LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ”امریکا اور ایران ,اسلام آباد مذاکرات”پاکستانی سیاسی ,عسکری قیادت کی کامیاب کوششیں

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکا ,ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت کی وجہ سے ہیں,
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پیغام میں خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے وفود کو جمعہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے براہِ راست مذاکرات کیے جا سکیں,
سینئر پاکستانی سفارتی نامہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق یہ تسلیم کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد جنگ دوبارہ شروع نہیں ہو گی” دنیا دیکھ رہی ہے اور سچ جانتی ہے، دنیا کے تمام F-35 تیل کے ایک بیرل کی قیمت پر نہیں جیت پائیں گے”۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کی اندرونی تفصیلات سامنے آ ئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ملک کی سول اور عسکری قیادت نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے دن رات ایک کر دیئے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پاکستانی قیادت کے لیے انتہائی مشکل اور اعصاب شکن تھا کیونکہ ایک طرف جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے اور دوسری طرف وقت تیزی سے نکلا جا رہا تھا

۔ اس نازک صورتحال میں پاکستان نے بیک وقت امریکا، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ رابطوں کا جال بچھایا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس عمل کے دوران چین اور روس جیسی عالمی قوتوں کے ساتھ دن میں تین تین مرتبہ رابطے کیے گئے تاکہ ایک مضبوط عالمی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔ اس مشن کو مکمل کرنے کے لیے دو اہم مراحل طے کیے گئے، جس میں پہلا مرحلہ منگل کی صبح سے شروع ہو کر رات دس بجے تک جاری رہا، جبکہ دوسرا مرحلہ شام چھ بجے سے شروع ہوا جو رات ساڑھے نو بجے تک چلتا رہا۔ تاہم سب سے اہم اور فیصلہ کن رابطے رات پونے گیارہ بجے شروع ہوئے جو مسلسل اگلی صبح چار بجے تک جاری رہے۔ان تمام رابطوں میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر براہِ راست خود موجود تھے اور مختلف ممالک کی قیادت سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس پورے مشن میں وزارتِ خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں نے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا اور تمام معاملات کو انتہائی ذمہ داری اور رازداری کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ پاکستانی قیادت کی ان مسلسل کاوشوں کا مقصد صرف ایک تھا کہ کسی بھی طرح جنگ کی آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ یہ ایک ایسا مشن تھا جس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور ہر قدم بہت پھونک پھونک کر رکھا گیا۔ آخر کار پاکستان کی یہ مخلصانہ کوششیں رنگ لائیں اور فریقین کے جنگ بندی پر آمادہ ہونے پر دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اتنی بڑی طاقتیں پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کر رہی ہیں۔
پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، جسے عالمی سطح پر پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے, ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطے میں اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے اہم رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

یہ جنگ بندی لبنان سمیت ہر اس مقام پر نافذ العمل ہوگی جہاں دونوں ممالک کے مفادات براہِ راست ٹکرا رہے ہیں,
پاکستان نے امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا ایک بڑا حصہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے پر مبنی ہوگا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور اقتصادی ضمانتیں شامل ہیں۔
عالمی پذیرائی: یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتوں نے پاکستان کے اس مصالحانہ کردار کو سراہا ہے۔
اس سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں,
`عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، ایران نے مذاکرات کے دوران دو ہفتوں کے لیے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی ہے جس کے بعد اب دونوں ممالک کے وفود جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اس اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ایران اور امریکا اپنے اتحادیوں سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔ جنہیں حتمی معاہدے کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دیتا ہوں۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا کے وفود کے درمیان جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات خطے میں پائیدار امن کا سبب بنیں گے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو بدھ کی صبح تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے ختم ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل فریقین نے عارضی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر اتفاق کیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب ہم ایک طویل مدتی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی امن منصوبے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں پر بمباری کا فیصلہ دو ہفتوں کے لیے ملتوی کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی تھی، تاہم اب مذاکرات کا مرکز اسلام آباد بنے گا۔ اگرچہ اس 10 نکاتی منصوبے کا کوئی سرکاری یا آفیشل ورژن سامنے نہیں آیا تاہم ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی طرف سے جاری کردہ سمری میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:
آبنائے ہرمز کو “ایران کی مسلح افواج کے تعاون کے تحت” دوبارہ کھولا جائے گا۔
ایران کے نام نہاد محور مزاحمت کے “تمام اجزاء” کے خلاف جنگ ختم ہونے والی ہے۔
امریکی افواج “خطے کے اندر تمام اڈوں اور تعیناتی کے مقامات” سے نکل جائیں گی۔
آبنائے ہرمز میں “محفوظ ٹرانزٹ پروٹوکول” کا قیام۔
ایران کو معاوضے کی مکمل ادائیگی۔
تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ہٹانا۔
بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں اور جائیدادوں کی بحالی۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو ‘ناقابل قبول’ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے اسے مذاکرات کی ایک قابل عمل بنیاد تسلیم کرتے ہوئے عارضی طور پر فوجی کارروائی روک دی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں کئی ایسے نکات ہیں جو دہائیوں پر محیط امریکی خارجہ پالیسی کے برعکس ہیں، خاص طور پر خطے سے امریکی فوج کا انخلا اور معاوضے کی ادائیگی۔ تاہم ماہرین اسے ایک بڑی تباہی کو روکنے کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکاکے درمیان بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں جس میں ایران نے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے حق کے ساتھ تمام ضروری ضمانتیں دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
اہم شرائط:
ایران پر عائد پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔
قومی مفادات کا تحفظ اور پائیدار تجاویز۔
صرف جنگ بندی نہیں، بلکہ تنازع کا مکمل خاتمہ زیرِ غور۔

کیا یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا راستہ ہموار کریں گے؟ امریکی صدر کی جانب سے ایران سے جنگ بندی کے اعلان نے اسرائیلی حکومت کو چونکا دیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی تہذیب اجڑنے کے لیے شادیانے بجانےکی تیاری کرنے والوں کے خواب ٹوٹ گئے۔ایران نامی تہذیب ٹرمپ سے 1500 سال پہلے موجود تھی اور اس کے بعد بھی 1500 سال باقی رہے گی۔یاد رہے کہ ایران میں 8 اپریل جوہری ٹیکنالوجی کے حوالے سے تاریخی اہمیت حاصل ہے، جسے عموماً “جوہری ٹیکنالوجی کا قومی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے امریکی صدر نے 8 اپریل 2026 کوآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو بدھ کی صبح تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے ختم ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل فریقین نے عارضی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر اتفاق کیا تھا۔ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کےدن کا انتخاب قومی جوہری ٹیکنالوجی میں ایرانی تاریخی کامیابیوں کی وجہ سے کیا گیا تھا, یاد رہے کہ موجودہ حالات میں جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بعد اسلام آباد مذاکرات میں ایران کا جوہری مواد اور اس کی ٹیکنالوجی کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کا بنیادی حصہ قرار دی جا رہی ہےحال ہی میں بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب بمباری کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو خط لکھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ 9 اپریل 2006 جو ایرانی کیلنڈر میں 20 فروردین بنتا ہے کو ایرانی سائنسدانوں نے پہلی بار لیبارٹری کی سطح پر یورینیم افزودگی کا مکمل سائیکل کامیابی سے مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا,اس کامیابی کے بعد ایران ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا تھاجن کے پاس پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی مقامی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ ایران ہر سال اس دن کی مناسبت سے اپنی نئی جوہری کامیابیوں کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس دن کے حوالے سے اہم سرگرمیاں دیکھی گئیں سینٹری فیوجز کی نئی اقسام، لیزر ٹیکنالوجی اور ریڈیو فارماسیوٹیکلز جیسے شعبوں میں 100 سے زائد نئی سائنسی کامیابیوں کا اعلان کیا جاتا رہا ,اس دن کو ایران پر عائد عالمی پابندیوں کے خلاف “قومی مزاحمت اور سائنسی خود انحصاری” کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب ہم ایک طویل مدتی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے روکے گئے تو ہماری افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی، ہم نے مذاکرات کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے واضح کیا ہے کہ اگلے دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گزرنا ایرانی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ممکن ہوگاوزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کی سہ پہر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا، تقریباً پینتالیس منٹ تک جاری رہنے والی اس گفتگو کے دوران وزیراعظم نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرنے اور رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش قبول کرنے پر ایرانی قیادت کی بصیرت اور دانشمندی کو سراہا۔ ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کے حوالے سے پاکستانی قیادت کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے پاکستان کے عوام کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے ان اہم مذاکرات میں بھرپور طریقے سے شرکت کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے دونوں طرف سے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد متوقع ہے۔ امریکا سے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے کیے جانے کا امکان ہے۔ ماہرین ان مذاکرات کو ایک مختلف نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت ناکام بھی ہو سکتی ہے، لیکن اب حالات کی بساط پوری طرح پلٹ چکی ہے۔ طاقت کے استعمال میں ناکامی نے امریکی فوجی دھمکیوں کے اثر کو کم کر دیا ہے، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارت کاری میں ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے واشنگٹن اب بھی جنگ کی دھمکیاں تو دے سکتا ہے، لیکن ایک ناکام جنگ کے بعد ایسی دھمکیاں کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں۔ایران کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ماہر تریتا پارسی کے مطابق اب امریکا اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کر سکے، اس لیے اب کوئی بھی معاہدہ حقیقی سمجھوتے اور لین دین کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔ان مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دنیا بھر کی معیشت اور امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔عام آدمی کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر اسلام آباد میں ہونے والی یہ بیٹھک کامیاب رہتی ہے تو اس سے نہ صرف جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ پیٹرول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی استحکام آنے کی توقع ہے۔ایران نے واضح کیا ہے کہ ان مذاکرات میں ایٹمی پروگرام کے ساتھ ساتھ 45 سال سے عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے پر بھی بات ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان اہم مذاکرات کے حوالے سے واشنگٹن میں تیاریاں جاری ہیں۔پاکستان کی اس ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ میں نہ صرف بڑے پیمانے انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا تھا بلکہ اس نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔اب پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں جمعہ سے شروع ہونے والی بات چیت اس تباہ کن تنازع کے مستقل خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ایران اور امریکا کے مذاکرات کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 9 اور 10 اپریل (جمعرات اور جمعے) کو مقامی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے، اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد کمی کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کا امکان ہے۔ خطے میں میں جنگ بندی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں گراوٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر شروع کر دیا ہے۔ ذرائع پیٹرولیم انڈسٹری کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 15 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کمی کا براہِ راست اثر پیٹرول کی قیمت پر 60 سے 70 روپے فی لیٹر تک کی کمی کی صورت میں پڑ سکتا ہے جب کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی تقریباً 110 روپے تک کمی متوقع ہے۔دوسری طرف امریکا کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب وہ طویل عرصے تک جنگ کے قابل نہیں رہا۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف کارروائیوں کو کامیاب قرار دیا اور واضح کیا کہ جنگ بندی مستقل نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران 47 سال سے امریکا کے لیے خطرہ تھا، جو اب نہیں رہا۔ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ حملوں میں طے شدہ تمام اہداف حاصل کر لیے اور ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہےصدر ٹرمپ نے تاریخ رقم کی ہے اور اس سے قبل کسی بھی امریکی صدر کو ایسی کامیابیاں حاصل نہیں ہوئی ہیں۔

 

پیٹ ہیگستھ نے ایران کی شکست کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےایران کے خلاف صرف 10 فیصد طاقت استعمال کی اور 800اہداف کونشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جب کہ فضائی دفاعی نظام بھی ختم کر دیا گیا ہے، اب ان کے پاس صرف زیرِ زمین بنکرز بچے ہیں۔ ایران کا میزائل پروگرام بھی عملی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اب وہ ہمارے یا کسی کے لیے خطرہ نہیں رہا۔ ایران میں امریکی فوجی مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں تاہم موجودہ جنگ بندی کو مستقل امن نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ سمجھا جانا چاہیے۔ امریکی افواج تیار ہیں اور ضرورت پڑی تو دوبارہ کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی کو بھی کشیدگی کم کرنے میں مددگار قرار دیا ہے۔امریکا اور ایران کے مابین 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے خیر سگالی کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی برادری نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے پاکستان اور دیگر ممالک کی طرف سے جنگ بندی کو کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی مکمل پابندی کریں۔ ان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ معاہدے پر عمل درآمد نہایت اہم ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے اعلان کو سراہا ہے جب کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ خوش آئند ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کا شروع ہونا انتہائی ضروری اور اہم اقدام ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ہنگری میں تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انہیں اور ان کی ٹیم کو اچھے مقصد کے لیے تیاری کی ہدایت کی ہے۔آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانی نے جنگ بندی کو ’مثبت خبر‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت مستقل کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے امریکی صدر کے سابقہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی بات غیر معمولی تھی۔جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری منورو کہارا نے بھی امریکا اور ایران کے اعلانات کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ صورتحال حقیقتاً کشیدگی میں کمی کی طرف جائے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے۔عراق کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس پیش رفت کو اہم سمجھتی ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے، استحکام بڑھانے اور سیکیورٹی کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔علاوہ ازیں مصر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی سفارتکاری کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دو ہفتوں کی یہ جنگ بندی ایک ابتدائی قدم ہے، تاہم خطے میں دیرپا استحکام کے لیے فریقین کو مکمل سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے اور ایسا معاہدہ کیا جائے جو ناصرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے۔ادھر انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارت کاری کا احترام کرنا چاہیے۔جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ بندی دیرپا امن کی جانب اہم پہلا قدم ہونا چاہیے۔ وزارت خارجہ انڈونیشیا نے امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کی اپیل بھی کی ہے۔جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت جنگ بندی کے لیے اہم معاہدہ کرانے پر پاکستان کی شکر گزار ہے، اب توجہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات پر ہونی چاہیے، جرمن حکومت سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں دیرینہ مسائل کے حل اور باہمی تعلقات کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ عالمی برادری کو توقع ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کریں گے بلکہ دنیا بھر میں امن کی نئی راہیں بھی ہموار کریں گے۔ادھر عمان، جو اس معاملے میں اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے، نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ عمانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں امن کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download