اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کا عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان (اسلام آباد) میں جمعے یا ویک اینڈ کے دوران ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے معاہدہ طے پانا ہے۔ امریکا کے صدر نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق ایک اچھی خبر ہے اور تہران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہوسکتا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کا امکان ہے۔ ایران کے ساتھ امن مذاکرات کا دوسرا دور ممکنہ طور پر جمعہ تک شروع ہو سکتا ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں موجود پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں پیش رفت ہو رہی ہے اور آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ جس کی مثال امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے پر اس میں توسیع کا اعلان ہے۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے مطالبے پر ایران کی جانب سے متفقہ تجویز آنے تک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسی ہفتے اسلام آباد میں متوقع تھا تاہم ایران نے شرط عائد کی کہ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے ہوتے مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ پاکستان کے ثالثوں نے منگل کو ایک طرف ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی اور دوسری طرف ٹرمپ کو جنگ بندی میں توسیع پر بھی قائل کیا۔ ٹرمپ نے مذاکرات میں کردار پر پاکستانی حکام کی تعریف کی ہے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات سے ایک حتمی معاہدہ نکل سکتا ہے۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کو نیوکلیئر بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر سنگین نتائج ہوں گے۔ آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول ہے اور ایران کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ مذاکرات خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے تناظر میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری خارجہ کی سفیر آمنہ بلوچ اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے شرکت کی جس میں علاقائی ترقی اور آئندہ بین الاقوامی مصروفیات کا جائزہ لیا گیا,انہوں نے خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیحات پر مقصد کی وضاحت، اسٹریٹجک دور اندیشی، مقاصد اور نتائج پر مضبوط توجہ کے ساتھ فعال مشغولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ دریں اثنا، سینیٹر اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے بات کی دونوں رہنماؤں نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے گزشتہ ہفتے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے دوران پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی اور ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی سائیڈ لائنز پر R-4 کے تیسرے اجلاس کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔دوسری طرف صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان ,سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار ,اصغر علی مبارک نے کہاہے کہ پاکستان کی بہترین ملٹری ڈپلومیسی سےمعاہدے کی امید برقرار ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر , پائیدار بین الاقوامی امن اور استحکام کیلئے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔سفارتی سطح پر پاکستان کا نام بلند ہوا ہے,وزیراعظم پاکستان شہباز شریف,نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا لائق تحسین کردار عالمی سطح پر تسلیم کیا گیاہے، پوڈکوسٹ میں بات کرتے ہوئےاصغر علی مبارک نے کہا کہ ,چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف دی آرمی سٹاف, فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ کی مستقل توجہ بات چیت اور بہترین ڈپلومیسی رہی ہےکہ کس طرح کشیدگی کم ہوسکتی ہے صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان ,سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک نے کہا کہ پاکستان کی بہترین ملٹری ڈپلومیسی سےمعاہدے کی امید برقرار ہے، یاد رکھیں کہ پاکستان کی حالیہ “برج ڈپلومیسی” نے ایران-امریکہ کشیدگی میں نہایت جامع , کلیدی کرداراداکیا ہے, پاکستان کی برج ڈپلومیسی کا سب سے بڑا چیلنج ایران کی اس شرط کو منوانا ہے کہ مذاکرات سے پہلے امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ناکہ بندی تب ہی ختم ہوگی جب ایران مذاکرات میں “ٹھوس پیش رفت” دکھائے گا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی مشترکہ کوششوں نے ملک کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھرا ہے سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا اگرچہ ایران نے ابتدائی طور پر مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ، لیکن پاکستان کی مسلسل ثالثی , سفارتی مشقوں نے معاہدے کی امید کو برقرار رکھا ہوا ہے, اس صورتحال کے اہم نکات کو اگر مختصرًا دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی جیت محسوس ہوتی ہے,پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ جنگ بندی میں توسیع: 22 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں پاکستان کی درخواست پر توسیع، خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی طرف اہم قدم ہے۔
صدر ٹرمپ کا بیان: امریکی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجاویز کو اہمیت دینا اور ایرانی ناکہ بندی کے خاتمے کی شرط پر مذاکراتی گنجائش پیدا کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے,ایران کی معاشی ناکہ بندی اور امریکی “بہترین معاہدے” (Great Deal) کی خواہش کے درمیان پاکستان ایک ایسے پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول حل نکال سکتا ہے۔ دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی تھی,تعطل کی بڑی وجہ ایران کی وہ پیشگی شرط تھی، جس میں اس نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی میں توسیع ہوئی ہے ، امید ہے دونوں فریق تنازعات کے مستقل خاتمے کے لیے جامع امن ڈیل میں کامیاب ہو جائیں گےپاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے, صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ایک “بہترین معاہدے” کی توقع کر رہے ہیں، جو اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ جامع ہوگا، امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہم سے ایرانی قیادت کی متفقہ تجاویز آنے تک حملے روکنے کا کہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکا بندی جاری رکھے اور ہر لحاظ سے تیار رہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سےجنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان تنازعات کے مذاکراتی حل کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ مزید کہا کہ امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کئی ہفتوں پر محیط جنگ کے خاتمے کے لیے ایک “بہترین معاہدہ” ہونے جا رہا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اور جے ڈی وینس کا دورہ
دورہ فی الحال ملتوی: تازہ ترین اطلاعات (22 اپریل 2026) کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا طے شدہ دورہ فی الحال ملتوی (On Hold) کر دیا گیا ہے, وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے ایک “متفقہ تجویز” کا منتظر ہے، جس کے بعد ہی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔
جنگ بندی میں توسیع: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کر دی ہے جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
مذاکرات کا مقام: مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہی متوقع ہے، پاکستان مسلسل تہران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، تاہم پاکستانی سفارت کار اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
پاکستان کے اس کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ دہائیوں بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بلند ترین سطح کا براہ راست رابطہ ہے۔ اگر ایران آمادہ ہوتا ہے تو جے ڈی وینس کے ساتھ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد مذاکرات کے لیے دونوں فریقین نے انتہائی سخت لیکن واضح شرائط سامنے رکھی ہیں۔ پاکستان ان دونوں متضاد موقف کے درمیان “درمیانی راستہ” نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کا 10 نکاتی ایجنڈا (مطالبات)
ایران نے مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے جو نکات پیش کیے ہیں، ان میں سے اہم درج ذیل ہیں:
ناکہ بندی کا خاتمہ: ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ۔
پابندیوں کی منسوخی: تمام معاشی اور بینکنگ پابندیوں کا خاتمہ تاکہ ایران تیل فروخت کر سکے۔
سلامتی کی ضمانت: اس بات کی تحریری یقین دہانی کہ امریکہ دوبارہ ایران کی قیادت یا فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا۔
منجمد اثاثوں کی واپسی: بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی فوری واگزاری۔
جوہری حقوق: پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا۔
علاقائی سالمیت: امریکی افواج کا خطے سے مرحلہ وار انخلا۔
نقصانات کا ازالہ: حالیہ کشیدگی میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا معاوضہ۔
سفارتی وقار: ایران کے خلاف “رجیم چینج” کی پالیسی کا باضابطہ خاتمہ۔
پائیدار معاہدہ: کسی بھی معاہدے کو امریکی کانگریس سے منظور کرایا جائے تاکہ اگلی حکومت اسے ختم نہ کر سکے۔
دفاعی خودمختاری: اپنے میزائل پروگرام کو دفاعی حد تک برقرار رکھنے کی آزادی۔
امریکی شرائط (صدر ٹرمپ کا موقف)
صدر ٹرمپ ایک ایسے “بہترین معاہدے” (Great Deal) کے خواہاں ہیں جو ان کے بقول اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ سخت ہو:
جوہری پروگرام کی مکمل بندش: ایران مستقل طور پر یورینیم افزودگی بند کرے اور اپنے سینٹری فیوجز کو ختم کرے۔
میزائل پروگرام پر پابندی: بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور تجربات پر مکمل پابندی۔
علاقائی مداخلت کا خاتمہ: یمن، لبنان، شام اور عراق میں ایرانی اثر و رسوخ اور پراکسیز کی حمایت کا خاتمہ۔
دیرپا انسپکشن: IAEA کے انسپکٹرز کو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ (فوجی تنصیبات سمیت) تلاشی کی اجازت۔
نئی ڈیل کی مدت: یہ معاہدہ “غروب آفتاب” (Sunset clauses) کی شرائط کے بغیر مستقل ہونا چاہیے۔
قیدیوں کی رہائی: ایران میں قید تمام امریکی اور دوہری شہریت والے شہریوں کی فوری واپسی۔
پھر واشنگٹن اور تہران دونوں کی طرف سے ایک ممکنہ دوسرے راؤنڈ کے حوالے سے مثبت اشارے ملتے ہی پاکستان کی اعلیٰ قیادت خود حرکت میں آئی۔پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ ایرانی حکام نے اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد پاکستانی فوجی اور سویلین قیادت لگ بھگ ایک ہی وقت میں ایران اور مشرق وسطیٰ کے دوروں پر روانہ ہوئی۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا جہاز گزشتہ ہفتے بدھ کے روز تہران میں اترا۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اسی روز سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دوروں پر روانہ ہو گئے۔ ادھر امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ بتاتے سنائی دیے کہ پاکستان کی مدد سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونے کے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان ہی کا انتخاب کرے گا۔ پاکستانی قیادت کا ایران اور مشرق وسطیٰ میں قیام جاری تھا کہ اس کے دوران خطے میں جنگ سے جڑی اہم پیش رفت سامنے آئی۔‘اسرائیل اور لبنان براہ راست مذاکرات کے دوران دس روزہ جنگ بندی پر راضی ہو گئے۔ ’لبنان میں جنگ بندی‘ ایران اور امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے شروع ہونے سے پہلے ایران کی طرف سے دو دیرینہ مطالبات میں سے ایک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ پھر جمعے کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر پیغام میں اعلان کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز ہر قسم کے جہازوں کے لیے کھول دی ہے۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان آرمی چیف اس وقت ایران ہی میں موجود تھے۔ اس وقت تک ان کی ایرانی وزیر خارجہ عراقچی اور مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں ہو چکی تھیں اور وہ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کر چکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ’ایران کا شکریہ‘ ادا کیا۔ انھوں نے ایک الگ پیغام میں پاکستان، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ’وہ بہت بہترین کام کر رہے ہیں۔‘ان دونوں معاملات پر پات چیت کا آغاز تو پہلے ہو چکا تھا تاہم ان کو حاصل کرنے کی طرف تحریک پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں موجودگی اور وہاں ان کی سرگرمی کی وجہ سے ملی۔آبنائے ہرمز کے کھولنے کے اعلان نے بنیادی طور پر مزاکرات کے دوسرے دور کے لیے راہ ہموار کی۔ یہ پہلے سے پائپ لائن میں تھے لیکن پاکستانی آرمی چیف کے دورہ ایران نے ان معاملات کو مزید تیز کیا۔