LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) کشمیر کا زخم اور عالمی ضمیر: 7 سالہ محاصرے کی داستان

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) .بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر مسلط کیے گئے غیر قانونی محاصرے اور ظلم و ستم کی سیاہ رات کو اب طویل سات برس بیت چکے ہیں۔ 5 اگست 2019 کا وہ دن تاریخ کے ان تاریک ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے جب مودی سرکار نے عالمی قوانین، اخلاقیات اور خود اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وادی کی خصوصی شناخت پر شب خون مارا تھا۔
درحقیقت 5 اگست 2019 مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک، دردناک اور سیاہ ترین دن ہے جب کشمیر کی حقِ خودارادیت پر حملہ کرتے ہوئے اس کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے وادی کے اسی حسن اور وہاں کے جگر سوز حالات کی ترجمانی کرتے ہوئے کیا خوب فرمایا تھا:
(”توڑ اس دستِ جفا کیش کو یارب”
”جس نےروحِ آزادیِ کشمیر کو پامال کیا ہے”)
اپریل 2019 میں بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں آر ایس ایس نواز بی جے پی جماعت کامیاب ہوئی اور نریندر مودی نے دوبارہ اقتدار کی کرسی سنبھالی۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس حکومت نے سنگ دلی و عصبیت کا سب سے بڑا قدم اٹھایا اور بی جے پی حکومت کے قیام کو ابھی چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے پارلیمان سے اندھے قوانین پاس کرنے کا گھناؤنا عمل شروع کیا۔ اسی کڑی کے تحت 5 اگست 2019 کو بھارتی پارلیمان نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا، جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا اور اسے اپنا آئین اور اپنا جھنڈا فراہم کرتا تھا۔ اس آرٹیکل کے خاتمے سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اور اس کے آئین اور جھنڈے کو بھی ضبط کر لیا گیا۔اسی پر بس نہیں ہوا، بی جے پی حکومت نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے دفعہ 35 اے کو بھی ختم کر دیا، جس کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں و کشمیر کا شہری ہو سکتا تھا اگر وہ وہاں پیدا ہوا ہو۔
دفعہ 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارت کی دوسری ریاستوں سے غیر مقامی لوگوں کی کشمیر میں آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے کے طور پر گزشتہ برسوں میں جموں و کشمیر میں لاکھوں مقامی افراد اپنے روزگار سے محروم ہو گئے۔
ظلم پر ظلم سے جب بات نہیں بنی تو بھارت نے لاقانونیت کی ہر حد پار کر دی اور 6 اگست 2019 کو ‘ری آرگنائزیشن ایکٹ’ منظور کرایا گیا۔ اس ایکٹ نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کر کے دونوں خطوں کو بھارتی مرکزی حکومت کے براہِ راست زیرِ انتظام کر دیا اور وہاں ایک بظاہر بے اختیار قانون ساز اسمبلی قائم کی گئی۔ یوں ایک دن کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کی گئی اور اگلے روز تمام امور پر ان سے فیصلوں کا حق بھی چھین لیا گیا۔
ظلم اور لاقانونیت کی یہ داستان یہیں ختم نہیں ہوتی؛ ان کالے قوانین کے اطلاق کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر میں ایک ‘بلیک لسٹ’ متعارف کرائی، جس کے تحت صرف من پسند نیوز سائٹس کو چلنے کی اجازت دی گئی اور کشمیریوں کی دیگر تمام آزاد نیوز سائٹس تک رسائی ناممکن بنا دی گئی۔
وادی کی اس زبوں حالی پر فیض احمد فیض کی یہ سطریں بالکل صادق آتی ہیں(:”نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن ”
کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے”
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے”)
بھارتی ظلم و جبر کی یہ داستان محض کشمیر تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ خود ہندوستان کے اپنے شہری اور اقلیتیں بھی اس کے شکنجے میں بری طرح پس رہی ہیں اور آئے روز ان پر معمولاتِ زندگی تنگ کیے جا رہے ہیں۔
‘قومی رجسٹر برائے شہریت’ (NRC) نے تو گویا اقلیتوں کو اپنا ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ اس رجسٹر میں نام درج کرانے کے لیے شہریوں کے پاس ‘لیگیسی دستاویزات’ کا ہونا لازمی ہے، اور جو بھی یہ ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے، اس کی شہریت ضبط کر لی جاتی ہے۔ اس این آر سی نے 31 اگست 2019 کو جب اپنی پہلی لسٹ شائع کی، تو صرف آسام سے لگ بھگ 19 لاکھ بنگالیوں کو یکلخت غیر ملکی قرار دے کر ان کی شہریت چھین لی گئی۔ اس کے فوراً بعد، 11 دسمبر 2019 کو ‘سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ’ (CAA) پاس کرایا گیا جس کے تحت اس متعصبانہ قانون کا دائرہ کار پورے ہندوستان پر پھیلا کر لوگوں کو ملک بدر ہونے پر مجبور کیا گیا۔
اس سے قبل، نومبر 2019 میں ‘ان لافل ایکٹیویٹیز پریوینشن ایکٹ’ (UAPA) پاس کیا گیا، جس نے دہشت گردی کی تعریف میں اتنی توسیع کر دی کہ چھوٹے سے چھوٹے سیاسی جرم یا احتجاج کو بھی دہشت گردی قرار دیا جانے لگا۔ یہ وہی ہندوتوا ذہنیت ہے جس نے مئی 2019 میں بابری مسجد کے قضیے کو ہوا دی اور اس کے بعد ہونے والے فسادات میں دو ہزار کے قریب بے گناہ مسلمان بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) درحقیقت آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لینے والی وہ کٹر پسند سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی تھی۔ آزادی کے بعد سے مودی حکومت ملک کی سب سے بدعنوان اور فاشسٹ حکومت ثابت ہوئی ہے جس کی کارکردگی ہر محاذ پر قابلِ مذمت ہے۔ مودی سرکار کے اس آمریت پسند رویے کی وجہ سے خود ہندوستان کے اندر یہ خوف پیدا ہو چکا ہے کہ وہاں کی جمہوریت شدید خطرے میں ہے۔ بھارتی عوام اب جان چکے ہیں کہ ان حکمرانوں نے جھوٹے وعدے کر کے انہیں لُوٹا ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی مودی حکومت کی کوئی منشا ہی نہیں تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، منوج جھا نے بھارتی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب خود سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ صورتحال بی جے پی کے جعلی قوم پرستی کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے اور سیاسی فائدے کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے ننگے استعمال کو بے نقاب کرتی ہے۔پون صدی کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی بھارت کی پورے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل اور بے دریغ پامالیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کرہ ارض کا وہ واحد خطہ ہے جہاں محض چند ہزار مربع میل علاقے میں آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجی تعینات ہیں، اور بھارت سرزمینِ کشمیر پر اپنے اس جبری و ناجائز فوجی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر ریاستی وسائل کو جھونک رہا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی احتجاج نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے بند ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے، جہاں سات سال سے جاری بدترین فوجی لاک ڈاؤن، حریت قیادت کی غیر قانونی قید اور معصوم نوجوانوں کی شہادتوں نے مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔
بھارت تمام تر ظلم و جبر، تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا اور نہ ہی وہ غیور کشمیریوں کے حوصلے پست کر سکا۔ ان کی جدوجہدِ آزادی کو روکنا اب نئی دہلی کے بس کی بات نہیں رہی اور اس حقیقت کو کسی طور جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ، بزرگ، خواتین اور ہر جوان آزادی حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہیں،
اور یہ بات اب بھارت کو بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ کشمیریوں کے اسی فولادی عزم کو حبیب جالب نے یوں زبان دی تھی:ظلم رہے اور امن بھی ہوکیا ممکن ہے، تم ہی کہومقتل مقتل گونج رہی ہےاب تو یہ آواز، کہ بس!پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے اور آج ایک بار پھر ملکی قیادت اپنے مظلوم بھائیوں کے ساتھ دل و جان سے کھڑے ہونے کا آہنی عزم دہراتی ہے۔
پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کاز کے ساتھ وابستہ ہے، اور جب تک وادی کے غیور عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا جائز حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، ہماری یہ حمایت پوری آب و تاب اور استقامت کے ساتھ جاری رہے گی۔ یہ وقت عالمی طاقتوں کے لیے بھی امتحان کا ہے کہ وہ مصلحتوں کی چادر اتار کر کشمیریوں کو ان کا حق دلائیں۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر غیر متزلزل حمایت کی ہے اور حقِ خودارادیت کی اس جائز جنگ میں ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ غاصب بھارت نے کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے ظلم و بربریت، غیر قانونی گرفتاریوں، بدترین تشدد اور ریاستی دہشت گردی کا ہر حربہ آزما لیا، لیکن وہ اپنے مذموم اور فاشسٹ مقاصد میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ نئی دہلی سرکار طاقت کے اندھے استعمال کے باوجود نہ تو غیور کشمیریوں کے حوصلے پست کر سکی اور نہ ہی ان کی نسل در نسل منتقل ہونے والی جدوجہدِ آزادی کو روک سکی ہے۔ اس سچائی کو آج دنیا کا کوئی بھی خطہ جھٹلا نہیں سکتا کہ مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ، بزرگ، خواتین اور نوجوان آزادی کے سوا کسی دوسرے متبادل پر راضی نہیں ہیں، اور یہ زمینی حقیقت اب بھارت کو بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو 5 اگست 2019 مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک، دردناک اور سیاہ ترین دن بن کر ابھرا۔ اپریل 2019 میں ہونے والے بھارتی عام انتخابات میں آر ایس ایس کی ہندوتوا آئیڈیالوجی پر چلنے والی بی جے پی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور نریندر مودی نے دوسری بار وزارتِ عظمیٰ کا ہما اپنے سر پر سجایا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اس متعصب حکومت نے سنگ دلی اور عصبیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر ننگا شب خون مارا اور ان کی داخلی خودمختاری کو براہِ راست چیلنج کیا۔ ابھی بی جے پی حکومت کو قائم ہوئے محض چار ماہ ہی گزرے تھے کہ انہوں نے بھارتی پارلیمان کو کٹھ پتلی بناتے ہوئے اندھے اور ظالمانہ قوانین پاس کرنے کا ایک گھناؤنا اور غیر جمہوری کھیل شروع کیا۔اسی فاشسٹ منصوبے کے تحت 5 اگست 2019 کو بھارتی پارلیمان نے آرٹیکل 370 کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا، جو جموں و کشمیر کو آئینی طور پر خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا اور اسے اپنا الگ آئین اور جھنڈا رکھنے کا قانونی حق فراہم کرتا تھا۔ اس دفعہ کے خاتمے کے ساتھ ہی کشمیر کی ریاستی شناخت مٹا دی گئی اور ان کا آئین و پرچم بھی زبردستی ضبط کر لیا گیا۔ ظلم کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ بی جے پی حکومت نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے دفعہ 35 اے کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ دفعہ 35 اے ایک ایسا حفاظتی ڈھال تھی جس کے تحت صرف وہی شخص جموں و کشمیر کا مستقل شہری بن سکتا تھا جو وہاں پیدا ہوا ہو یا اس کے پاس وہاں کی ریاستی شہریت ہو۔ اس قانون کے خاتمے کا مقصد کشمیر کے مسلم اکثریتی تشخص کو ہندو اقلیت میں بدلنا تھا، جس کے بعد بھارت کی دیگر ریاستوں سے سنگھی ہجوم اور غیر مقامی لوگوں کی وادی میں ہنگامی آباد کاری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس نوآبادیاتی پالیسی کے نتیجے میں مقامی معیشت تباہ ہو گئی اور گزشتہ برسوں کے دوران لاکھوں کشمیری اپنے ہی آبائی روزگار اور زمینوں سے محروم کر دیے گئے۔ جب ان تمام ہتھکنڈوں سے بھی کشمیریوں کا عزم نہ ٹوٹا، تو بھارت نے لاقانونیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اگلے ہی دن، یعنی 6 اگست 2019 کو ‘ری آرگنائزیشن ایکٹ’ بھی منظور کروا لیا تاکہ اس مقبوضہ خطے کو مستقل طور پر وفاق کے زیرِ انتظام ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا سکےاس بدنامِ زمانہ ‘ری آرگنائزیشن ایکٹ’ نے تاریخی ریاستِ جموں و کشمیر کو جغرافیائی طور پر دو حصوں، یعنی ‘جموں و کشمیر’ اور ‘لداخ’ میں تقسیم کر دیا. ان دونوں خطوں کو کسی صوبائی حیثیت کے بجائے براہِ راست بھارتی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں دے دیا گیا. اگرچہ دکھاوے کے لیے وہاں ایک قانون ساز اسمبلی کی گنجائش رکھی گئی، لیکن وہ عملی طور پر اتنی بے اختیار ہے کہ اس کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں. یوں بی جے پی سرکار نے ایک ہی ہتھکنڈے کے تحت پہلے دن کشمیر کی تاریخی ریاستی حیثیت کا جنازہ نکالا اور اگلے ہی روز کشمیریوں سے ان کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا بنیادی حق بھی چھین لیا. ظلم، جبر اور ریاستی لاقانونیت کا یہ سیاہ باب ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا. ان کالے قوانین کی آڑ میں بھارتی حکومت نے میڈیا پر سخت ترین سنسرشپ لگاتے ہوئے کشمیر میں ایک ‘بلیک لسٹ’ کا نظام متعارف کرایا، جس کے تحت صرف ان چیدہ چیدہ نیوز سائٹس کو چلنے کی اجازت دی جاتی ہے جو ہندوتوا بیانیے کی تائید کریں، جبکہ کشمیری عوام کے لیے باقی تمام آزاد اور غیر جانبدار نیوز پورٹلز تک رسائی کو مکمل طور پر بلاک اور ناممکن بنا دیا گیا ہے. دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی ظلم و ستم کی یہ ہولناک داستان محض وادیِ کشمیر کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ خود ہندوستان کے اپنے اندر بسنے والے کروڑوں شہری اور دیگر مذہبی اقلیتیں بھی اس فاشسٹ شکنجے میں بری طرح پس رہی ہیں. مودی راج میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے لیے آئے روز روزمرہ زندگی کے معمولات اور زمین تنگ کی جا رہی ہے. ‘قومی رجسٹر برائے شہریت’ (NRC) کے متعصبانہ قانون نے تو گویا ان اقلیتوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا کر انہیں شہری ماننے سے ہی صاف انکار کر دیا ہے. شہریت کے اس نئے ڈیجیٹل رجسٹر میں نام برقرار رکھنے کے لیے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ ہر شہری کے پاس دہائیوں پرانی ‘لیگیسی دستاویزات’ (Legacy Documents) موجود ہوں. اب جو غریب، پسماندہ یا اقلیتی شہری مودی سرکار کے مقرر کردہ معیار کے مطابق یہ کاغذی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہتا ہے، اس کی صدیوں پرانی ملکی شہریت چشمِ زدن میں ضبط کر لی جاتی ہے اور اسے اپنے ہی ملک میں بے وطن کر دیا جاتا ہے.ہندوتوا کے اس متعصبانہ ایجنڈے کے تحت بھارت کے ‘قومی رجسٹر برائے شہریت’ (NRC) نے 31 اگست 2019 کو جب اپنی پہلی حتمی فہرست شائع کی، تو ایک ہی جھٹکے میں ریاست آسام کے تقریباً 19 لاکھ بنگالیوں کو غیر ملکی قرار دے کر ان کی شہریت ضبط کر لی گئی اور انہیں اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بنا دیا گیا۔ ظلم کا یہ دائرہ یہیں محدود نہ رہا، بلکہ اس کے محض چند ماہ بعد 11 دسمبر 2019 کو متنازع ‘سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ’ (CAA) بھی پاس کروا لیا گیا۔ اس نئے قانون کے ذریعے این آر سی کا دائرہ کار پورے ہندوستان پر نافذ کر دیا گیا، جس کا بنیادی نشانہ مسلمان بنے؛ لاکھوں افراد کی شہریت چھین کر انہیں ملک بدر ہونے اور حراستی مراکز میں جانے پر مجبور کیا گیا。اسی سال نومبر 2019 میں ‘ان لافل ایکٹیویٹیز پریوینشن ایکٹ’ (UAPA) میں ایسی ترامیم کی گئیں جس نے دہشت گردی کی تعریف کو اس حد تک پھیلا دیا کہ چھوٹے سے چھوٹے سیاسی اختلاف، پرامن احتجاج یا حکومتی پالیسی پر تنقید کو بھی دہشت گردی قرار دے کر لوگوں کو بغیر ٹرائل کے جیلوں میں بند کیا جانے لگا۔ مودی سرکار کے اسی دورِ اقتدار میں مئی 2019 کے دوران بابری مسجد کے تاریخی قضیے کو ہندوتوا جنون کے لیے استعمال کیا گیا، اور اس کے نتیجے میں بھڑکنے والے مسلم کش فسادات میں دو ہزار کے قریب بے گناہ مسلمانوں کو بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔درحقیقت، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلم دشمن تنظیم آر ایس ایس (RSS) کی کوکھ سے جنم لینے والی جماعت ہے جس کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی تھی۔ سنہ 1947 کی آزادی کے بعد سے اب تک مودی حکومت کو بھارت کی تاریخ کی سب سے بدعنوان، فاشسٹ اور نااہل حکومت قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا، جس کی مجموعی کارکردگی ہر محاذ پر انتہائی قابلِ مذمت رہی ہے۔ آج خود ہندوستان کے اندر یہ خوف پوری طرح سر اٹھا چکا ہے کہ اگر یہ آمریت پسند اور ہندوتوا نواز مودی ٹولہ اقتدار پر قابض رہتا ہے، تو نام نہاد بھارتی جمہوریت کا بستر ہمیشہ کے لیے گول ہو جائے گا۔ وہاں کے عام عوام اب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ بی جے پی نے ترقی اور خوشحالی کے جھوٹے وعدے کر کے ان کا ووٹ بٹورا، جبکہ ان کے مسائل حل کرنے کی ان کی کوئی نیت ہی نہیں تھی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی رہنما منوج جھا نے خود بھارتی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ سنگین صورتحال بی جے پی کے کھوکھلے قوم پرستی کے دعوؤں کا پردہ چاک کرتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ مودی حکومت اپنے سیاسی فائدے اور مخالفین کو دبانے کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا ننگا اور بے دریغ استعمال کر رہی ہےبلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ اس تلخ حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ 2014 میں نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر (Hate Speech) کے ریکارڈ شدہ 255 واقعات میں سے تقریباً 80 فیصد واقعات صرف ان ریاستوں میں پیش آئے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ مودی سرکار نے وادی میں اٹھنے والی ہر سیاسی اور نظریاتی آواز کو دبانے کے لیے تحریکِ آزادیِ کشمیر میں کلیدی کردار ادا کرنے والی چوٹی کی تنظیموں پر یکطرفہ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر، مسلم لیگ، تحریکِ حریت، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF)، دخترانِ ملت اور مسلم کانفرنس شامل ہیں۔اگرچہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 1 دنیا کے تمام پسماندہ اور زیرِ دست لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے یعنی ‘حقِ خودارادیت’ کی ضمانت دیتا ہے، مگر تاریخ شاہد ہے کہ محض کاغذ پر لکھے قوانین کسی تحریک کو اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتے جب تک عالمی طاقتوں کی سیاسی رضامندی شاملِ حال نہ ہو. اس دہرے معیار کی سب سے بڑی مثال سوڈان کی تقسیم اور ایسٹ تیمور کی تخلیق ہیں جنہیں عالمی برادری نے فوری تسلیم کیا، جبکہ کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی عالمی ضمیر اور بین الاقوامی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں. مصلحت پسند دنیا کی اس بے حسی کے باعث کشمیری عوام کے لیے سیاسی نمائندگی، اعلیٰ تعلیم، آزادیِ اظہارِ رائے اور خود زندگی کا حق جیسے بنیادی انسانی حقوق ایک خواب بن کر رہ گئے ہیں، اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام نہاد عالمی علمبردار اپنے تجارتی و معاشی مفادات کی خاطر نئی دہلی کی ان انسان دشمن پالیسیوں اور کالے قوانین پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں.اقوامِ متحدہ کی اپنی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر متعدد تفصیلی رپورٹس جاری ہونے کے باوجود، جارح بھارت کا ہاتھ نہ روکنا اور مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند نہ کرنا عالمی برادری کی کھلی منافقت اور مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے. اس عالمی سرد مہری کے باوجود پاکستان اپنے اس اصولی موقف پر چٹان کی طرح قائم ہے کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول تک ان کی مضبوط، غیر متزلزل اور ثابت قدم اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی. پاکستان خطے میں پائیدار ترقی کے لیے بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم نئی دہلی کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اچھے تعلقات دیرینہ تنازعات سے نظریں چرانے یا انہیں پسِ پشت ڈالنے سے نہیں، بلکہ انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نیک نیتی سے حل کرنے سے ہی قائم ہو سکتے ہیں.مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک ایک ‘جہدِ مسلسل’ ہے، جسے سال کے چند مخصوص دنوں یا تاریخوں سے منسوب کر کے صرف رسمی آواز بلند کرنے تک محدود نہیں کیا جا سکتا؛ بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر وقت، ہر لمحے اور ہر گھڑی کشمیر کی مظلومیت اور ان کے حقوق کی آواز بن کر دنیا کے ایوانوں کو جھنجھوڑا جائے. کشمیری عوام کا یہ پختہ اور آہنی عزم ہے کہ وہ غاصب بھارت کے ہندوتوا پر مبنی گھناؤنے اقدامات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق اپنی اس جدوجہدِ آزادی کو حقیقی منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے، کیونکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور خوشحالی کا خواب جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download