LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) قومی سطح پر ’’پرعزم پاکستان‘‘ پروگرام کا اجراء

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پرائم منسٹر یوتھ پروگرام پاکستان کے نوجوانوں کو تعلیمی، معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنانے کا حکومت کا ایک بڑا اور بنیادی منصوبہ ہے۔ ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، جس کے پیشِ نظر اس پروگرام کو ترتیب دیا گیا ہے
`حکومتِ پاکستان نے قومی سطح پر “پرعزم پاکستان” پروگرام کا باقاعدہ اجراء کر دیا ہے اس اہم پروگرام کے آغاز کی افتتاحی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، اس پروگرام کے بنیادی خدوخال اور مقاصد درج ذیل ہیں:
پروگرام کے اہم مقاصد اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا:
چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اقدام نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اشتراکِ عمل: یہ پروگرام خصوصی طور پر “وزیراعظم یوتھ پروگرام” اور عالمی ادارے “جنریشن ان لمیٹڈ” (Generation Unlimited) کے باہمی تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
ترقی کے مواقع:

اس اقدام کا محور ملکی نوجوانوں کو تعلیم، جدید ہنر (اسکلز)، روزگار اور قیادت کے بہترین مواقع فراہم کر کے ملکی ترقی میں ان کا کردار بڑھانا ہے۔
یہ پروگرام حکومت کے اس وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کے تحت نوجوانوں کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنا کر ملک کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت قومی سطح پر “پرعزم پاکستان” پروگرام کا اجراء کیا گیاہے۔ بیماری کے باوجود چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کا بدھ کوپرعزم پاکستان” پروگرام کے اجراء تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہناتھا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور جینریشن اَن لمیٹڈ کے اشتراک سے نوجوانوں کی ترقی کا سفر جاری ہے، نوجوانوں کو آرٹس، ثقافت، سائنس، ٹیکنالوجی، ہنر اور کھیلوں کے شعبوں میں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، چیئرمین نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کا آغاز 2013 میں نواز شریف کے دور میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کیا گیا، پروگرام کے تحت ملک بھر میں لیپ ٹاپ، وظائف اور آسان قرضوں کی فراہمی کا آغاز کیا گیا،
وزیراعظم شہباز شریف نوجوانوں کے بجٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے،نوجوانوں کی ترقی کے لیے وزیراعظم نے تمام بجٹ تجاویز منظور کر لیں، رواں سال فنی تعلیم کے لیے 19 ارب روپے کی خطیر رقم منظور کی گئی، ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا تکنیکی تعلیم کا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، فنی تربیت کے ساتھ سافٹ اسکلز اور اخلاقی تربیت بھی دی جا رہی ہے،بیرون ملک روزگار کے مواقع کے مطابق زبانوں کی تربیت کا آغاز کر دیا گیا، جاپانی، عربی، انگریزی، کوریائی، جرمن اور فرانسیسی زبانوں کے کورسز شروع کر دیے گئے۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام کی ٹیمیں 17 ممالک میں نوجوانوں کے مواقع تلاش کر رہی ہیں، ڈیجیٹل یوتھ ہب نوجوانوں کے لیے مرکزی پلیٹ فارم بن چکا ہے، ڈیجیٹل یوتھ ہب کا افتتاح گزشتہ سال وزیراعظم شہباز شریف نے کیا تھا، ڈیجیٹل یوتھ ہب پر 8 لاکھ سے زائد نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں، روزانہ اوسطاً 4 ہزار 800 نوجوان ڈیجیٹل یوتھ ہب پر رجسٹریشن کر رہے ہیں، ڈیجیٹل یوتھ ہب پر 2 ہزار سے زائد کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں،پلیٹ فارم پر پاکستان اور بیرون ملک ہزاروں ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہیں۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ یونیسیف کے تعاون سے ڈیجیٹل یوتھ ہب نوجوانوں کی فلاح کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے،پنجاب ایجوکیشن انڈاؤمنٹ فنڈ کی طرز پر پاکستان ایجوکیشن انڈاؤمنٹ فنڈ کا آغاز کر دیا گیا،پاکستان ایجوکیشن انڈاؤمنٹ فنڈ سے ملک بھر کے مستحق طلبہ کو فائدہ پہنچے گا، رلنوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، ان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پاکستان میں یو این ریزیڈنٹ کوارڈینیٹر محمد یحیی نے کہا کہ پاکستان کے بعد صلاحیت نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں،حکومت ان جوانوں کو با اختیار بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ پیرنیلا ائرن سائیڈ نے کہا کہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں نوجوانوں کو عالمی سطح اور مارکیٹ کی ضروریات اور معیار کے مطابق ہنر مند بنانے کی ضرورت ہے
اس موقع پر وزیراعظم یوتھ پروگرام کے جائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر محمد علی ملک نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کی جانب سے نوجوانوں کو باختیار بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے اگاہ کیا انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے اقدامات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کے لیے جید ڈیجیٹل یوتھ پر رجسٹریشن کروائیں۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام یونیسیف اور جنریشن انلمٹڈ کے تعاون سے یہ پروگرام شروع کیا گیا ہے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے معرکہ حق کی فتح کی خوشی میں افواج پاکستان کے ساتھ خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ٹی 20 کرکٹ میچ منعقد کی گئی جس کی شاندار تقریب میں شرکت اور خطاب کیا,یاد رہے کہ 07 اپریل 2026 کو چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم سے ملاقات کی تھی ، جس میں انہوں نے شہباز شریف کو یوتھ پروگرام کے تحت جاری مختلف منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی تھی وزیراعظم نے یوتھ پروگرام کے منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور نوجوانوں کو زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ نوجوان ہماری قوم کا روشن مستقبل ہیں اور ان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔شہباز شریف کا کہناتھا کہ حکومت نوجوانوں کو ملازمت، تعلیم، تکنیکی تربیت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ میں بہترین افرادی قوت کے طور پر متعارف کروانے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے کوشاں ہیں۔ نوجوان ملک کی ترقی و خوشحالی کا استعارہ ہیں، ہمارے نوجوان پرعزم ہے، انہوں نے ہر مشکل وقت میں ملک کی خوشحالی میں حصہ ڈالا، دنیا بھر میں پاکستانی نوجوان کام اور قیادت کرتے نظر آتے ہیں، وزیراعظم یوتھ پروگرام پاکستان بھر کے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، آرٹس سمیت تمام شعبوں میں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، تعلیم اور ہنرمندی کے ساتھ ساتھ کھیل بھی اہمیت رکھتے ہیں،حکومت نوجوانوں کو برسر روزگار اور بااختیار بنانے کیلئے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ذریعے ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے ,پرائم منسٹر یوتھ پروگرامنوجوانوں کو تعلیمی، معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنانے کا حکومت کا ایک بڑا اور بنیادی منصوبہ ہے۔ ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، جس کے پیشِ نظر اس پروگرام کو ترتیب دیا گیا ہے۔موجودہ دور میں یہ پروگرام “4Es” کے وژن اور کچھ نئے جدید مقاصد پر کام کر رہا ہے۔پروگرام کا بنیادی ڈھانچہ (4Es Framework)یہ پروگرام بنیادی طور پر چار اہم ستونوں پر استوار ہے:
Education (تعلیم): نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف (Scholarships) اور تعلیمی وسائل کی فراہمی۔Employment & Entrepreneurship
(روزگار اور کاروبار): نوجوانوں کو نوکریوں کے مواقع، انٹرن شپس اور اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے مالی معاونت دینا۔Engagement (شمولیت): کھیلوں کے مقابلوں، یوتھ کونسلز، لیڈرشپ پروگرامز اور کمیونٹی کے کاموں میں نوجوانوں کو شامل کرنا۔
Environment (ماحول): “گرین یوتھ موومنٹ” کے ذریعے نوجوانوں کو شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کی مہمات کا حصہ بنانا۔اہم اسکیمیں اور اقداماتپرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت ملک بھر میں کئی کامیاب اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں:
یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم (PMYB&ALS):
اس اسکیم کے تحت 21 سے 45 سال کے نوجوانوں (اور آئی ٹی سیکٹر کے لیے 18 سال سے) کو اپنا کاروبار یا جدید زراعت شروع کرنے کے لیے 5 لاکھ سے 75 لاکھ روپے تک کے آسان قرضے دیے جاتے ہیں، جن میں سے پہلی کیٹیگری کے قرضے مکمل سود سے پاک ہوتے ہیں۔
لیپ ٹاپ اسکیم: میرٹ پر آنے والے یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات میں لاکھوں جدید ترین لیپ ٹاپس کی تقسیم تاکہ وہ ڈیجیٹل دنیا سے جڑ سکیں۔
اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام:
نیوٹیک (NAVTTC) کے اشتراک سے نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ اور دیگر مارکیٹ کے مطابق جدید تکنیکی کورسز مفت کروائے جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل یوتھ ہب (DYH): ایک مرکزی آن لائن پورٹل اور موبائل ایپ متعارف کرائی گئی ہے جہاں نوجوان ایک ہی جگہ پر مختلف نوکریوں، اسکالرشپس، کورسز اور کاروباری فنڈنگ کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔
جدید ترجیحات اور نئے مائلسٹونز;
وقت کے ساتھ اس پروگرام میں تین نئے اہم شعبے شامل کیے گئے ہیں:
گرلز لرن، گرلز ارن: خواتین کو ہنر سکھا کر معاشی دھارے میں شامل کرنا۔محنت میں عظمت: بلیو کالر (تکنیکی و ہاتھ کے کام) ملازمتوں کو باوقار بنانا۔مستقبل کی ملازمتیں (Jobs of the Future): ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق روزگار کی پالیسیاں بنانا۔پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی تینوں سب سے بڑی اسکیموں (کاروباری قرضہ، لیپ ٹاپ اسکیم، اور فری کورسز) کے لیے اہلیت کا معیار اور اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ کار درج ذیل ہے:
1. وزیر اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم ;
یہ اسکیم نئے کاروبار کے آغاز یا پرانے کاروبار کی توسیع اور جدید زراعت کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔اہلیت کا معیار عمر کی حد: 21 سے 45 سال کے تمام پاکستانی شہری (خواتین کے لیے خصوصی 25% کوٹہ مخصوص ہے)۔آئی ٹی اور ای کامرس: آئی ٹی اور ڈیجیٹل کاروبار کے لیے عمر کی حد 18 سے 45 سال ہے، اور کم از کم میٹرک تعلیم ضروری ہے۔ سرکاری ملازمین اور کسی بھی بینک کے ڈیفالٹرز اس اسکیم کے اہل نہیں ہیں۔قرض کے درجات (Tiers):درجہ 1 (Tier 1): 5 لاکھ روپے تک کا قرض (0% مارک اپ / مکمل سود سے پاک)۔درجہ 2 (Tier 2): 5 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک (5% مارک اپ)۔درجہ 3 (Tier 3): 15 لاکھ سے 75 لاکھ روپے تک (7% مارک اپ)۔اپلائی کرنے کا طریقہ:درخواستیں صرف آن لائن قبول کی جاتی ہیں۔ 13 مئی 2026 وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم یوتھ پروگرام کے جاری منصوبوں پر پیش رفت اور آئندہ برس کیلئے نئے منصوبوں کی تجاویز پر جائزہ اجلاس ہوا تھا ۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے،نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں عالمی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کیلئے اقدامات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی جامعات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل پیش کریں، وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کی تکنیکی و فنی تربیت پر توجہ مرکوز کرے جس سے نوجوانوں کیلئے ملک اور بیرون ملک روزگار کے مواقع یقینی ہوں۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے مختلف آسان قرضہ سکیموں کو ایک چھتری تلے لانے، کم آمدن و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو الیکٹرک بائیکس کی فراہمی کیلئے یوتھ پروگرام کو وزارت صنعت کے ساتھ تعاون کی ہدایت کی تھی ۔ شہباز شریف نے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا تھا اجلاس میں حکام نے بتایا تھا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے قیام سے اب تک 8 لاکھ سے زائد نوجوان اور 2 ہزار سے زائد ادارے رجسٹر ہوئے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 4800 سے زائد درخواستیں موصول ہورہی ہیں جن کی کڑی جانچ پڑتال کے بعد اُن کی شمولیت یقینی بنائی جاتی ہے۔ حکام کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگری لونز کے تحت اب تک 2 لاکھ 87 ہزار سے زائد نوجوانوں کو 122.5 ارب روپے کاروبار و زراعت کیلئے آسان شرائط پر بطور قرض دیئے جا چکے جسکی بدولت 9 لاکھ سے زائد روزگار کے موقع پیدا ہوئے, بتایا گیا تھاکہ قرض سکیم کے تحت دیے جانے والے ہر قرض کے عوض 3 سے زائد نئے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی قیادت میں ملک کی پہلی یوتھ اینڈ ایڈالیسینٹ پالیسی اور پہلی یوتھ روزگار پالیسی تیار ہو چکی ہے، اسی طرح ملک میں پہلی قومی یوتھ کونسل کا قیام، وزیرِ اعظم سپورٹس اینڈ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا اجراء بھی ہوا۔ اِسی طرح سپورٹس اینڈ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت رواں برس 4 لاکھ نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا جس میں ملک کے محروم اور متوسط طبقوں کے نوجوانوں کو میرٹ پر اپنے ہنر دکھانے کا موقع ملا جس کا عملی مظاہرہ رواں برس پاکستان سپر لیگ میں اسی پروگرام کے تحت ابھر کر سامنے آنے والے کئی کھلاڑیوں کی شمولیت کی صورت ہو۔ اجلاس کو یوتھ پروگرام کے تحت ملک میں مکس مارشل آرٹس، فیفا ایرینا اور ای سپورٹس کے اقدامات سمیت مختلف منصوبوں کے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔یاد رکھیں 24 فروری 2026وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کی امپیکٹ رپورٹ جاری کی تھی۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود نے کہا تھا کہ پروگرام کے تحت فن ٹیک ڈویژن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید مالی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام سابق وزیراعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا ۔ کامن ویلتھ نے بھی اس پروگرام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے سو سے دو سو ارب روپے تک کے قرضوں کی منظوری دی۔ اب اس رقم کو بڑھا کر تین سو ارب روپے تک لے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ رانا مشہود نے کہا کہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا اجرا کیش لیس اکانومی کی جانب ایک بڑا قدم ہے ۔ اگلے اٹھارہ ماہ میں تمام یونیورسٹیوں کو کیش لیس بنانے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ وزیراعظم کے واضح ویژن پر تیزی سے عمل جاری ہے ۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ پاکستان کی ترقی دشمن عناصر کو اچھی نہیں لگتی، تاہم حکومت نوجوانوں کی ترقی اور ملکی خوشحالی کے ایجنڈے پر ثابت قدم ہے۔ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی تینوں سب سے بڑی اسکیموں (کاروباری قرضہ، لیپ ٹاپ اسکیم، اور فری کورسز) کے لیے اہلیت کا معیار اور اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ کار درج ذیل ہے:

1. وزیر اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم ;
یہ اسکیم نئے کاروبار کے آغاز یا پرانے کاروبار کی توسیع اور جدید زراعت کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔اہلیت کا معیار عمر کی حد: 21 سے 45 سال کے تمام پاکستانی شہری (خواتین کے لیے خصوصی 25% کوٹہ مخصوص ہے)۔آئی ٹی اور ای کامرس: آئی ٹی اور ڈیجیٹل کاروبار کے لیے عمر کی حد 18 سے 45 سال ہے، اور کم از کم میٹرک تعلیم ضروری ہے۔ سرکاری ملازمین اور کسی بھی بینک کے ڈیفالٹرز اس اسکیم کے اہل نہیں ہیں۔قرض کے درجات (Tiers):درجہ 1 (Tier 1): 5 لاکھ روپے تک کا قرض (0% مارک اپ / مکمل سود سے پاک)۔درجہ 2 (Tier 2): 5 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک (5% مارک اپ)۔درجہ 3 (Tier 3): 15 لاکھ سے 75 لاکھ روپے تک (7% مارک اپ)۔اپلائی کرنے کا طریقہ:درخواستیں صرف آن لائن قبول کی جاتی ہیں۔ 13 مئی 2026 وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم یوتھ پروگرام کے جاری منصوبوں پر پیش رفت اور آئندہ برس کیلئے نئے منصوبوں کی تجاویز پر جائزہ اجلاس ہوا تھا ۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے،نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں عالمی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کیلئے اقدامات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی جامعات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل پیش کریں، وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کی تکنیکی و فنی تربیت پر توجہ مرکوز کرے جس سے نوجوانوں کیلئے ملک اور بیرون ملک روزگار کے مواقع یقینی ہوں۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے مختلف آسان قرضہ سکیموں کو ایک چھتری تلے لانے، کم آمدن و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو الیکٹرک بائیکس کی فراہمی کیلئے یوتھ پروگرام کو وزارت صنعت کے ساتھ تعاون کی ہدایت کی تھی ۔ شہباز شریف نے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا تھا اجلاس میں حکام نے بتایا تھا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے قیام سے اب تک 8 لاکھ سے زائد نوجوان اور 2 ہزار سے زائد ادارے رجسٹر ہوئے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 4800 سے زائد درخواستیں موصول ہورہی ہیں جن کی کڑی جانچ پڑتال کے بعد اُن کی شمولیت یقینی بنائی جاتی ہے۔ حکام کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگری لونز کے تحت اب تک 2 لاکھ 87 ہزار سے زائد نوجوانوں کو 122.5 ارب روپے کاروبار و زراعت کیلئے آسان شرائط پر بطور قرض دیئے جا چکے جسکی بدولت 9 لاکھ سے زائد روزگار کے موقع پیدا ہوئے, بتایا گیا تھاکہ قرض سکیم کے تحت دیے جانے والے ہر قرض کے عوض 3 سے زائد نئے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی قیادت میں ملک کی پہلی یوتھ اینڈ ایڈالیسینٹ پالیسی اور پہلی یوتھ روزگار پالیسی تیار ہو چکی ہے، اسی طرح ملک میں پہلی قومی یوتھ کونسل کا قیام، وزیرِ اعظم سپورٹس اینڈ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا اجراء بھی ہوا۔ اِسی طرح سپورٹس اینڈ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت رواں برس 4 لاکھ نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا جس میں ملک کے محروم اور متوسط طبقوں کے نوجوانوں کو میرٹ پر اپنے ہنر دکھانے کا موقع ملا جس کا عملی مظاہرہ رواں برس پاکستان سپر لیگ میں اسی پروگرام کے تحت ابھر کر سامنے آنے والے کئی کھلاڑیوں کی شمولیت کی صورت ہو۔ اجلاس کو یوتھ پروگرام کے تحت ملک میں مکس مارشل آرٹس، فیفا ایرینا اور ای سپورٹس کے اقدامات سمیت مختلف منصوبوں کے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔یاد رکھیں 24 فروری 2026وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کی امپیکٹ رپورٹ جاری کی تھی۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود نے کہا تھا کہ پروگرام کے تحت فن ٹیک ڈویژن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید مالی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام سابق وزیراعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا ۔ کامن ویلتھ نے بھی اس پروگرام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے سو سے دو سو ارب روپے تک کے قرضوں کی منظوری دی۔ اب اس رقم کو بڑھا کر تین سو ارب روپے تک لے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ رانا مشہود نے کہا کہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا اجرا کیش لیس اکانومی کی جانب ایک بڑا قدم ہے ۔ اگلے اٹھارہ ماہ میں تمام یونیورسٹیوں کو کیش لیس بنانے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ وزیراعظم کے واضح ویژن پر تیزی سے عمل جاری ہے ۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ پاکستان کی ترقی دشمن عناصر کو اچھی نہیں لگتی، تاہم حکومت نوجوانوں کی ترقی اور ملکی خوشحالی کے ایجنڈے پر ثابت قدم ہے۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان ایک لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے ہیں جس کا مقصد ملک بھر میں کھیلوں، اولمپک تعلیم اور اولمپک اقدار کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کی ترقی کو مضبوط بنانا ہے۔یہ لیٹر آف انٹینٹ پاکستانی نوجوانوں کو منظم کھیلوں کی سرگرمیوں کے ذریعے بااختیار بنانے، قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینے، شمولیت کو یقینی بنانے اور اولمپک چارٹر کے مطابق اولمپک موومنٹ کے اصولوں کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں اداروں کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔اس تعاون کا مقصد گراس روٹ سے لے کر ایلیٹ سطح تک نوجوانوں کی کھیلوں میں شرکت کو فروغ دینا، ٹیلنٹ کی شناخت اور ترقی کے لیے موثر راستے قائم کرنا اور اولمپک تعلیم، دیانت داری، سیف سپورٹس، اخلاقی اقدار اور کھیلوں میں مقابلوں کی ہیرا پھیری کی روک تھام جیسے موضوعات پر منظم پروگراموں کو فروغ دینا ہے۔ اس شراکت داری کا ایک اہم پہلو خواتین کی کھیلوں میں شمولیت اور قیادت کو فروغ دینا بھی ہے، جس کے لیے ایسے جامع پروگرام اور آگاہی اقدامات ترتیب دیے جائیں گے جو اولمپک اقدار یعنی اعلیٰ کارکردگی،احترام اور دوستی سے ہم آہنگ ہوں گے۔طے شدہ فریم ورک کے تحت پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن تکنیکی مہارت اور پروگرام ڈیزائن میں معاونت فراہم کرے گی جبکہ وزیراعظم یوتھ پروگرام اپنے ڈیجیٹل اور ادارہ جاتی نیٹ ورکس کے ذریعے نوجوانوں تک رسائی، شمولیت اور رابطہ کاری کو ممکن بنائے گا۔دونوں ادارے سالانہ ایکشن پلانز کی تیاری اور نگرانی کے لیے ایک مشترکہ سٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کر سکتے ہیں تاکہ اولمپک ڈے کی تقریبات، یوتھ فیسٹیولز اور کھیلوں سے متعلق قومی آگاہی مہمات جیسے اقدامات کو موثر انداز میں ملک بھر میں نافذ کیا جا سکے۔یہ لیٹر آف انٹینٹ چار سال کی مدت کے لیے موثر ہوگا اور باہمی رضامندی سے اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔اس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق پر کوئی مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی اور تمام سرگرمیاں باہمی طور پر طے شدہ سالانہ منصوبوں کے مطابق انجام دی جائیں گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہاہے کہ کھیل محض تفریح نہیں بلکہ قوم سازی، کردار سازی، نظم و ضبط اور قیادت کے فروغ کا ایک طاقتور ذریعہ ہیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ اس شراکت داری کے ذریعے وزیراعظم یوتھ پروگرام اس امر کے لیے پُرعزم ہے کہ ہر نوجوان پاکستانی، بالخصوص لڑکیوں اور خواتین کو منظم کھیلوں کے مواقع اور اولمپک تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ یہ تعاون گراس روٹ سطح سے بین الاقوامی کامیابی تک راستے ہموار کرے گا۔ ارشد ندیم اس بات کی شاندار مثال ہیں کہ اگر نوجوانوں کو مواقع دیے جائیں تو وہ کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔وزیراعظم یوتھ پروگرام ایک صحت مند، مضبوط اور بااعتماد نوجوان نسل کا وژن رکھتا ہے۔ یہ لیٹر آف انٹینٹ نوجوانوں کی بااختیاری کو دیانت داری، اخلاقیات اور سیف سپورٹس کے عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید نے کہا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ملک بھر میں اولمپک اقدار کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ یہ لیٹر آف انٹینٹ ایک سٹریٹجک اقدام ہے جس کے ذریعے اولمپک تعلیم اور کھیلوں کی ثقافت کو نوجوانوں کی ترقی کے پلیٹ فارمز میں شامل کیا جائے گا۔ اس سے پاکستان میں اولمپک موومنٹ مضبوط ہوگا اور نوجوان کھلاڑیوں اور رہنماؤں کی نئی نسل کو متاثر اور متحرک کیا جا سکے گا۔ہم وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ مل کر سیف سپورٹس کے فروغ، مقابلوں میں دیانت داری، اور خصوصاً خواتین کی زیادہ شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور تعاون کے خواہاں ہیں تاکہ پاکستان قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے میدان میں مزید اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download