اسلام آباد (اردو ٹائمز) بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے سائے میں 27ویں ترمیم کی گونج پارلیمانی سفارت کاری میں پاکستانی قائدانہ حیثیت کا ثبوت ہے چیئرمین سینیٹ پاکستان اور بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے بانی چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کا کہناہے کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس برائے امن، سلامتی اور ترقی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک عظیم اور تاریخی موقع ہے جو 11 اور 12 نومبر 2025ء کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے۔ سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ پاکستان نے کہا کہ یہ غیر معمولی کانفرنس دنیا بھر کے دس پارلیمانوں کے اسپیکرز، پندرہ ڈپٹی اسپیکرز، سینتیس اراکین پارلیمنٹ اور مختلف بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے نمائندگان سمیت کل 174 مندوبین کو پاکستان میں اکٹھا کرے گی۔ چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ دو سابق صدور بھی اپنے ممالک کی نمائندگی کے لیے شرکت کریں گے، جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار اور پارلیمانی سفارت کاری میں قائدانہ حیثیت کا ثبوت ہے۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ معزز مہمانوں کی میزبانی صرف سینیٹ کی کامیابی نہیں بلکہ ایک قومی اعزاز ہے جو پاکستان کے وقار کو عالمی سطح پر بلند کرتا ہے، یہ کانفرنس پاکستان کے لیے اپنی پارلیمانی سفارت کاری، امن، سلامتی اور ترقی کے وژن کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا نادر موقع فراہم کرتی ہے۔
چیئرمین سینیٹ کا کہناتھا کہ جب ہم جنوبی اور شمالی دنیا سے آنے والے اپنے مہمانوں کا خیرمقدم کریں گے تو ہم صرف ایک کانفرنس کے شرکاء نہیں ہوں گے، بلکہ اپنی قوم کے امن، رواداری اور تعاون کے جذبے کے سفیر ہوں گے۔ چیئرمین سینیٹ نے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور ان کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے سینیٹر اسحاق ڈار کی کانفرنس کے کرٹن ریزر سیشن کی صدارت اور ان کی جاری معاونت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کا باہمی تعاون قومی اتحاد اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ اس تاریخی تقریب کی تیاریوں میں وزارت داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارت اطلاعات و نشریات اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا کردار قابلِ تحسین ہے، جنہوں نے اپنی شب و روز کی محنت سے اس قومی مقصد کو عملی شکل دینے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ یہ سب محکمے جس جذبے سے کام کر رہے ہیں وہ قومی یکجہتی اور تعاون کی روشن علامت ہے،انہوں نے سینیٹرز پر زور دیا کہ وہ اس کانفرنس کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں اور بھرپور انداز میں میزبانی کا کردار ادا کریں تاکہ پاکستان کی مثبت شبیہ عالمی برادری کے سامنے اجاگر ہو۔ یہ منصوبہ صرف سینیٹ سیکرٹریٹ کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ ہر رکن پارلیمنٹ اس کا حصہ بنے تاکہ ہم اسے ایک کامیاب اور تاریخی ایونٹ بنا سکیں۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے امید ظاہر کی کہ یہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس پاکستان کے لیے امید، امن اور تعاون کا پیغام بنے گی اور ملک کے پارلیمانی کردار کو عالمی سطح پر مزید مضبوط کرے گی۔ہم سب کو مل کر اسے ایسا یادگار ایونٹ بنانا ہے جو پاکستان کو پارلیمانی سفارت کاری کا قائد ثابت کرے۔ امن، سلامتی اور ترقی کی جدوجہد صرف انفرادی ہدف نہیں بلکہ ریاستوں کا مشترکہ مشن ہے “امن، سلامتی اور ترقی” کے لیےاسلام آباد بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس ایک تاریخی سنگ میل ہےاس خیال کو تقویت دیتے ہوئے کہ سلامتی، ترقی اور سماجی چیلنجوں کے لیے تعاون پر مبنی حل بین پارلیمانی مکالمے کے ذریعے تیار کیے جانے چاہئیں، کانفرنس کا مقصد عالمی پارلیمانی قیادت کو امن، سلامتی اور ترقی کے سہ فریقی عزم کی تصدیق کے لیے اعلیٰ سطحی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، اسلام آباد میں آئی ایس سی کا آئندہ اجلاس قانون سازی کی کارروائی اور تنازعات کے حل کے فریم ورک کے ذریعے فوری عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جاری اور مستقبل کے تعاون کے لیے گہرا ہم آہنگی، شراکت داری کی تعمیر، اور زیر زمین کام کی تلاش کرتا ہے۔
سیکیورٹی چیلنجز اور پائیدار ترقی کے ماڈلز کے پس منظر میں 10سے 12 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں ہونے والی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس امن اور خوشحالی کے سیول اعلامیہ کے اصولوں کا ترجمہ کرنے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے۔
پارلیمانیں جمہوری طرز حکمرانی کی بنیاد کے طور پر کام کرتی ہیں، پالیسی کی تشکیل اور احتساب کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں سرحدوں سے ماورا اور وجودی خطرات سے نمٹنے کے لیے پالیسیوں کی تشکیل کے لیے منفرد حیثیت کے باوجود، قومی پارلیمانوں کے پاس اکثر بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی کے محدود مواقع ہوتے ہیں۔ بحرانوں کے لیے بکھرے ہوئے نقطہ نظر غیر نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں، جو قومی پارلیمانوں سے متحد قانون ساز قیادت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مسلح تصادم اور دہشت گردی سے لے کر غیر منصفانہ ترقی تک کے بہت سے عالمی چیلنجز کے لیے پارلیمنٹ کو معلومات کا تبادلہ، قانون سازی اور ایک دوسرے سے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس ,آئی ایس سی نقطہ نظر کا اشتراک کرنے، اتفاق رائے پیدا کرنے اور حل کو متحرک کرنے کے لیے مقررین کے لیے ایک وقف شدہ فورم بنا کر اس اہم خلا کو پر کرتا ہے بنیادی مقصد باہمی انحصار، باہمی خوشحالی اور عالمی سطح پر مشترکہ اقدار کو آگے بڑھانا ہے۔ دنیا اس وقت بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات، علاقائی تناؤ اور بڑھتے ہوئے ترقیاتی تفاوت کے شکنجے میں ہے۔ لہٰذا، یہ پارلیمانوں اور ان کے قائدین پر تیزی سے فرض بنتا جا رہا ہے کہ وہ تنازعات کی روک تھام اور حل، اچھی حکمرانی اور جامع ترقی کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ یہ اس ناقابل تردید حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ناگزیر ہے کہ امن اور ترقی ہم آہنگی اور ایک دوسرے پر منحصر ہے۔ اس سلسلے میں، آئی ایس سی، اس کے بانی چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی، پارلیمنٹ کے فعال سفارتی تعلقات کے ذریعے فعال بین الاقوامی تعاون کے بارے میں تصور کرنے، دوبارہ تشکیل دینے اور دوبارہ ترتیب دینے کے لیے مضبوط عزم کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ نگرانی، نمائندگی، اور اخلاقی حکمرانی میں پارلیمانی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنے کے طریقوں اور ذرائع پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کرے گا تاکہ عدم مساوات کے خلا اور ابھرتے ہوئے سلامتی کے خطرات کو ختم کیا جاسکے۔ جوابات مقررین ایسے قوانین اور پالیسیوں کا مسودہ تیار کرنے کے لیے بہترین طریقوں کا تبادلہ کر سکتے ہیں جو سلامتی کے خطرات کو دور کرتے ہیں اور عدم مساوات کو کم کرتے ہیں۔
درج ذیل سوالات آج ہمارے معاشروں کے سامنے سب سے زیادہ مضبوط امن، سلامتی اور ترقی کے چیلنجز کیا ہیں؟ سیکیورٹی کے خطرات اور ترقیاتی چیلنجوں کو کم کرنے کے لیے پارلیمنٹ قانون سازی کے آلات اور بین الاقوامی تعاون سے کیسے فائدہ اٹھا سکتی ہے؟ جغرافیائی سیاسی اختلافات کو دور کرنے اور انسانی حقوق کو برقرار رکھنے میں پارلیمانی سفارت کاری کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟ کانفرنس کے دوران غور و فکر کی رہنمائی کر سکتے ہیں
یہ عکاسی ٹوٹی پھوٹی دنیا میں پارلیمنٹ کے قانون سازی، نگرانی اور نمائندہ کردار کو بڑھانے کے لیے حکمت عملی بنانے میں مدد کرے گی۔ شرکاء آئی ایس سی کے رول اور سیٹ فارورڈ ایجنڈے کو مستحکم کرنے والے ٹھوس نتائج کی طرف کام کریں گے۔ یہ کانفرنس اسلام آباد اعلامیہ کو اپنائے گی، جو کہ سیول کے بنیادی اعلامیے کی بنیاد پر تعمیر کرے گی، امن کی تعمیر، اچھی حکمرانی اور قانون سازی کے ذریعے جامع ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ وعدوں اور سفارشات کو بیان کرے گی۔ الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس اسلام آباد 2025،مستقبل میں تعاون، اقوام متحدہ اور ترقیاتی ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ، اور مشترکہ قانون سازی کے اقدامات کے لیے رہنما خطوط کا پروگرام اور روڈ میپ اس کے واضح بیان کے ساتھ ہو گی سینیٹ وقومی اسمبلی کی قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ بل پر مزید غور کیا گیا۔ گزشتہ روز27ویں ترمیم ایکٹ 2025 کا بل وفاقی کابینہ سے منظوری کے چند گھنٹے بعد سینیٹ میں پیش کیا گیا، جس پر اپوزیشن نے مجوزہ تبدیلیوں کی رفتار اور دائرہ کار پر شور شرابہ کیا اس بل میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام، ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے عمل میں تبدیلی، صوبائی کابینہ کے حجم میں اضافہ، اور فوجی قیادت کے ڈھانچے میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ چوہدری محمود بشیر ورک جلاس کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی کے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے جو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے ذریعے انجام پائے گا اور ممکنہ طور پر اس میں منتقل ہونے والے ججوں کی رضامندی درکار نہیں ہوگی۔ گزشتہ روز سینیٹ اجلاس کے دوران ہی کمیٹیوں نے بل پر غور کے لیے ایک ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بھی منعقد کیا، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان، جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ایم این اے عالیہ کامران اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ قائمہ کمیٹیوں نے مجوزہ بل کا تقریباً 80 فیصد حصہ منظور کر لیا، جس میں عدالتی اصلاحات پیکیج کی زیادہ تر شقیں شامل تھیں۔ تاہم، آئین کے آرٹیکل 243 (مسلح افواج کی کمان) کے تحت فیلڈ مارشل کے عہدے کی حیثیت پر غور و خوض آج کے اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اجلاس سے قبل، سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بل کی تمام شقوں پر آج تفصیلی غور کیا جائے گا اور ہمیں پوری امید ہے کہ ہم آج ہی یہ عمل مکمل کر لیں گے۔ جب ان سے مختلف حکومتی اتحادی جماعتوں کی تجاویز اور اس بارے میں پوچھا گیا کہ آیا ’صدر اور وزیرِ اعظم کو استثنیٰ دینے کے معاملے پر دو جماعتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں‘ تو پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے کہا کہ تمام جماعتوں کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کی تجاویز پر آج کے اجلاس میں غور کیا جائے گا جب کہ فیصلے اس بنیاد پر کیے جائیں گے کہ اکثریت کی رائے کیا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے امید ظاہر کی کہ بل کا مسودہ آج شام 5 بجے تک حتمی شکل دے دیا جائے گا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بریسٹر عقیل ملک سمیت دیگر اراکین شریک ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر خلیل طاہر سندھو، عوامی نیشنل پارٹی کے ہدایت اللہ خان، اور پیپلز پارٹی کے ارکانِ قومی اسمبلی قاسم گیلانی اور سید ابرار علی شاہ بھی مشترکہ اجلاس کا حصہ تھے، جب کہ مسلم لیگ (ن) کی ایم این اے شمیلہ رانا نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ قاسم گیلانی نے ایکس پر لکھا ’پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف کا دوسرا دن‘۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم بنیادی طور پر 5 اہم نکات پر مرکوز ہے:
وفاقی آئینی عدالت کا قیام
ججوں کی منتقلی (آرٹیکل 200)
خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخاب سے متعلق بے ضابطگی کا خاتمہ
چھوٹے صوبوں کے مطالبے پر کابینہ کے حجم میں 2 فیصد اضافہ
آرٹیکل 243 میں دفاعی خدمات اور صدر کو استثنیٰ سے متعلق ترامیم