LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کا انقلابی وژن

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ہنر مند پاکستان اور “وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام” کا باہمی اشتراک اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر تعلیمی سوچ کو مہارت پر مبنی سوچ سے بدل دیا جائے تو چیلنجز پر قابو پانا ممکن ہے۔ وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کا مقصد ہر نوجوان کو صحت مند، تعلیم یافتہ اور خود کفیل بنانا ہے یہ پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے ان پالیسیوں کا تسلسل اگر برقرار رہا تو یہی نوجوان طبقہ پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکال کر ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچا دے گ اکیسویں صدی کی عالمی معیشت روایتی تعلیمی ڈگریوں کے بجائے فنی مہارت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی (Skills) کے محور پر گھوم رہی ہے۔

اس تناظر میں “ہنر مند پاکستان” صرف ایک عارضی نعرہ نہیں بلکہ ملکی ترقی اور معاشی بقا کا ناگزیر راستہ بن چکا ہے۔ہنر مند پاکستان اور وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو تکنیکی، فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک بہترین روزگار حاصل کر سکیں اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر سکھایا جاتا ہے۔ ہنر مند نوجوانوں کے لیے ملکی سطح پر اور بین الاقوامی منڈی میں روزگار کے دروازے کھولے جا رہے ہیں چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی زیر سرپرستی، نوجوانوں کو ڈیجیٹل مواقع، کاروبار (انٹرپرینیورشپ) اور سیاسی و سماجی قیادت کی تربیت فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ نوجوانوں کی مالی معاونت اور بہتر رہنمائی کے لیے یوتھ بینک اور یوتھ چینل جیسے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے “ہنر مند پاکستان ہی مضبوط پاکستان ہے” کے ویژن کے تحت حکومت نوجوان نسل کو بااختیار بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستان اس وقت دنیا کے ان خوش قسمت ترین ممالک میں شامل ہے جس کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ “ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ” ملک کو ایک عظیم معاشی قوت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ ان نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر مند بنایا جائے۔

تاہم، اس منزل کے حصول میں جہاں کئی سنگین چیلنجز حائل ہیں، وہاں وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام (PMYP) کی حالیہ کامیابیاں اور تزویراتی منصوبہ بندی امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے

موجودہ چیلنجز: ہنر مندی کی راہ میں حائل رکاوٹیں;

پاکستان میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ (TVET) کے شعبے کو کئی بنیادی اور ساختی چیلنجز کا سامنا ہے جن کی وجہ سے ہم اپنی افرادی قوت کا درست استعمال نہیں کر پا رہے:ت

علیمی نصاب اور مارکیٹ کا تضاد : ہمارا روایتی تعلیمی اور فنی نصاب دہائیوں پرانا ہے۔ صنعتی مارکیٹ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بلاک چین اور جدید مینوفیکچرنگ کی طلب ہے، جبکہ ہمارے بیشتر ادارے اب بھی فرسودہ کورسز سکھا رہے ہیں۔

سرمایہ کاری اور جدید انفراسٹرکچر کی کمی: ملک میں موجود ٹیکنیکل کالجز کے پاس جدید ترین لیبارٹریز، کمپیوٹرز اور جدید مشینری کی شدید کمی ہے۔ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث اساتذہ بھی جدید ٹیکنالوجی سے ناواقف ہیں۔

معاشرتی رویے اور ڈگری کا خبط: ہمارے معاشرے میں فنی مہارت کو روایتی ڈگری کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ڈگری ہولڈرز تو بڑھ رہے ہیں لیکن مارکیٹ کے لیے ہنر مند افراد پیدا نہیں ہو رہے۔

عالمی برادری اور بہترین طریقوں سے سیکھنا دنیا کے کئی ممالک نے اپنی معاشی تقدیر صرف اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بدلی ہے، جن سے پاکستان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے:

جرمنی کا دوہرا نظام : وہاں طالب علم صرف کلاس روم میں نہیں پڑھتے، بلکہ ہفتے میں تین دن براہِ راست فیکٹریوں میں جا کر پریکٹیکل کام سیکھتے ہیں۔

چین کا سمارٹ انڈسٹریل ماڈل: چین نے کروڑوں غیر ہنر مند نوجوانوں کو مختصر دورانیے کے فنی کورسز کروا کر دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ فورس میں بدل دیا۔

پاکستان اپنے سی پیک (CPEC) منصوبوں کے تحت چین کے تعاون سے قائم ہونے والے جدید ٹیکنالوجی کے ٹریننگ سینٹرز سے یہ فائدہ اٹھا رہا ہے

وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام (PMYP): اب تک کی نمایاں کامیابیاں;نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر چیئرمین پی ایم وائی پی رانا مشہود احمد خان کی قیادت میں اس پروگرام نے قلیل عرصے میں غیر معمولی سنگِ میل عبور کیے ہیں:

بزنس اور ایگریکلچر لون سکیم: نوجوانوں میں کاروباری ثقافت کو فروغ دینے کے لیے 81 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جس سے اب تک 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد نوجوان براہِ راست مستفید ہو کر اپنے کاروبار شروع کر چکے ہیں

فنی سکالرشپس اور تعلیمی وظائف: نوجوانوں کو جدید ترین کورسز کروانے کے لیے 99,000 سے زائد ہنر مندی کے وظائف دیے گئے ہیں، جبکہ میرٹ پر پورا اترنے والے طلباء کے لیے 6 کروڑ 80 لاکھ روپے کے تعلیمی وظائف فراہم کیے گئے ہیں。ڈیجیٹل انقلاب اور لیپ ٹاپ سکیم: مینوفیکچرنگ اور فری لانسنگ کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں 28,000 سے زائد لیپ ٹاپس میرٹ پر تقسیم کیے گئے، جس کی بدولت پاکستانی فری لانسنگ افرادی قوت دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر آ چکی ہے。کھیل اور جدت طرازی : ‘ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ سپورٹس’ کے تحت 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع ملے، جبکہ ‘نیشنل انوویشن ایوارڈ’ کے ذریعے 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد نوجوان تخلیق کاروں اور نئے آئیڈیاز کی پشت پناہی کی گئی ہے

ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نے آنے والے برسوں کے لیے انقلابی منصوبوں کی منظوری دی ہے:

نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی اور بیرونِ ملک روزگار: پاکستان کی پہلی جامع قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت آنے والے سالوں میں 15 لاکھ ہنر مند نوجوانوں کو روزگار کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جائے گا، جس کے لیے قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور امریکہ جیسے ممالک سے معاہدے کیے جا رہے ہیں

ڈیجیٹل یوتھ ہب (Digital Youth Hub – DYH): پی ایم وائی پی اور یونیسف (UNICEF) کے تعاون سے ایک جدید، AI سے لیس ‘ون اسٹاپ شاپ’ پلیٹ فارم لانچ کیا گیا ہے، جو اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر لاکھوں نوجوانوں کو اسکالرشپ، کیریئر کونسلنگ، اور جاب ریسورسز تک براہِ راست رسائی فراہم کر رہا ہے

ہواوے (Huawei) اور چین کے ساتھ آئی ٹی پارٹنرشپ: چین کے حالیہ سٹریٹجک دورے اور پاک-چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہونے والے معاہدوں کے تحت 3 لاکھ نوجوانوں کو ہواوے کے تعاون سے جدید ترین آئی ٹی ٹریننگ فراہم کی جائے گی

ون ملین یوتھ سوشل موبلائزر اور نیشنل رضاکار کور: معاشرتی ترقی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 10 لاکھ نوجوانوں کو بطور سوشل موبلائزر متحرک کیا جائے گا، جبکہ 2 لاکھ نوجوانوں پر مشتمل نیشنل رضاکار کور قائم کی جا رہی ہے جو ہنگامی حالات اور آفات کے انتظام (Disaster Response) کے لیے تیار کی جائے گی

خواتین اور مدارس کے طلباء کی شمولیت: وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت روزگار کے شعبوں میں خواتین کی 35 فیصد لازمی شرکت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ تاریخ میں پہلی بار مدارس کے طلباء کو بھی مین اسٹریم ترقیاتی کورسز کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ یکساں مواقع میسر آسکیںہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کا آغاز 2013 میں نواز شریف کے دور میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کیا گیا، پروگرام کے تحت ملک بھر میں لیپ ٹاپ، وظائف اور آسان قرضوں کی فراہمی کا آغاز کیا گیا،

وزیراعظم شہباز شریف نوجوانوں کے بجٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے،نوجوانوں کی ترقی کے لیے وزیراعظم نے تمام بجٹ تجاویز منظور کر لیں، رواں سال فنی تعلیم کے لیے 19 ارب روپے کی خطیر رقم منظور کی گئی، ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا تکنیکی تعلیم کا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، فنی تربیت کے ساتھ سافٹ اسکلز اور اخلاقی تربیت بھی دی جا رہی ہے،بیرون ملک روزگار کے مواقع کے مطابق زبانوں کی تربیت کا آغاز کر دیا گیا، جاپانی، عربی، انگریزی، کوریائی، جرمن اور فرانسیسی زبانوں کے کورسز شروع کر دیے گئے۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کی ٹیمیں 17 ممالک میں نوجوانوں کے مواقع تلاش کر رہی ہیں، ڈیجیٹل یوتھ ہب نوجوانوں کے لیے مرکزی پلیٹ فارم بن چکا ہے، ڈیجیٹل یوتھ ہب کا افتتاح گزشتہ سال وزیراعظم شہباز شریف نے کیا تھا، ڈیجیٹل یوتھ ہب پر 8 لاکھ سے زائد نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں، روزانہ اوسطاً 4 ہزار 800 نوجوان ڈیجیٹل یوتھ ہب پر رجسٹریشن کر رہے ہیں، ڈیجیٹل یوتھ ہب پر 2 ہزار سے زائد کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں،پلیٹ فارم پر پاکستان اور بیرون ملک ہزاروں ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہیں۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ یونیسیف کے تعاون سے ڈیجیٹل یوتھ ہب نوجوانوں کی فلاح کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے،پنجاب ایجوکیشن انڈاؤمنٹ فنڈ کی طرز پر پاکستان ایجوکیشن انڈاؤمنٹ فنڈ کا آغاز کر دیا گیا،پاکستان ایجوکیشن انڈاؤمنٹ فنڈ سے ملک بھر کے مستحق طلبہ کو فائدہ پہنچے گا، رلنوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، ان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پاکستان میں یو این ریزیڈنٹ کوارڈینیٹر محمد یحیی نے کہا کہ پاکستان کے بعد صلاحیت نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں،حکومت ان جوانوں کو با اختیار بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ پیرنیلا ائرن سائیڈ نے کہا کہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں نوجوانوں کو عالمی سطح اور مارکیٹ کی ضروریات اور معیار کے مطابق ہنر مند بنانے کی ضرورت ہے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے جائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر محمد علی ملک نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کی جانب سے نوجوانوں کو باختیار بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے اگاہ کیا انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے اقدامات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کے لیے جید ڈیجیٹل یوتھ پر رجسٹریشن کروائیں

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download