LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) سفارتی دباؤ، متضاد بیانات اور اسلام آباد کا ثالثی کردار

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) بین الاقوامی سیاست کے بند کمروں سے ملنے والی حالیہ اور مستند ترین تفصیلات کے مطابق، تہران اور واشنگٹن کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے لیے اسلام آباد کا ثالثی کردار اس وقت دنیا کا اہم ترین سفارتی مشن بن چکا ہے۔ برکس (برکس) وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کا باضابطہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل ناکام نہیں ہوا، بلکہ حالیہ تعطل اور شدید مشکلات کے باوجود اسلام آباد اب بھی دونوں ایٹمی اور عسکری طاقتوں کے مابین واحد فعال پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کی توثیق کی ہے کہ ثالثی کا عمل ناکام نہیں ہوا۔ ترجمان کا کہنا تھا:”پاکستان کا سفارتی چینل تہران اور واشنگٹن کے مابین بالواسطہ رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل فعال ہے۔ اگرچہ دونوں فریقین کی جانب سے حالیہ تجاویز کی دستبرداری کے بعد مذاکرات کو مشکلات کا سامنا ہے، لیکن اسلام آباد اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ سفارت کاری کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے اور تعطل کو دور کرنے کے لیے ابھی بھی سفارتی گنجائش موجود ہے۔” واضح موقف پر زوراعتماد کے فقدان اور واشنگٹن کے متضاد پیغامات کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کٹی پھٹی پالیسی کے بجائے سنجیدہ، واضح اور پائیدار موقف اپنائیں۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی تنازعے کا عسکری حل ممکن نہیں ہے، اور خطے پر یکطرفہ عسکری یا اقتصادی دباؤ ڈالنے سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پچیدہ ہو جاتے ہیں۔۔
آبنائے ہرمز اور بحری تجارتی راستوں کا تحفظ;
آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے تناظر میں، پاکستانی دفترِ خارجہ نے بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کی سلامتی پر پاکستان کا اصولی موقف دہرایا ہے:”پاکستان آبنائے ہرمز سمیت تمام بین الاقوامی تجارتی راستوں کو پرامن اور بلا تعطل کھلا رکھنے کا حامی ہے۔ ہم عمان اور ایران کے مشترکہ بحری نظام کے تحت غیر جانبدار تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کو کسی بھی قسم کے عسکری تصادم سے محفوظ رکھنا اس وقت پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔”مستقبل کا روڈ میپ: پاکستان کا اگلا سفارتی قدمدفترِ خارجہ کے اسٹریٹجک ذرائع کے مطابق، پاکستان آنے والے دنوں میں اپنی بیک چینل ڈپلومیسی کو مزید تیز کرنے جا رہا ہے۔ پاکستان کا اگلا ہدف ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اور تہران دونوں کو دوبارہ ایک ایسے متفقہ فریم ورک پر لانا ہے جہاں “بھروسے کے بحران” کو ختم کیا جا سکے۔ بطور سینئر صحافی، میرا یہ تجزیہ ہے کہ دفترِ خارجہ کا یہ متوازن اور اصولی ردِعمل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی نئی جنگی محاذ آرائی کو روکنے کے لیے ایک انتہائی ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی یہ کوششیں نہ صرف مسلم امہ بلکہ عالمی امن کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ مذاکرات میں حالیہ تعطل اس وقت پیدا ہوا جب گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ نے ایک دوسرے کی جانب سے پیش کی جانے والی تازہ ترین تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس تجاویز کے تبادلے کی ناکامی کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین ڈائیلاگ کا عمل عارضی جمود کا شکار ہے، لیکن اسلام آباد کا سفارتی چینل اب بھی دونوں دارالحکومتوں کو جوڑے رکھنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کے باوجود سفارت کاری کا راستہ بالکل بند نہیں ہوا ہے۔. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اب بھی ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم اس عمل کو اس وقت شدید ترین سفارتی اور تکنیکی مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکا کی جانب سے ملنے والے متضاد پیغامات نے تہران کو واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر شکوک میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران صرف اسی صورت مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جب امریکا سنجیدہ اور واضح مؤقف اختیار کرے۔برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل ناکام نہیں ہوا، تاہم اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کی تازہ تجاویز مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے متضاد بیانات مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں اور امریکیوں پر اعتبار نہ کرنے کے تمام جواز موجود ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اس بار سب سے بڑا سوال بھروسے کا ہے، ہمیں ان پر اعتبار نہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ تہران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ایران نے ایک خونریز جنگ میں صرف اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے تمام تر دباؤ اور کارروائیوں کے باوجود 40 روز میں کوئی ہدف حاصل نہیں کرسکا، جب کہ موجودہ مذاکراتی عمل میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذمے دار ایران نہیں، تاہم یہ راستہ صرف دشمن ممالک کے لیے بند ہے, واضح کیا کہ ایران بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا چاہتا ہے اور ایران و عمان مشترکہ نظام کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کو سنبھالیں گے۔ تاہم تہران سے حالتِ جنگ میں نہ ہونے والے تمام بحری جہاز اس راستے سے گزر سکتے ہیں، انہیں ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوگا۔ مزید کہا کہ ایران جنگ بندی کو برقرار رکھ کر سفارت کاری کو موقع دینا چاہتا ہے، اگر حالات خراب ہوئے تو دوبارہ محاذ آرائی کے لیے بھی تیار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مستقل امن معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ان کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے، جب کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو میں آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دیا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل موجود نہیں اور یہ حقیقت سب پر واضح ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق جنگ سے کچھ حاصل نہ ہونے پر امریکا نے دوبارہ مذاکرات کی پیش کش کی، جب کہ ایران اب بھی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکا بھی سنجیدگی دکھائے۔ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا اور اس کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ان کے مطابق ایران جے سی پی او اے پر مکمل عملدرآمد کررہا تھا اور برسوں سے امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ بھی کررہا ہے۔ ایران کسی بھی دباؤ یا کارروائی کی مزاحمت کرے گا اور جو اہداف جنگ سے حاصل نہ ہوسکے، وہ مذاکرات سے بھی حاصل نہیں کیے جاسکتے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی موجودہ خارجہ پالیسی، مذاکراتی موقف اور علاقائی سیکیورٹی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کے موقف کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
مذاکرات کی صورتِ حال امید باقی ہے: اسلام آباد مذاکرات فی الحال مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے۔
امریکی رکاوٹیں: واشنگٹن کے متضاد بیانات نے عمل کو پیچیدہ بنایا۔
بے اعتمادی:
امریکی رویے کی وجہ سے اب اس پر اعتماد ممکن نہیں رہا۔ جنگ اور دفاعی موقفجارحیت کی نفی: ایران نے کسی جنگ کی ابتدا نہیں کی ہے۔دفاعی حق: خونریز تنازع میں ایران کا کردار صرف اپنے دفاع تک محدود رہا۔
آبنائے ہرمز کی پالیسی ذمہ داری کا تعین:
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال کی ذمہ داری ایران پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
مخصوص پابندی: یہ بحری راستہ صرف ایران کے دشمن ممالک کے لیے محدود کیا گیا ہے
بین الاقوامی سفارت کاری کے بند کمروں سے ملنے والی تازہ ترین تفصیلات کے مطابق، تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری بالواسطہ مذاکرات کے حوالے سے سب سے اہم اور مثبت پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد کی ثالثی میں جاری یہ عمل فی الحال مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا۔ برکس (BRICS) وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اب بھی ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم اس عمل کو اس وقت شدید ترین سفارتی اور تکنیکی مشکلات کا سامنا ہے۔ بھروسے کا بحران ;
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں سب سے بڑی رکاوٹ “بھروسے کا فقدان” ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ امریکہ ایک طرف پسِ پردہ پیغامات بھیجتا ہے جبکہ دوسری طرف اس کے عوامی بیانات اور عملی اقدامات بالکل برعکس ہوتے ہیں۔
ان متضاد امریکی پیغامات نے تہران کو واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر شدید شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں مذاکرات کی میز پر تعمیری بات چیت کے لیے تیار ہے
جب امریکہ اپنے کٹی پھٹی پالیسی کو چھوڑ کر ایک واضح، سنجیدہ اور مستقل مؤقف اختیار کرے۔ عباس عراقچی کے مطابق، تہران نے کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ایک خونریز معرکے میں صرف اپنا دفاع کیا ہے، اور امریکہ اپنے تمام تر فوجی و اقتصادی دباؤ کے باوجود گزشتہ 40 روز میں اپنا کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ انکشاف انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ پاک-امریکہ-ایران بالواسطہ مذاکرات میں حالیہ تعطل اور شدید مشکلات کے باوجود، اسلام آباد کی ثالثی کا عمل فی الحال مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا ہے۔ عالمی تزویراتی بساط پر یہ پاکستان کی سفارت کاری کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے کہ وہ واشنگٹن اور تہران جیسے سخت حریفوں کے مابین اب بھی ایک فعال اور معتبر سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم، گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی تازہ تجاویز کو مسترد کیا جانا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ “امریکہ کا صبر اب ختم ہو رہا ہے”، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ ایک بار پھر کسی بڑے بحران کی زد میں آ سکتا ہے۔اس پورے تنازعے کا سب سے تشویشناک پہلو اعتماد کا وہ شدید فقدان ہے جس کا ذکر ایرانی وزیر خارجہ نے واشنگٹن کے متضاد پیغامات کے تناظر میں کیا۔ سفارت کاری میں جب تک فریقین کے ارادوں میں واضح مؤقف اور اخلاصِ نیت شامل نہ ہو، تب تک کوئی بھی ثالثی مستقل امن کی ضامن نہیں بن سکتی۔ ایران کا یہ اصولی مؤقف وزنی ہے کہ جو اہداف گزشتہ ۴۰ روز کے عسکری دباؤ سے حاصل نہیں ہو سکے، وہ مذاکرات کی میز پر دھمکیوں سے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ دوسری طرف، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایران کا جوہری پروگرام ایسے پچیدہ معاملات ہیں جن پر امریکہ اور ایران کے اپنے اپنے اسٹریٹجک مفادات وابستہ ہیں، اور صدر ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کو اس معاملے میں شامل کرنا بحران کو مزید بین الاقوامی رنگ دے رہا ہے۔روزنامہ کے اداریے کی رائے میں، آبنائے ہرمز کو عمان اور ایران کے مشترکہ نظام کے تحت غیر جانبدار ممالک کے لیے کھلا رکھنے کا تہران کا اعلان ایک مثبت سفارتی پیش رفت ہے، جس سے عالمی معیشت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ اب جبکہ مذاکرات میں امید کی ایک باریک سی رمق باقی ہے، یہ پاکستان کے دفترِ خارجہ اور اعلیٰ قیادت کا کڑا امتحان ہے کہ وہ واشنگٹن کو تہران کے تحفظات دور کرنے اور متضاد بیانات کے بجائے ایک واضح روڈ میپ اختیار کرنے پر آمادہ کرے۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، اور خطے کو ایک ہولناک محاذ آرائی سے بچانے کے لیے اسلام آباد کو اپنی ثالثی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز: عمان اور ایران کا مشترکہ بحری نظاماس پورے تنازعے کا سب سے حساس تزویراتی (Strategic) نقطہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے۔ ایرانی خارجہ پالیسی نے واضح کر دیا ہے کہ ایران اس عالمی بحری گزرگاہ کو بند کرنے کا خواہش مند نہیں ہے، بلکہ ایران اور عمان ایک مشترکہ نظام کے تحت اس اہم ترین بحری راستے کی نگرانی اور انتظام سنبھالیں گے۔تاہم، ایران نے اپنی سرخ لکیر کھینچتے ہوئے واشنگٹن کو پیغام دیا ہے کہ یہ راستہ صرف ان دشمن ممالک کے لیے بند رہے گا جو تہران کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔ وہ تمام تجارتی اور بحری جہاز جو غیر جانبدار ہیں یا تہران کے ساتھ برسرِپیکار نہیں ہیں، وہ اس راستے سے بلا روک ٹوک گزر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ گزرتے وقت ایرانی بحریہ کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھیں۔ ایران اس بحری گزرگاہ کو کھلا رکھ کر بین الاقوامی تجارت کو سفارت کاری کا موقع دینا چاہتا ہے، لیکن کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں محاذ آرائی کے لیے بھی اس کی فورسز الرٹ ہیں۔ٹرمپ کا انتباہ اور مستقبل کا منظرنامہدوسری جانب، امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر ان کا صبر اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ سے بھی تفصیلی گفتگو کی ہے دوسری طرف، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایران کا جوہری پروگرام ایسے پچیدہ معاملات ہیں جن پر امریکہ اور ایران کے اپنے اپنے اسٹریٹجک مفادات وابستہ ہیں، آبنائے ہرمز کو عمان اور ایران کے مشترکہ نظام کے تحت غیر جانبدار ممالک کے لیے کھلا رکھنے کا تہران کا اعلان ایک مثبت سفارتی پیش رفت ہے، جس سے عالمی معیشت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ اب جبکہ مذاکرات میں امید کی ایک باریک سی رمق باقی ہے، یہ پاکستان کے دفترِ خارجہ اور اعلیٰ قیادت کا کڑا امتحان ہے کہ وہ واشنگٹن کو تہران کے تحفظات دور کرنے اور متضاد بیانات کے بجائے ایک واضح روڈ میپ اختیار کرنے پر آمادہ کرے۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، اور خطے کو ایک ہولناک محاذ آرائی سے بچانے کے لیے اسلام آباد کو اپنی ثالثی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔اسلام آباد کی ثالثی: چیلنجز اور اہم ترین نکات
۱۔ مذاکرات مکمل ناکام کیوں نہیں ہوئے؟گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ نے ایک دوسرے کی تازہ ترین تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن اور تہران کے براہِ راست رابطے منقطع ہو گئے تھے۔ اس نازک موڑ پر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے دونوں ممالک کو بیک چینل ڈپلومیسی (Back-channel Diplomacy) کے ذریعے جوڑے رکھا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق، اسلام آباد کا تیار کردہ مذاکراتی فریم ورک اب بھی میز پر موجود ہے، جس کی وجہ سے امید کی رمق باقی ہے۔
2۔ متضاد امریکی پیغامات کا توڑ;
پاکستان کی ثالثی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کے متضاد پیغامات ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف پاکستان کے ذریعے تہران کو لچک دکھانے کے پیغامات بھیجتا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی سطح پر یہ دھمکی دیتے ہیں کہ “ایران کے معاملے پر ان کا صبر ختم ہو رہا ہے”۔ پاکستان اس وقت امریکہ کو اس کٹی پھٹی اور غیر واضح پالیسی کو ترک کر کے ایک مستقل اور سنجیدہ مؤقف اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
3۔ آبنائے ہرمز پر پاکستان کا سفارتی موقف;امریکہ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے پر ہونے والی گفتگو کے بعد، پاکستان نے اسٹریٹجک سطح پر عمان اور ایران کے مشترکہ بحری نظام کی تائید کی ہے۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ غیر جانبدار اور تجارتی بحری جہازوں کو ایرانی بحریہ کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رکھ کر اس راستے سے گزارا جائے، تاکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو اور خطہ کسی بڑی بحری جنگ سے محفوظ رہے۔پاکستانی ثالثی کا تزویراتی (Strategic) خاکہ ثالث کا نام بنیادی مقصدموجودہ حیثیت سب سے بڑی رکاوٹ اگلا سفارتی قدم اسلام آباد (پاکستان)ایران امریکہ جنگ کا خاتمہ اور جے سی پی او اے (JCPOA) کی بحالی۔کامیاب، لیکن شدید مشکلات کا شکار (مکمل ناکام نہیں ہوا)۔واشنگٹن کے متضاد بیانات اور اعتماد کا شدید فقدان۔ٹرمپ انتظامیہ کو واضح روڈ میپ اور سنجیدگی دکھانے پر مجبور کرنا۔ پاکستان کے لیے کڑا امتحان بطور سینئر صحافی، میرا یہ ماننا ہے کہ 40 روز کی شدید عسکری کارروائیوں اور کارروائیوں کے باوجود جب امریکہ زمین پر کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا، تو عسکری حل کی ناکامی خود بخود پاکستان کی سفارتی میز کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بہت بڑا امتحان ہے کہ وہ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالے اور دوسری طرف تہران کے اس اصولی موقف کا تحفظ کرے کہ دباؤ کے تحت مذاکرات ممکن نہیں۔ اسلام آباد کی سفارتی مہارت ہی اب مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک اور خونریز محاذ آرائی سے بچا سکتی ہے۔ میرا یہ تجزیہ ہے کہ دفترِ خارجہ کا یہ متوازن اور اصولی ردِعمل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی نئی جنگی محاذ آرائی کو روکنے کے لیے ایک انتہائی ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی یہ کوششیں نہ صرف مسلم امہ بلکہ عالمی امن کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں کبھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتیں بلکہ وہ مزید پچیدہ تنازعات کو جنم دیتی ہیں ایران کے حالیہ عسکری دفاع اور جرات مندانہ مزاحمت نے واشنگٹن پر یہ حقیقت پوری طرح واضح کر دی ہے کہ تہران کو طاقت اور یکطرفہ دباؤ کے بل بوتے پر جھکایا نہیں جا سکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ختم ہوتا ہوا صبر اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتا ہوا رابطہ اس بات کی گواہی ہے کہ واشنگٹن اس وقت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور معاشی و عسکری میدان میں ناکامی کے بعد اب سفارتی دباؤ کا سہارا لے رہا ہے۔ ایسے نازک موڑ پر، جب دونوں ایٹمی اور عسکری طاقتوں کے مابین بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں، اسلام آباد کا ثالثی کردار خطے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مثبت بیانات اور پاکستانی دفترِ خارجہ کا باضابطہ، متوازن ردِعمل اس امید کو زندہ رکھتا ہے کہ مذاکرات کا عمل ابھی مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا ہے۔ تاہم، اصل چیلنج واشنگٹن کے متضاد پیغامات اور “اعتماد کا وہ شدید فقدان” ہے جس نے تہران کو شکوک میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی مصلحت کاروں کا اب یہ سب سے بڑا اور کڑا امتحان ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو کٹی پھٹی پالیسی چھوڑنے اور ایک واضح، سنجیدہ موقف اختیار کرنے پر آمادہ کریں۔ آبنائے ہرمز کو عمان اور ایران کے مشترکہ نظام کے تحت غیر جانبدار تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے کا تہران کا اعلان ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہے، جس کا عالمی برادری کو خیرمقدم کرنا چاہیے۔مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک اور خونریز محاذ آرائی سے بچانے کی چابی اب کافی حد تک اسلام آباد کی بیک چینل ڈپلومیسی کے پاس ہے۔ اگر واشنگٹن نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی ترک نہ کی اور دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی، تو سفارت کاری کا یہ آخری دروازہ بھی بند ہو سکتا ہے، جس کا خمیازہ پوری عالمی معیشت کو بھگتنا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے غرور کو پسِ پشت ڈال کر اسلام آباد کے سفارتی فریم ورک کو موقع دیا جائے، کیونکہ دنیا اب کسی اور نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download