اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکہ اور ایران میں جنگ نہ کسی مسئلہ کا حل ہے اور نہ ہی جنگی ماحول، اس خطے کو اس ماحول سے نکلنا اور نکالنا ہوگا,پاکستان کے لئےموقع ہےکہ امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے لیے اپنا اہم کردار ادا کرے ہماری عسکری بالادستی ثابت ہوئی اور سفارتی کامیابیوں کے جھنڈے بھی عالمی افق پر نظر آئے ہیں پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان کو امید ہے کہ ’امن و استحکام قائم رہے گا اور ہم اس صورتحال کے پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بطور پڑوسی، دوست اور برادر ملک، پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ایران دیکھنا چاہتا ہےترجمان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مالیاتی اقدامات عوامی مشکلات کم کریں گے۔انھوں نے ایران کو ایک ’مضبوط قوم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ ایران موجودہ چیلنجز پر قابو پا لے گا۔ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران کے اصل مسائل انھیں خود حل کرنے چاہییں ایران میں معاشی بے چینی کو ’غلط انداز میں بغاوت کے طور پر‘ پیش کیا گیا ہےانھوں نے کہا کہ ’ہم بالکل چاہتے ہیں کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران یہ معاملہ آپس میں حل کر لیں ترک وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو قتل کرتی ہے تو وہ مظاہرین کی حمایت میں فوجی کارروائی کریں گےایرانی حکومت نے مظاہرین کو قتل کرنا بند کر دیا ہے اور مظاہرین کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں اطلاعات ہیں کہ ترکی نے مظاہرین کو استنبول میں ایران مخالف مظاہرے کرنے کی اجازت نہیں دی ہےامریکہ کی جانب سے جنگی مشقوں اور بحری بیڑے کی مشرقِ وسطیٰ میں آمد کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کر دیا ہےامریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیا ہے ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ اگر ایران رابطہ کرے تو واشنگٹن بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات اسی صورت ممکن ہوں گے جب تہران کو شرائط سے آگاہ کیا جائے گا۔ امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ اگر ایران رابطہ کرے تو امریکہ “اوپن فار بزنس” ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدہ کر لے ورنہ اگلا حملہ “شدید” ہو گا۔امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ کرو یا پھر بدترین حملے کا سامنا کرو۔ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “ایک بہت بڑا طیارہ بردار بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے یہ بڑی طاقت، جوش اور مقصد کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے امید ہے کہ ایران جلد ہی مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے گاڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے یہ معاملہ نہایت اہم ہے، میں نے ایران سے پہلے بھی کہا تھا معاہدہ کر لو، ایران نے ایسا نہیں کیا اور پھر آپریشن مڈنائٹ ہیمر ہوا تھاامریکی صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کو معاہدہ نہ کرنے پر بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ شدید ہو گا۔۔ اس لیے ایسا دوبارہ نہ ہونے دیں۔امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے جو شرائط پیش کی ہیں، ان کا زیادہ تر مقصد اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے عالمی میڈیا کے مطابق امریکی شرائط میں شامل اہم نکات یہ ہیں:
ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں پر پابندی عائد ہوگی۔
ایران کو ملکی سطح پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران کسی بھی علاقائی طاقت کو امداد فراہم نہیں کرے گا۔
امریکی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر نیول بلاکیڈ لگانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ایران تیل کی برآمدات روک دی جائیں امریکا کی جانب سے جنگی مشقوں اور بحری بیڑے کی مشرقِ وسطیٰ میں آمد کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے مجوزہ فوجی مشقوں کے پیشِ نظر فضائی حدود سے متعلق نوٹم جاری کر دیا ہے نوٹم میں ہدایت دی گئی ہے کہ 27 سے 29 جنوری کے دوران آبنائے ہرمز کے اطراف 25 ہزار فٹ سے کم بلندی پر پرواز نہ کی جائے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فوجی مشقیں تقریباً 9 کلو میٹر کے دائرۂ کار میں ہوں گی۔خیال رہے کہ ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر بیرونی جارحیت کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا آپشن استعمال کر سکتا ہے۔یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے رکن بہنام سعیدی نے انٹرویو میں کہی۔آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی یومیہ فراہمی گزرتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور تجارتی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایران اس سے قبل بھی مغربی دباؤ کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہےموجودہ کشیدہ حالات کے باعث کئی تجارتی بحری جہاز ایرانی سمندری حدود سے گریز کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔ کہا گیا ہے کہ امریکی صدر بیانات زیادہ دیتے ہیں، تاہم جنگ کا فیصلہ بیانات سے نہیں بلکہ میدانِ عمل میں ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ کے حکام کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے نتائج کے بارے میں خبردار کرنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ میں چینی حکومت کی حوصلہ افزائی کروں گا، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، اس معاملے پر (ایرانی حکام) سے رابطہ کرے۔امریکی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کو ’ایک اور خوفناک غلطی‘ قرار دیا جس کا مطلب ایران کے لیے ’معاشی خودکشی‘ ہو گا۔انھوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس اس طرح کے اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے آپشنز موجود ہیں لیکن دوسرے ممالک کو بھی اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ان کی معیشتوں کو امریکہ سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔
مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا موجودہ کشیدگی میں ایک ’بڑی اضافہ‘ سمجھا جائے گا جس کے لیے واشنگٹن اور دیگر کی جانب سے ردعمل کی ضرورت ہوگی۔آبنائے ہرمز عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ ہے اور یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، 2023 کی پہلی ششماہی میں، اس آبنائے کے ذریعے عالمی منڈیوں میں تقریباً دو کروڑ بیرل تیل (عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد) برآمد کیا گیا۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دوران امریکہ کے ساتھ ’کھیل کھیلنے‘ کی کوشش کی جس کہ وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کارروائی کرنے پر مجبور ہوئے۔امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کو سول نیوکلیئر پروگرام کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن ’انھوں نے اسے مسترد کر دیا۔‘غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کا جوہری طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن عمان کے قریب پہنچ گیا۔ طیارہ بردار جہاز میں 6 ہزار اہلکاراور 70لڑاکا طیاروں کی گنجائش ہے، آخری بار یہ جہاز 2002 میں عراق جنگ کیلئے خلیج فارس آیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ ایک شاندار بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ امید ہے ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرے گا۔ کہا ایران ایٹمی ہتھیار بنانے سے ایک ماہ کی دوری پر تھا، گزشتہ سال جون میں ان کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا۔ایران نے بھی ممکنہ جنگ کی تیاریاں شروع کردی، ایران نے خبردار کیا کہ امریکی جہاز ہماری حدود میں آئے تو حملہ کر دیں گے۔سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ نے عراق کو بھی دھمکی لگادی کہا عراق میں نور المالکی کو وزیراعظم منتخب کیا گیا تو امریکا عراق کی امداد بند کردے گا۔ پھر وہ ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔سعودی عرب نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی طور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر رابطہ کیا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر کو یقین دہانی کرادی کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ٹیلیفونک گفتگو میں صدر مسعود پزشکیان نے محمد بن سلمان کو بتایا کہ ایران کے خلاف امریکا کی دھمکیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بنیں گی۔ تہران بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جنگ کو روکنے والے ہرعمل کا خیرمقدم کرتا ہے۔سعودی ولی عہد نے ایران کی خود مختاری کا احترام کرنے کا اعادہ کیا اور تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ محمد بن سلمان کا کہناتھا کہ ریاض نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا کشیدگی کو مسترد کردیا، علاقائی سلامتی کیلئے ایران کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی بظاہر اچھے انسان لگتے ہیں مگر انھوں نے اس بارے میں غیر یقینی ظاہر کی کہ آیا پہلوی کو ایران کے اندر اتنی حمایت حاصل ہو سکے گی کہ وہ اقتدار سنبھال سکیں۔اوول آفس میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت گِر سکتی ہے
گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پہلوی سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔65 سالہ پہلوی امریکہ میں مقیم ہیں اور وہ ایران سے باہر ہونے کے باوجود مظاہروں کے دوران نمایاں ہوئے ہیں۔ ان کے والد کو 1979 کے انقلاب کے دوران اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ ایران کی اپوزیشن مختلف گروہوں اور نظریاتی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے جن میں پہلوی کے حامی بھی شامل ہیں۔ مگر ایران میں ان کے حامی منظم انداز میں موجود نہیں
یاد رہے کہ ایران میں حالیہ احتجاج دسمبر کے آخر میں اس وقت شروع ہوئے جب مقامی کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔