LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان کی مسلح افواج کا دہشتگردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) آپریشن غضب للحق کے واضح اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے، دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف “آپریشن غضب للحق” پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے۔یہ آپریشن فروری 2026ء میں پاک افغان سرحد کے مختلف سیکٹرز (جیسے مہمند کا گرسال سیکٹر اور ننگرہار کا علاقہ) میں شروع کیا گیا。
آپریشن غضب للحق کو درحقیقت “آپریشن بنیان المرصوص” کا ہی ایک تسلسل، فکری وسعت اور ناگزیر اگلا مرحلہ سمجھا جانا چاہیے۔ عسکری اور سٹریٹجک تناظر میں یہ دونوں الگ مہمات نہیں، بلکہ ایک ہی بڑے سیکیورٹی نظریے کی کڑیاں ہیں:
1۔ نظریاتی اور اسٹریٹجک گٹھ جوڑ;
بنیان المرصوص (مضبوط دیوار): اس آپریشن کا بنیادی فلسفہ اندرونی دفاع، سرحدوں کو محفوظ بنانے اور ملک کے اندر چھپے دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورکس کو اکھاڑ پھینکنے پر مرکوز تھا۔
یہ دفاعی اور استحکامی مرحلہ تھا۔غضب للحق (حق کا غصہ): جب سرحد پار (افغانستان) سے حملوں میں شدت آئی اور “بنیان المرصوص” کے حاصل کردہ نتائج کو بیرونی پناہ گاہوں سے خطرہ لاحق ہوا، تو عسکری قیادت نے اسی مشن کو جارحانہ رخ دیا۔ غضب للحق دراصل اسی مضبوط دیوار (بنیان المرصوص) کو بیرونی دشمن کے حملوں سے بچانے کا ایک توسیعی ایکشن ہے۔2۔ ادھورے مشن کی تکمیل;
سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں:

بنیان المرصوص کے ذریعے پاکستان کے اندر تو دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی، لیکن ان کی کمانڈ لائن افغانستان میں محفوظ رہی۔ عسکری ماہرین کے مطابق جب تک ان بیرونی ٹھکانوں کو نشانہ نہ بنایا جاتا، بنیان المرصوص کا مشن “ادھورا” رہتا۔
غضب للحق کا کردار:
اس آپریشن نے اسی ادھورے حصے کو پورا کیا۔ اس نے سرحد پار جا کر قندھار، پکتیا اور ننگرہار میں بیٹھے ماسٹر مائنڈز اور ان کی لاجسٹک سپلائی لائن کو نشانہ بنایا، جس سے بنیان المرصوص کے مقاصد کو حتمی دوام ملا۔
3۔ تحریر اور تاریخ کا تسلسل;
جب بھی پاکستان کی حالیہ عسکری تاریخ لکھی جائے گی، تو “آپریشن غضب للحق” کو “آپریشن بنیان المرصوص” کے ایک ذیلی باب (Sub-chapter) یا فیز ٹو (Phase 2) کے طور پر پڑھا جائے گا۔
دونوں آپریشنز کا ہدف ایک ہی دشمن (فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کار) ہیں، بس ان کا جغرافیائی دائرہ کار تبدیل ہوا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں دورہ کوئٹہ کےدوران واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہے جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا یہ آپریشن بلاتعطل جاری رہے گا۔
سرکاری اعداد و شمار اور جنگی ماہرین کے مطابق اب تک کی کارروائیوں کی اہم ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
آپریشن کا پسِ منظر اورآغاز کی وجہ:
یہ آپریشن پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ، سرحدی تجاوزات اور افغان سرزمیں سے فتنہ الخوارج (TTP) کے بڑھتے ہوئے کراس بارڈر حملوں کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔
بنیادی ہدف:
اس مہم کا بنیادی مقصد افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں، لاجسٹک بیسز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے تاکہ پاکستان میں محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
ہلاکتیں اور فوجی نقصانات ;
پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق اس آپریشن کے دوران اب تک دشمن کو غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا ہے:ہلاک و زخمی دہشت گرد: اب تک مجموعی طور پر 796 دہشت گرد ہلاک اور 1,043 سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔
چوکیوں پر قبضہ:
افغان طالبان اور جنگجوؤں کی 286 سرحدی چوکیاں اور ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں، جبکہ 44 اسٹریٹجک چوکیوں پر پاکستانی افواج نے باقاعدہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
جنگی سازوسامان کی تباہی:
فضائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران دشمن کے 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپیں اور جاسوس ڈرونز ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے ہیں
فضائی کارروائیاں اور اسٹریٹجک ٹارگٹس پر بمباری:
پاکستان ایئر فورس نے قندھار، کابل، پکتیا اور ننگرہار سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے 81 سے زائد ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔
خفیہ سرنگوں کی تباہی:
قندھار میں ایک انتہائی اہم زیرِ زمین ٹنل (سرنگ) کو کامیابی سے تباہ کیا گیا، جسے افغان طالبان اور خوارج اپنے حساس ترین تکنیکی آلات اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
سول آبادی کا تحفظ:
آئی ایس پی آر کے مطابق تمام فضائی سٹرائیکس صرف مسلمہ عسکری اور دہشت گرد تنصیبات پر کی جا رہی ہیں اور شہری آبادی کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا گیا۔
حکومتِ پاکستان کا دوٹوک پیغام;
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت نے افغان عبوری حکومت کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی افغان سرزمیں کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور دہشت گردوں کے خلاف عملی ایکشن لے۔
پاکستان عالمی برادری کے سامنے مسلسل یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ ایک نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر (Net Regional Stabiliser) کے طور پر خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن دفاعِ وطن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، دہشت گرد پراکسیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گے، افغانستان دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لے، عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں زیر تربیت افسروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہے، آپریشن غضب للحق پوری قوت سے جاری رہے گا وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، آپریشنل تیاریوں اور قومی سلامتی کے لیے قربانیوں کو سراہا۔ شہباز شریف نے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال اور جارحانہ کارروائیوں کے مقابلے میں پاکستان نے ذمہ دارانہ طرز عمل، تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا، جس سے عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔ مزید کہا کہ افغان طالبان میں موجود دہشت گرد پراکسیوں کے خلاف اور معصوم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے آپریشن غضب للحق بھرپور عزم کے ساتھ جاری ہے، جس کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاونت فراہم کرنے والے ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا اور دوست ممالک سے آئے ہوئے افسران کی موجودگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کی آواز اٹھاتا رہے گا، ایک آزاد فلسطینی ریاست ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔شہباز شریف نے عسکری سفارت کاری اور دفاعی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان ایک “نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر” کے طور پر خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے قبل کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ آمد پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال چیف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کیا، وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزرائے دفاع، داخلہ و اطلاعات اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی موجود تھے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بلوچستان میں سیکیورٹی، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، منصوبہ بندی اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے بلوچستان کی رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کورتعینات کرنے کی ہدایت کی جس سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کے لیے راہداری قائم ہو گی، اس سیکیورٹی راہداری میں فرنٹیئر کور کے اضافی ونگز، شاہراہوں پر سیکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ، سرحدوں پر پوسٹس وغیرہ شامل ہوں گی۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات سے مالامال ہے، بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا ملک میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے نا گزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کی بہترین ٹریننگ اور نئی ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نومبر 2024 سے اب تک بلوچستان میں ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا، بلوچستان میں اس وقت 99 فیصد سکول کھلے ہیں اور تعلیمی سر گرمیاں جاری ہیں۔ آپریشن غضب للحق افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشتگردی کی سرپرستی کے مکمل خاتمے کی قابل یقین ضمانت ہے
افغان طالبان رجیم خطے میں دہشتگردی کی ایک مرکزی “پراکسی ماسٹر” کے طور پرکام کر رہی ہے ، یہ رجیم متعدد دہشتگرد تنظیموں کی سہولت کاری سے علاقائی امن واستحکام کیلئے خطرہ بن چکا ہے ، آپریشن غضب للحق پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ہی ایک تسلسل ہے ۔خوارج اسلام کی ایک مسخ شدہ اور خود ساختہ اسلامی نظریے کی ترویج کر رہا ہے، اسلام کا دہشت گردی اور خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، معصوم انسانی جانوں کا قتل عام، خواتین پر مظالم ، مساجد پر حملے اور انکا دہشتگردی کی کاروائیوں کیلئے استعمال ہماری مذہبی اور معاشرتی روایات کے منافی ہے، ایسے خودساختہ مذہبی عقائد کا پرچار کرنے والے خوارجیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، تمام مکتبہ فکر کے علماء نے ان خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ کو افضل جہاد قرار دیا ہے۔
پاکستان دہشتگردی میں ملوث فتنہ الخوارج اورفتنۃ الہندوستان کے ٹھکانوں، سہولت کاری کے مراکز اور بارڈر سے متصل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنا رہا ہے ، پاکستان تمام کاروائیاں انٹیلیجنس کی بنیاد پرصرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کاری کے مراکز کے خلاف کر رہا ہے، ان آپریشنز میں سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانے کے تاثر پر مبنی رپورٹس نہ صرف حقائق کے منافی بلکہ دہشتگردی کے نتیجے میں معصوم پاکستانی جانوں کے ضیاع سے رو گردانی کے مترادف ہیں۔شفاف رپورٹنگ کے تقاضوں کے پیش نظر وزارتِ اطلاعات اور سیکورٹی ادارے باقاعدگی سے آپریشن غضب للحق کی پیش رفت سے میڈیا اور عوام کو آگاہ کر رہی ہے۔ ان کارروائیوں کی مستند ویڈیو رپورٹس بھی ساتھ جاری کی جا رہی ہیں، افغانستان کے طالبان رجیم کے ہاتھوں زیر عتاب طبقات غضب للحق کو خوش آئند پیش رفت قرار دے رہے ہیں، آپریشن غضب للحق کے دوران افغان آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور انکے ہندوستانی سرپرست میڈیا کی طرف سے جھوٹی اورمن گھڑہت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ۔باہمی اتحاد اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ناگزیر ہے۔ایران اور خطے کے حالات کے تناظر میں پاکستان کی سلامتی کو خطرہ قرار دینے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ، پاکستان تمام طاقتوں اور ممالک کے ساتھ تعمیری اور مثبت روابط پر یقین رکھتا ہے اور اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔سینئر پاکستانی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق پاک افغان جنگ کے دوران پاکستان نے جو فوجی کارروائی شروع کی ہے اسے آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے

گزشتہ دو دہائیوں میں پاک فوج کی جانب سے کیے جانے والے اکثر آپریشنز کے نام مذہبی یا عربی زبان سے لیے گئے جس کا مقصد اس آپریشن کو اخلاقی یا نظریاتی پس منظر دینا بھی ہے، تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ایک آپریشن ایسا بھی کیا گیا جس کا نام انگریزی زبان سے لیا گیا۔
افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون 2014 کو عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کو ‘ضربِ عضب’ کا نام دیا گیا جو عربی زبان کا لفظ ہے۔ ضرب عضب دو الفاظ کا مرکب ہے، ضرب جس کا مطلب ہے وار اور دوسرا لفظ عضب ہے جس کا مطلب ہے نبی پاک ﷺ کی تلوار۔ اس طرح ضربِ عضب کا مطلب حق کی تلوار کا وار ہے۔
پاک فوج نے فروری 2017ء میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں تلاشی کی کارروائیاں کیں اور کئی افراد کو حراست میں لیا اس آپریشن کو رد الفساد کا نام دیا گیا جس کا مطلب فساد کو رد کرنا یا فساد یعنی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔پاک بھارت کشیدگی کے دوران 2019 میں بھارتی فضائی حملے کے جواب میں پاکستان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارتی پائلٹ ابھینندن کو بھی گرفتار کیا گیاتھا۔ یہ نام انگزیری زبان سے لیا گیا، سوئفٹ کا مطلب تیز اور ریٹارٹ کا مطلب جواب یا ردعمل ہے یعنی سوئفٹ ریٹارٹ کا مطلب فوری جواب ہے۔گزشتہ سال مئی کے دوران بھی پاکستان نے بھارت کے خلات آپریشن بنیان مرصوص کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارت کے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا تھا اور متعدد بھارتی فوجی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے، بنیان مرصوص کا لفظ بھی قرآن کی آیت سے لیا گیا جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی دیوار۔
اسی طرح رواں ماہ میں پاک فوج نے افغانستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے سیکڑوں طالبان مارے، افغانستان کی متعدد پوسٹیں تباہ کیں اور کئی چوکیوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔
افغانستان کے خلاف اس آپریشن کو غضب للحق کا نام دیا گیا، غضب للحق تین الفاظ کا مرکب ہے یعنی غضب جس کا مطلب ہے غصہ یا ردعمل، دوسرا لفظ لل ہے جس کا مطلب ہے کے لیے یا کی خاطر جبکہ تیسرا لفظ حق ہے جس کا مطلب سچائی ہے۔ یعنی غضب للحق کا مطلب حق یا سچائی کے لیے غصہ یا ردعمل ہے اور یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ حق کے دفاع کی خاطر کیا جانے والا ردعمل ہے۔
افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا، 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاک فوج نے افغانستان میں قائم فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان رجیم نے اسے بنیاد بناکر خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹر میں 53مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاک فوج نے حق کے دفاع کی خاطر آپریشن غضب للحق کا آغاز کر دیا۔اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں دہشت گرد حملوں میں مارچ کے مقابلے 42 فیصد کمی ہوئی، اپریل میں ملک بھر میں دہشتگردی کے 85 حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ مارچ میں حملوں کی یہ تعداد 146 تھی۔
سکیورٹی فورسز نے اپریل میں 224 دہشت گرد جہنم واصل کیے، اپریل میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 67 افراد جاں بحق ہوئے، مارچ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 106 تھی۔
ماضی میں کئی بار پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس بار ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم مسئلہ ان عناصر کا ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے صرف ایک مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ مطالبہ انتہائی معقول ہے جس پر افغانستان حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو افغان طالبان کو اس معاملے میں واضح اور موثر اقدامات کرنے سے روکتے ہیں؟ اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان حکومت خود اندرونی اور بیرونی پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے ، دوسری طرف مختلف عسکری گروہوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ایک حقیقت ہیں۔ تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی، کیونکہ ایک ریاست کے طور پر افغانستان کو اپنی سرزمین کے پرامن استعمال کی ذمے داری لینا ہوگی۔کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک نہ صرف منظم ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پالیسی کو مزید مؤثر بنائے اور ایسے خطرات کا بروقت سدباب کرے۔ افغان طالبان کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید اپنی جگہ، مگر پاکستان کا یہ کہنا کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں، معاملے کو واضح کر دیتا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔اس پورے تناظر میں بھارت کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے۔
یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔ بھارت کا یہ گھناؤنا کردار نیا نہیں، بلکہ ماضی میں بھی ایسے شواہد سامنے آتے رہے ہیں جو اس کے تخریبی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان ہی ان کے اپنے مفاد میں ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000101

artikel 000000102

artikel 000000103

artikel 000000104

artikel 000000105

artikel 000000106

artikel 000000107

artikel 000000108

artikel 000000109

artikel 000000110

artikel 000000111

artikel 000000112

artikel 000000113

artikel 000000114

artikel 000000115

artikel 000000116

artikel 000000117

artikel 000000118

artikel 000000119

artikel 000000120

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download