LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران امریکہ مذاکرات، پاکستان پرامید’ ثالث؟

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل میں خود کو ایک ‘مثبت اور پرامید’ ثالث کے طور پر برقرار رکھا ہوا ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے تعاون سے شروع کیا گیا امن عمل اس وقت ایک انتہائی حساس اور فعال مرحلے پر ہے، جہاں پاکستان ایک غیر جانبدار اور شفاف سہولت کار کا کردار نبھا رہا ہے۔
موجودہ سفارتی صورتحال کے تناظر میں حقائق درج ذیل ہیں:
امن عمل کی موجودہ صورتحال اور پاکستان:
وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے اس بات کی توثیق کی جا چکی ہے کہ پاکستان کو موصول ہونے والی ایرانی تجاویز اور ردِعمل کو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ دوسرے فریق (امریکہ) تک پہنچا دیا گیا ہے۔
حکومت کی کارروائی:
وزارت خارجہ اس حساس سفارتی مشن پر مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ تاہم، ایک ایماندار ثالث (Honest Facilitator) ہونے کے ناطے، پاکستان دونوں فریقین کے مابین ہونے والی بات چیت کے خفیہ مواد یا سفارتی دستاویزات کی تفصیلات کو پبلک نہ کرنے کے اصول پر سختی سے کاربند ہے تمام تر علاقائی چیلنجز کے باوجود امن کا عمل مکمل طور پر برقرار اور جاری ہے۔مذاکرات کی امیدیں :
پاکستان میں 11 اور 12 اپریل کو ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور (جس کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی تھی) کے بعد، اب اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں اور تیاریاں جاری ہیں۔پاکستان پُرامید: نادرا اور دفترِ خارجہ کے حکام دونوں فریقین کے مابین “زود یا بدیر” (Sooner rather than later) ایک پائیدار امن معاہدے کی توقع پر پُرعزم ہیں۔
اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان اس اہم ترین معاہدے کی میزبانی کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھے گا۔
فیصلہ فریقین کے ہاتھ میں:
ترجمان طاہر اندرابی نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کا کام صرف ایک سازگار ماحول فراہم کرنا، تعطل کو توڑنا اور رابطے بحال رکھنا ہے۔رفتار پیدا کرنا: مذاکرات کو حتمی شکل دینا، اس میں تیزی لانا یا سست روی کا شکار کرنا، بنیادی طور پر براہِ راست بات چیت کرنے والے دونوں مرکزی فریقین (واشنگٹن اور تہران) کا اپنا اختیار اور ذمہ داری ہے۔
حوصلہ برقرار رکھنا:
پاکستان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی عارضی سفارتی تاخیر یا رکاوٹ سے حوصلہ ہارنے کے بجائے مستقل مزاجی سے امن کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔مجموعی طور پر، پاکستان کا سفارتی مشن تہران اور واشنگٹن کے مابین خلیج کو پاٹنے کے لیے تاحال مصروفِ عمل ہے اور خطے کی بحری و معاشی سلامتی کے لیے اس عمل کی کامیابی کے لیے پرامید ہے۔
امریکی حکومت کا حالیہ ردِعمل شدید سفارتی دباؤ، سخت بیانات اور ساتھ ہی پاکستان کے ثالثی کردار پر اعتماد کا ایک ملا جلا امتزاج ہے۔
پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی ایرانی تجاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن کی جانب سے آنے والا حالیہ ترین ردِعمل درج ذیل اہم نکات پر مشتمل ہے:
ایرانی تجاویز کو مسترد کرنا اور ٹرمپ کا شدید ردِعمل:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والے ایران کے 14 نکاتی امن منصوبے کے جواب کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” (Totally Unacceptable) قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے تہران پر سفارتی کھیل کھیلنے کا الزام لگایا ہے۔
سیز فائر خطرے میں:
صدر ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ اپریل میں پاکستان کی کوششوں سے قائم ہونے والی عارضی جنگ بندی اس وقت “لائف سپورٹ” (Massive Life Support) پر ہے، جس کے بچنے کے امکانات محض ایک فیصد رہ گئے ہیں۔
پاکستان بطور ثالث:
امریکی حکومت کا دفاع ثالث تبدیل کرنے سے انکار:
امریکی سینیٹ کے بااثر ریپبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم (Lindsey Graham) سمیت کچھ حلقوں نے پاکستان کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے تھے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کو بطور ثالث ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
پاکستانی قیادت کی تعریف:
امریکی صدر نے جاری سفارتی بحران میں پاکستان کے وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کے کلیدی کردار کی عوامی سطح پر تعریف کی ہے۔ مزید برآں، امریکی کانگریس (ایوانِ نمائندگان) میں ڈیموکریٹک رکن ایل گرین کی جانب سے ایک تعریفی قرارداد بھی پیش کی گئی ہے، جس میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
امریکی مطالبات , ڈیڈ لاک اورایٹمی پروگرام پر اختلاف:
امریکی حکام کے مطابق ایران نے اپنے جواب میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی پر تو توجہ دی ہے، لیکن واشنگٹن کے بنیادی مطالبے یعنی ایران کے جوہری پروگرام (Nuclear Program) پر اپنے موقف میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی، جس کی وجہ سے مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا ہے۔
متبادل فوجی اقدامات پر غور:
سفارتی تعطل کے باعث، امریکہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل کے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنے فوجی اسکورٹ آپریشنز کو دوبارہ فعال کرنے پر غور کر رہا ہے۔اس تمام تر سخت بیان بازی کے باوجود، واشنگٹن نے پاکستان کے ساتھ بیک چینل (خفیہ) سفارتی رابطے مکمل بند نہیں کیے ہیں۔ دفترِ خارجہ کے حکام قطر اور مصر کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور ممکن بنانے کے لیے تاحال کوشاں ہیں۔
دفترِ خارجہ پاکستان کی حالیہ پیش رفت اور اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
1۔ جنگ بندی کی کوششیں :
28 فروری کو شروع ہونے والے پاک-امریکہ-ایران تنازع اور فوجی کارروائیوں کے بعد، پاکستان دونوں فریقین کے درمیان بنیادی سہولت کار (Mediator) کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات: اسلام آباد میں 11 اور 12 اپریل کوہونے والے براہِ راست سفارتی رابطوں کے نتیجے میں ہی عارضی جنگ بندی (Ceasefire) کی مدت میں توسیع ممکن ہو سکی تھی۔
ایرانی جواب کی منتقلی:
ایران کی وزارتِ خارجہ نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 14 نکاتی امریکی امن منصوبے پر اپنا تفصیلی ردِعمل پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
2۔ دفترِ خارجہ مذاکرات پر پُرعزم:
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو اس عمل میں مثبت رہنا چاہیے اور کسی بھی ممکنہ تاخیر یا رکاوٹ سے حوصلہ شکن نہیں ہونا چاہیے۔
فریقین کی ذمہ داری:
پاکستان کا مؤقف ہے کہ بطور ثالث اس کا کام سازگار ماحول فراہم کرنا اور رابطے بحال رکھنا ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنا بنیادی طور پر واشنگٹن اور تہران کی اپنی ذمہ داری ہے۔معاہدے کی توقع:
پاکستانی حکام کو امید ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جلد ہی کسی عبوری یا مستقل معاہدے پر پیش رفت متوقع ہے۔
3۔ عالمی برادری کی حمایت :
پاکستان کے اس تعمیری سفارتی کردار کو چین، سعودی عرب، اور آسٹریا سمیت متعدد عالمی طاقتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے بھی اس تناظر میں تفصیلی رابطہ کیا ہے۔
امریکی قیادت کا اعتراف:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی قیادت امن قائم کرنے کے لیے اس سفارتی مشن میں شاندار کردار ادا کر رہی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے، پاکستان کا اصرار ہے کہ خطے میں معاشی اور بحری سلامتی (خصوصاً آبنائے ہرمز) کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کی کامیابی ناگزیر ہے ,
ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل اب بھی جاری ہے اور اسلام آباد اس عمل میں ’مثبت اور پرامید‘ انداز میں شریک ہے۔ ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں دونوں فریقین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈیلی میل انٹرنیشنل کے سینئر سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک نے سوال پوچھا کہ ” معرکہ حق کی تقریب کے دوران وزیراعظم پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ فیلڈ مارشل کے ذریعے پاکستان میں ایرانی تجاویز موصول ہوئی ہیں”۔ تو کیا اس پر حکومت پاکستان وزارت خارجہ نے مزید کارروائی کی ہے؟یہ بھی پوچھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے راستے تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے۔ تو یہ امن عمل اس وقت کہاں کھڑا ہے؟ امیدیں ہیں کہ کیا مذاکرات کا دوسرا دور ہو سکتا ہے؟ جواب میں ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کہا کہ ”امن کاعمل برقرار ہے،” جاری ہے ”پاکستان مصروف ہے , پاکستان پرامید ہے”, امن کے عمل میں رفتار پیدا کرنا بنیادی طور پر بات چیت کرنے والوں کا اختیار ہے” وزیر اعظم پاکستان نے اس کی تصدیق کی اور پیغام تیزی سے دوسری طرف پہنچا دیا گیا۔
یا در ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد پاکستان نے ثالثی کی کوششیں کیں۔ 11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلے سے جاری دو ہفتوں کے لیے سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی تھی۔
اس تناظر میں 28 فروری کو ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کا سفارتی کردار خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں انتہائی اہم ثابت ہوا ہے سفارتی صورتحال کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی سیز فائر میں توسیع:
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ان مذاکرات کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی (Ceasefire) کی مدت میں توسیع ممکن ہو سکی، جس سے مزید جانی و مالی نقصان کا خطرہ ٹل گیا۔
اعتماد کی بحالی:
واشنگٹن اور تہران کے وفود کا اسلام آباد آنا اس بات کا ثبوت تھا کہ دونوں فریقین سنگین کشیدگی کے باوجود پاکستان کی غیر جانبدارانہ ثالثی پر مکمل اعتماد کرتے ہیں
پاکستان پر دباؤ اور چیلنجز :
ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کا فوجی و سفارتی گٹھ جوڑ ہے، جبکہ دوسری طرف ایران پاکستان کا برادر اسلامی پڑوسی ملک ہے ایسے نازک ماحول میں توازن برقرار رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا امتحان رہا ہے
عالمی حمایت کا حصول:
پاکستان نے اس امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے چین اور دیگر بڑی طاقتوں کو بھی اعتماد میں لیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو مضبوط پشت پناہی حاصل ہو سکے
اگلا امتحانی مرحلہ تجاویز پر عمل درآمد:
جیسا کہ ترجمان دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے، پاکستان نے ایرانی تجاویز کو واشنگٹن تک پہنچا دیا ہے، اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان شرائط کا کیا جواب دیتا ہے
مستقل معاہدے کی کوشش:
عارضی سیز فائر میں توسیع ایک وقتی حل ہے۔ پاکستان کی اصل کوشش یہ ہے کہ مذاکرات کے اگلے دور میں کسی ایسے فارمولے پر اتفاق ہو جائے جو خطے میں مستقل امن اور بحری راستوں (خصوصاً آبنائے ہرمز) کی سلامتی کو یقینی بنا سکے وزیراعظم شہباز شریف نے 10 مئی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز پر ’جواب موصول ہوا ہے،گذشتہ ہفتے ایک تجویز موصول ہوئی تھی جسے فوری طور پر دوسرے فریق تک پہنچا دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ’فی الحال معاملہ اسی مرحلے پر ہے۔ اگرچہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا، تاہم پاکستان اس تاخیر سے مایوس نہیں ہے۔ ’امن کا عمل برقرار ہے، ہم پرامید ہیں اور رابطے میں ہیں۔ مزید کہا کہ امن کے عمل کو بڑھانا بنیادی طور پر دونوں مرکزی فریقین کی ذمہ داری ہے، جبکہ سہولت کاروں کا کردار مثبت ماحول برقرار رکھنا اور رابطے جاری رکھنا ہوتا ہے۔ ’ہمیں مثبت رہنا اور رابطے برقرار رکھنے چاہییں اور کسی بھی ممکنہ تاخیر سے حوصلہ شکن نہیں ہونا چاہیے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ ایران دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ ثالث پاکستان کو اپنے موقف سے آگاہ کر دے گا۔
دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والے خطرات اور اس کے اثرات کے پیش نظر حکومت نے اہم ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستانی سفیروں کی مِنی کانفرنس کل اسلام آباد میں ہوگی، مشرق وسطیٰ میں تعینات سفیروں کو شرکت کے لیے بلایا گیا ہے، اس کے علاوہ خطے کے اہم ممالک میں تعینات سفرا بھی شریک ہوں گے۔ امریکا، سعودی عرب، یواےای،کویت، قطر، عمان اور اردن میں تعینات پاکستانی سفیر شرکت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کانفرنس کی سفارشات حکومت کو پیش کی جائیں گی، کانفرنس کا مقصد خطے کی موجودہ صورتحال میں ملکی مفادات کا بھر پور تحفظ کرنا ہے۔ اجلاس میں پاکستان کے ثالثی کردار کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ بھی لیا جائےگا۔دوسری طرف پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تمام ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق برابری کے اصولوں کو اپنی سفارتی کوششوں کی بنیاد بنایا ہے اس پائیدار اصولی موقف کے تحت پاکستان کا موجودہ سفارتی عمل درج ذیل خطوط پر استوار ہے:
1۔ خودمختاری کا احترام اور سیکیورٹی ضمانتیں :
پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ ایران ہو یا امریکہ، خطے کے امن کے لیے دونوں فریقین کی جغرافیائی حدود اور خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے
علاقائی طاقتوں کا توازن:
پاکستان کسی ایک فریق کی حمایت میں دوسرے کے حقوق کی پامالی کا حامی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ بیجنگ اور ریاض جیسے قریبی شراکت دار بھی پاکستان کے اس غیر جانبدارانہ اور اصولی کردار کی توثیق کر رہے ہیں
2۔ علاقائی امن کے لیے مستقبل کا روڈ میپ :
تمام تر حالیہ تلخ بیانات اور واشنگٹن کی جانب سے ایرانی تجاویز پر تحفظات کے باوجود، پاکستان اب بھی اسلام آباد میں مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کے لیے پرامید ہے تاکہ سفارتی تعطل کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے
بیک چینل ڈپلومیسی:
دفترِ خارجہ دیگر علاقائی سہولت کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سیز فائر کو مکمل خاتمے سے بچایا جا سکے اور واشنگٹن کے تحفظات کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایرانی مؤقف میں نرمی لائی جا سکے
معاشی اور تجارتی سلامتی کا تحفظ :
پاکستان کے لیے یہ امن عمل صرف سیاسی اہمیت کا حامل نہیں، بلکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت پاکستان کی اپنی معاشی بقا کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے، جس کے لیے پاکستان دونوں فریقین کو مسلسل تحمل کی ترغیب دے رہا ہے
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے نکات پر متفق نہیں ہو سکے تھے اور صدر ٹرمپ نے ایران کی تجاویز کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
آبنائے ہرمز پہلے سے بند ہے جس کی وجہ سے عالمی طور پر توانائی کے ذرائع کی فراہمی کا سلسلہ محدود ہے۔رپورٹ کے مطابق پیر کو برینٹ کروڈ کی قیمت میں تین اعشاریہ 14 ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد تیل کی قیمت 104 اعشاریہ 47 ڈالر فی ہو گئی ہے جو کہ حساب سے ایک اعشاریہ 23 فیصد تک اضافہ ہے۔
اسی طرح خام تیل کی قیمت 98 اعشاریہ 51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو کہ پچھلے سیشن کے مقابلے میں زیرو اعشاریہ 64 فیصد اضافہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والا مذاکرات کا سلسلہ کافی روز سے جاری ہے تاہم اس تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب امن مذاکرات کے لیے امریکہ کی جانب سے ایران کو بھجوائی گئی تجاویز پر تہران کا جواب صدر ٹرمپ کے پاس پہنچاانہوں نے ایران کے جواب کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے دورے پر بیجنگ پہنچنے والے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دوسرے معاملات کے علاوہ ایران کے ایشو پر بھی بات چیت کریں گے۔امید کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ بیجنگ کو اس بات پر آمادہ کر پائیں گے کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مکمل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی یہ حالیہ سفارتی مہم ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر ایک وسیع تر علاقائی اتحاد (Regional Bloc) بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے بنیادی سفارتی مقاصد درج ذیل ہیں:
1۔ قطر اور آذربائیجان کے ساتھ روابط :
قطر طویل عرصے سے امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے مابین ایک کامیاب اور معتبر ثالث رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے قطری قیادت سے رابطے کا مقصد ایران امریکہ تنازع میں قطر کے وسیع سفارتی تجربے اور بیک چینل چینلز کو یکجا کرنا ہے تاکہ اسلام آباد امن عمل کو مضبوط کیا جا سکے۔
آذربائیجان کا تزویراتی کردار:
آذربائیجان کے ایران کے ساتھ جغرافیائی اور حالیہ برسوں میں پیچیدہ تعلقات رہے ہیں۔ پاکستان آذربائیجان کو اس امن عمل میں شامل کر کے وسطی ایشیا اور قفقاز (Caucasus) کے خطے میں سلامتی کی ضمانتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔
2۔ پاکستان اور اقوامِ متحدہ (UN) کا مشترکہ فریم ورک : سینیٹر اسحاق ڈار کے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے سے رابطوں کا مقصد اس دو طرفہ ثالثی کو بین الاقوامی قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اگر فریقین کسی معاہدے پر پہنچیں، تو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) اس کی توثیق کرے۔علاقائی وزرائے خارجہ کی ہمنوائی: مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو اعتماد میں لے کر پاکستان واشنگٹن اور تہران پر یہ واضح کر رہا ہے کہ خطے کا کوئی بھی ملک نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور معاشی بقا کے لیے سیز فائر میں مستقل توسیع ناگزیر ہے۔
3۔ سفارتی کوششوں کا ممکنہ نتیجہ :
قطر، مصر اور چین کے سفارتی وزن کو شامل کر کے پاکستان اب امریکی صدر کے حالیہ سخت موقف جس میں انہوں نے ایرانی تجاویز کو ناقابلِ قبول کہا تھا کو نرم کرنے اور ایران کو جوہری پروگرام پر لچک دکھانے کے لیے ایک نیا “مشترکہ امن فارمولا” تیار کر رہا ہے
ایران کے حالیہ جوابی مؤقف اور اس سفارتی بحران پر پاکستانی پارلیمنٹ کے فیصلوں کی تفصیلی صورتحال درج ذیل ہے:
1۔ ایران کا حالیہ جوابی مؤقف اور شرائط ;
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیانات کے مطابق، تہران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو اپنا 14 نکاتی امن منصوبہ ارسال کیا ہے۔
ایران کے مؤقف کے اہم ترین نکات یہ ہیں:
مذاکرات کا واحد راستہ:
ایرانی اسپیکر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کے پاس تہران کی ان 14 تجاویز کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے۔
بنیادی مطالبات:
ایران کا اصرار ہے کہ کسی بھی مستقل امن معاہدے کے لیے امریکہ کو ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی، خلیج میں منجمد اثاثے بحال کرنے ہوں گے، اور ایران کے “آئینی حقوق” تسلیم کرنے ہوں گے۔
تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تجاویز کو مسترد کر کے سیز فائر ختم کیا، تو ایران ہر قسم کی عسکری صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔
2۔ پاکستانی پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد اور فیصلے;
پاکستان کی پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ پالیسی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں:
اصولی غیر جانبداری کا تحفظ:
پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کے مطابق، پاکستان اس تنازع میں کسی بھی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستان نے واضح طور پر ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے ایرانی عسکری طیاروں کو اپنے ہاں پناہ فراہم کی ہے۔
علاقائی سلامتی کی ترجیح:
پارلیمنٹ نے حکومت اور مقتدر حلقوں کو مینڈیٹ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب کے تجارتی راستوں کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی کو تیز کیا جائے۔
دوسرے دور کی میزبانی کی توثیق:
پارلیمنٹ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرنے کے فیصلے کی مکمل توثیق کی ہے تاکہ سیز فائر کو بچایا جا سکے۔
3۔ عالمی برادری میں پاکستان کے کردار کی پذیرائی;
پاکستانی پارلیمنٹ کے ان اصولی فیصلوں اور سفارتی مہم کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی ملی ہے:
امریکی ایوانِ نمائندگان (Congress):
امریکی کانگریس کے رکن الگرین نے ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز میں پاکستان کے حق میں ایک بڑی تعریفی قرارداد پیش کی ہے۔ اس قرارداد میں پاکستان کو ایک “غیر جانبدار، مخلص اور قابلِ اعتماد” ثالث تسلیم کیا گیا ہے، جس نے شہروں کی بندش اور لاجسٹک مشکلات کے باوجود امن مذاکرات کے لیے محفوظ ترین ماحول فراہم کیا۔برطانوی پارلیمنٹ اور چین کی تائید: برطانوی پارلیمنٹ اور چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے بھی پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اس مشن کی مکمل سیاسی تائید کا اعلان کیا ہے۔پاکستان کا دارالحکومت اس وقت تہران اور واشنگٹن کے مابین ممکنہ بڑے عسکری ٹکراؤ (امریکہ کے پراجیکٹ فریڈم پلس آپریشز) کو روکنے کے لیے حتمی سفارتی پُل بنا ہوا ہے۔
اسلام آباد اس وقت مشرقِ وسطیٰ کو ایک تباہ کن علاقائی جنگ سے بچانے کے لیے عالمی سفارت کاری کا سب سے اہم مرکز بن چکا ہے۔ اگر امریکہ کے “پراجیکٹ فریڈم پلس” (Project Freedom Plus) کے تحت ممکنہ عسکری آپریشنز شروع ہوتے ہیں، تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت اور سیکیورٹی پر پڑیں گے، اسی لیے پاکستانی قیادت اس پل کو گرنے نہیں دے رہی۔آنے والے دنوں میں اس نازک صورتحال کے حوالے سے تین اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں:
1۔ سیز فائر کو برقرار رکھنے کا چیلنجاپریل میں پاکستان کی کوششوں سے ہونے والی عارضی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد، پاکستان کا فوری ہدف یہ ہے کہ دونوں فریقین کو کسی بھی جارحانہ عسکری اقدام سے روکا جائے تاکہ اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور ممکن ہو سکے
。2۔ کثیر الجہتی (Multilateral) سفارت کاری کا آغازپاکستان صرف اکیلے ہی نہیں، بلکہ قطر، چین اور مصر کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل پر غور کر رہا ہے تاکہ امریکہ پر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے اور ایران کو جوہری و بحری سلامتی کے معاملات پر مزید لچک دکھانے پر آمادہ کیا جا سکے
。3۔ پاکستان کے اپنے تزویراتی مفادات;
پاکستان کے لیے یہ ثالثی صرف اخلاقی نہیں بلکہ سٹریٹیجک ضرورت ہے:توانائی کی سیکیورٹی: خلیج فارس میں کشیدگی سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ ہے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔بحری تجارتی راستے: گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کی لائف لائن “آبنائے ہرمز” کی سلامتی سے جڑی ہے، جس کا تحفظ پاکستان کی اولین ترجیح ہے

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download