھی ریٹائرمنٹ نہیں لی۔

1990ء کا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔