LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران سےامن مذاکرات اور امریکی زمینی فوج کی تعیناتی

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ ایک جامع معاہدے کے لیے پر امید ہیں ان کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور جیرڈ کشنر اس عمل میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے ایک 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا ہے۔ پاکستان نے ان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔ ایرانی حکام اور عسکری ترجمان نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ “اپنے آپ سے ہی مذاکرات کر رہا ہے”۔ ایران نے فی الحال کسی بھی براہِ راست مذاکرات کی تردید کی ہے اور اسے امریکہ کی “بزدلی” قرار دیا ہے۔
امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی دستے بھیج رہا ہے۔ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت اور دوٹوک ردعمل دیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوجی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکا کی تمام سرگرمیوں، خصوصاً فوجی نقل و حرکت، پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ تہران امریکی اقدامات کو مسلسل مانیٹر کر رہا ہے اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ قالیباف نے سخت لہجے میں امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو کچھ جرنیلوں نے بگاڑا ہے، اسے فوجی درست نہیں کر سکتے بلکہ وہ نیتن یاہو کے وہم و گمان کا شکار بنیں گے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ایران کے عزم کو آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار سے دو ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جب کہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ دو میرین یونٹس بھی خطے میں بھیجے جا رہے ہیں، جس سے تقریباً 5 ہزار میرینز اور ہزاروں سیلرز کی موجودگی میں اضافہ ہوگا۔ اس وقت پہلے ہی تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں جب کہ مزید 4,500 میرینز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تعیناتیوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جہاں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ پہلے ہی عروج پر ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان کے بعد پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے بلاواسطہ یا بلواسطہ مذاکرات کی تردید کر دی ہے ۔
اپنے بیان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان جیسے دوست ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی بنیاد ڈالنا چاہتے ہیں، امید ہے دوست ممالک کی کوششیں کامیاب ہو جائیں گی۔
رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ دوست ممالک جارحیت کے خاتمے کے لیے فریقین سے رابطے میں رہتے ہیں، لیکن میری معلومات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اب تک جنگ بندی کے حوالے سے بلاواسطہ یا بلواسطہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں، ایران مختلف ممالک کے پیغامات کا جواب دے رہا ہے، ایران کا مؤقف واضح ہے کہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران مذاکرات کی باتیں قابل یقین نہیں ہیں، عباس عراقچی پاکستانی ہم منصب اور دیگر ممالک کے سفارتکاروں سے رابطے میں ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایران ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اپنی شکست کو معاہدے کا نام نہ دے، خطے میں امریکی سرمایہ کاری کے آثار باقی نہیں رہیں گے۔
ایئر بورن ڈویژن: پینٹاگون اس ایلیٹ ڈویژن کے تقریباً 2,000 سے 4,000 فوجیوں کو خطے میں تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔میرینز اور بحری دستے: تقریباً 2,500 میرینز کے ساتھ جنگی جہاز بھی ایران کے قریب تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ زمینی آپریشن یا دفاعی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔اگرچہ ابھی ایران کے اندر باقاعدہ زمینی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن یہ تعیناتی آبنائے ہرمز کی حفاظت اور ایران کے خلاف مستقبل کی ممکنہ کارروائیوں کے لیے کی جا رہی ہے۔ ایک طرف سفارتی ذرائع خاص طور پر پاکستان کے ذریعے سے جنگ بندی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف امریکہ فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل زمینی اور بحری افواج بھیج رہا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہےصدر ٹرمپ نے امن مذاکرات میں پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہاتھا کہ انہیں ایران کی طرف سے ایک “بہت بڑا تحفہ” ملا، لیکن ساتھ ہی وہ بڑے پیمانے پر زمینی فوج کی تعیناتی کی تیاری کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے جزیرہ کھرگ پر قبضہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، جہاں سے ایران کی تیل کی 90 فیصد برآمدات کی جاتی ہیں۔ اس سے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے رہنما نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران میں زمینی فوجیں بھیجیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ جنگ حکومت کی تبدیلی کا ایک ‘تاریخی موقع’ ہے۔ ذرائع نےامریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) نے پچھلے ہفتے چند کالوں میں ٹرمپ پر ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے زور دیا، اور صدر کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ اس کام کو آدھا چھوڑنا ٹھیک نہیں ، یو ایس سینٹرل کمانڈ نے 14 تاریخ کو کہا تھا کہ اس نے جزیرے پر 90 سے زیادہ فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ 19 تاریخ کو صدر ٹرمپ نے کہا تھاکہ ہم چاہیں تو کسی بھی وقت جزیرے کو ختم کر سکتے ہیں۔تاہم، ایسے جائزے موجود ہیں کہ اگر ایران مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے جزیرہ کھرگ کے ہوائی اڈے کے رن وے کو تباہ کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے تو امریکی فوج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ امریکہ کو پورٹیبل سطح سے ہوا میں مار کرنے والے میزائلوں سے جوابی حملہ کرنا پڑے گا، جنہیں روکنا مشکل ہے۔ اگر امریکہ خلیج میں ایران کی خطرے کی صلاحیتوں کو بنیادی طور پر کمزور کرنے کے لیے ایران کی ساحلی پٹی کے ساتھ ملٹری تنصیبات کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے مشرق وسطیٰ میں اس وقت تعینات یا تعیناتی کے لیے مقرر کردہ فوجیوں سے نمایاں طور پر زیادہ فوجیوں کی ضرورت ہوگی، اور خطرے کی سطح بھی بہت زیادہ ہوگی۔ برطانوی روزنامہ دی ٹائمز نے ایک فوجی تجزیہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کیا کہ “پورے ایرانی ساحل پر قبضہ کرنا عملی طور پر ناممکن ہے، اور ساحلی علاقوں کو کنٹرول کرنے کے لیے لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہوگی۔” پائیک فیلڈ، فورٹ بریگ، شمالی کیرولائنا، یو ایس میں یو ایس آرمی کے قیام کی تقریب کی گئی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن، جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ، اور دیگر یونٹس فورٹ بریگ میں تعینات ہیں۔ میڈیا نےبتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے 1000 سے زائد فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے، کہ “صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں 82 ویں ایئر بورن ڈویژن سے 1,000 سے زیادہ فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔”سی این این نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ تعیناتی میں اسٹرائیکر بریگیڈ کامبیٹ ٹیم کی ایک بٹالین شامل ہے، جو میجر جنرل برینڈن ٹیٹ مے کی قیادت میں 82ویں ایئر بورن ڈویژن کا حصہ ہے اور اس وقت فوج کی فوری رسپانس فورس کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔ فوری رسپانس فورس ایک ایسا یونٹ ہے جسے آرڈر کے چند گھنٹوں کے اندر آپریشنل سائٹ پر تعینات کیا جا سکتا ہے اور امکان ہے کہ مشرق وسطیٰ میں منتقل ہونے والے امریکی فوجیوں کے درمیان یہ پہلی زمینی فورس ہو گی۔معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق تعیناتی کی منظوری گزشتہ رات دی گئی تھی۔ فی الحال، ڈویژن ہیڈکوارٹر، عملے، اور کچھ زمینی افواج کے احکامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔تاہم پوری بریگیڈ کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کی پوری بریگیڈ 3000 سے زیادہ فوجیوں پر مشتمل ہے، اس بار تعینات کی جانے والی تعداد نصف سے بھی کم ہونے کی توقع ہے۔ یہ فوجی ابھی تک امریکہ سے نہیں نکلے ہیں لیکن توقع ہے کہ اگلے چند دنوں میں انہیں مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا جائے گا۔نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی تھی کہ امریکی فوجی حکام ایران میں کارروائیوں کے لیے 82 ویں ایئر بورن ڈویژن، جو کہ سب سے زیادہ اشرافیہ یونٹوں میں سے ایک ہے، کے کچھ جنگی بریگیڈز اور ڈویژن ہیڈ کوارٹر کے اہلکاروں کو تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔اس وقت دو میرین مہماتی یونٹوں کے تقریباً 5000 فوجی بحری جہاز کے ذریعے مشرق وسطیٰ کی طرف جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے 3,000 فوجیوں کی ایک پیشگی فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔سی این این نے نوٹ کیا کہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن نے 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران امریکی فوج کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ختم کرنے کے فوراً بعد اسی طرح کی حرکتیں دکھائیں۔ اس ڈویژن کو 2021 میں افغانستان سے انخلاء کے آپریشن کے لیے بھی تعینات کیا گیا تھا۔۔جزیرہ کھرگ، جو ایرانی تیل کی برآمد کا ایک اہم مرکز ہے، کو 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کی فضائی دراندازی کے لیے ایک ممکنہ جگہ کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہ دباؤ اس وقت آیا تھا جب ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر امریکی حملوں کو پانچ دن کے لیے روکنے کا اعلان کیاتھا جب کہ واشنگٹن نے ثالثوں کے ذریعے تہران کے ساتھ بیک چینل مذاکرات کی پیروی کی، جس سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ وہ کوئی راستہ تلاش کر رہا ہے۔اس سلسلے میں ڈیلی میل اخبار نے تبصرہ کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے یاد رہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت کے باوجود امریکی جرنیل فوج کے 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے 3,000 فوجیوں کو ممکنہ زمینی حملے کے لیے تعینات کر رہے ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں پہلے سے بھیجے گئے ہزاروں میرینز میں شامل ہو رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہےکہ سعودی ولی عہد نے یہ معاملہ پیش کیا تھا کہ اگر ایران حکومت کا مکمل صفایا نہ کیا گیا تو حکومت خطے کے لیے ایک طویل مدتی خطرہ بن جائے گی۔
ذرائع نے مزید کہا تھاکہ سعودی ولی عہد نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو سنبھالنے اور موجودہ حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایران میں فوج بھیجیں۔ ٹرمپ نے خدشات کا اظہار کیاتھا کہ مزید بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، پیر کو گیس کی قومی اوسط قیمت $4.00 فی گیلن تک پہنچ گئی، جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد $2.90 سے زیادہ تھی۔ اخبار ڈیلی میل نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے نجی خیالات سعودی کے عوامی بیانات سے متضاد ہیں جو جنگ کے سفارتی خاتمے کے لیے مملکت کی خواہش کو اجاگر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی توانائی کے مقامات پر انتقامی حملے ہوئے اور اس کی تیل کی برآمدات کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران میں زمینی فوج بھیجیں۔ شہزادہ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی وکالت کی ہے، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اگر موجودہ حکومت اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے تو وہ خلیجی خطے کو غیر مستحکم کرتی رہے گی۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پر پہلی بار حملہ کرنے کے بعد سے ایران نے سعودی عرب کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیاتھا یہ بات قابل ز کر ہے کہ سعودی عرب کی بادشاہت نے ہمیشہ اس تنازعے کے پرامن حل کی حمایت کی ہے،’ سعودی ترجمان نے ایک بیان میں کہاتھا، اس کے حکام ‘ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ہمارا عزم بدستور برقرار ہے۔’ ترجمان نے مزید کہاتھا ‘آج ہماری بنیادی فکر اپنے لوگوں اور ہمارے شہری انفراسٹرکچر پر روزانہ ہونے والے حملوں سے اپنا دفاع کرنا ہے۔ ‘ایران نے سنجیدہ سفارتی حل کے مقابلے میں خطرناک حد تک چُن لیا ہے۔ اس سے ہر اسٹیک ہولڈر کو نقصان پہنچتا ہے لیکن خود ایران کے علاوہ کوئی نہیں۔’
ٹائمز کے مطابق، سینئر سعودی اور امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر لڑائی جاری رہی تو ایران ریاض کی تیل تنصیبات کو مزید حملوں کی سزا دے سکتا ہے اور امریکہ کو ‘ایک نہ ختم ہونے والی جنگ’ میں گھسیٹ سکتا ہے۔ جبکہ مملکت ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے خلاف دفاع کے لیے پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ رکھتی ہے، سعودی فضائی دفاع کے ذریعے کئی بمباری کی گئی ہے۔ سعودی آئل فیلڈز، ریفائنریز اور شہر سبھی ایرانی ہتھیاروں سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح ریاض میں امریکی سفارت خانہ بھی ہے، جس نے امریکہ کو مشن کو خالی کرنے کا اشارہ کیا۔ لیکن ٹرمپ نے پیر کو اشارہ کیا کہ جنگ کسی نتیجے کے قریب پہنچ سکتی ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، ایران نے اس بات کی تردید کی کہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ایک ایرانی اہلکار نے بتایا، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک ہے، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران میں زمینی فوج بھیجیں۔ شہزادہ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی وکالت کی ہے، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اگر موجودہ حکومت اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے تو وہ خلیجی خطے کو غیر مستحکم کرتی رہے گی۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پر پہلی بار حملہ کرنے کے بعد سے ایران نے سعودی عرب کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیاتھا یہ بات قابل ز کر ہے کہ سعودی عرب کی بادشاہت نے ہمیشہ اس تنازعے کے پرامن حل کی حمایت کی ہے،’ سعودی ترجمان نے ایک بیان میں کہاتھا، اس کے حکام ‘ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ہمارا عزم بدستور برقرار ہے۔’ ترجمان نے مزید کہاتھا ‘آج ہماری بنیادی فکر اپنے لوگوں اور ہمارے شہری انفراسٹرکچر پر روزانہ ہونے والے حملوں سے اپنا دفاع کرنا ہے۔ ‘ایران نے سنجیدہ سفارتی حل کے مقابلے میں خطرناک حد تک چُن لیا ہے۔ اس سے ہر اسٹیک ہولڈر کو نقصان پہنچتا ہے لیکن خود ایران کے علاوہ کوئی نہیں۔’
ٹائمز کے مطابق، سینئر سعودی اور امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر لڑائی جاری رہی تو ایران ریاض کی تیل تنصیبات کو مزید حملوں کی سزا دے سکتا ہے اور امریکہ کو ‘ایک نہ ختم ہونے والی جنگ’ میں گھسیٹ سکتا ہے۔ جبکہ مملکت ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے خلاف دفاع کے لیے پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ رکھتی ہے، سعودی فضائی دفاع کے ذریعے کئی بمباری کی گئی ہے۔ سعودی آئل فیلڈز، ریفائنریز اور شہر سبھی ایرانی ہتھیاروں سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح ریاض میں امریکی سفارت خانہ بھی ہے، جس نے امریکہ کو مشن کو خالی کرنے کا اشارہ کیا۔ لیکن ٹرمپ نے پیر کو اشارہ کیا کہ جنگ کسی نتیجے کے قریب پہنچ سکتی ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، ایران نے اس بات کی تردید کی کہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ایک ایرانی اہلکار نے بتایا، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک ہے، ‘ٹرمپ کے ساتھ کوئی براہ راست یا بالواسطہ رابطہ نہیں ہے۔’ اگر یہ بات چیت ایک طرف جاتی ہے اور ایران تعاون نہیں کرتا ہے تو، ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج ‘ہمارے چھوٹے دلوں پر بمباری جاری رکھیں گی حالیہ ہفتوں میں ہزاروں امریکی میرینز کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے، کم از کم دو یونٹوں کو 4500 سے زیادہ اہلکاروں کو ایران کی طرف جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ سان ڈیاگو یونین ٹریبیون نے رپورٹ کیاہے کہ تین بحری جہازوں پر سوار تقریباً 2,500 میرینز کو گزشتہ ہفتے کے آخر میں مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا تھا۔امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی میرینز اور بحریہ کے دیگر اہلکاروں کو تعینات کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف شروع کی گئی اُس کی جنگ کو تین ہفتے مکمل ہو چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تین امریکی حکام نے جمعے کو بتایا کہ تاحال ایرانی سرحد کے اندر براہِ راست فوج اُتارنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں آئندہ کی کارروائیوں کے لیے صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہےان امریکی حکام کے مطابق بحریہ کا جنگی جہاز ’یو ایس ایس باکسر‘ اور اس کے ساتھ موجود ’میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ‘ اور دیگر جنگی جہازوں کو بھی بھیجا جا رہا ہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ فی الحال فوج کو ’کہیں بھی‘ نہیں بھیج رہے، لیکن اگر ایسا کیا تو وہ صحافیوں کو نہیں بتائیں گے۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ دستے امریکہ کے مغربی ساحل سے طے شدہ وقت سے قریباً تین ہفتے قبل روانہ ہو رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے فوری طور پر اس حوالے سے کسی تبصرے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مشرقِ وسطیٰ میں قریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں اور اب خطے میں امریکی میرین ایکسپیڈیشنری یونٹس کی تعداد بھی دو ہو جائے گی۔
عام طور پر ایک ’میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ‘ میں قریباً 2500 میرینز شامل ہوتے ہیں، جو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جیسے بحری جہازوں سے جنگی طیاروں کے ذریعے حملے کرنا یا زمینی کارروائیوں میں حصہ لینا۔ امریکی فوج پہلے ہی ایران کے خلاف اپنی مہم کے ممکنہ اگلے مراحل کی تیاری کر رہی ہے، جو 28 فروری کو شروع کی گئی تھی۔اسی دوران اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں ’جیت رہے ہیں‘ جبکہ ایران ’تباہ ہو چکا ہے‘ اور نہ تو یورینیم افزودہ کرنے اور نہ ہی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کے ترجمان نے جمعے کو کہا کہ ’آئی ڈی ایف نے تہران کے وسط میں واقع ایران کی دہشت گرد حکومت کے انفراسٹرکچر کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔‘
تاہم ان کی جانب سے حملوں کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔ جمعے کو ہی ایران نے دنیا بھر میں تفریحی اور سیاحتی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ وہ اب بھی میزائل تیار کر رہا ہے۔ ایران نے اپنے اقدامات سے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اب بھی ایسے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو تیل کی بین الاقوامی ترسیل کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایرانی حملے عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور اِن حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سے باہر بھی خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے
ایران نے واضح طور پر اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں مصروف ہے، لیکن متعدد امریکی اور اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹس نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکی ,امریکہ اور ایران کے درمیان میسنجر کے طور پر کام کر رہے ہیں، جو اس جنگ میں ایک آف ریمپ کو بروکر کرنے کی امید کر رہے ہیں جو جدید تاریخ کے سب سے بڑے توانائی کے بحران کا باعث بنی ہے۔ ان میں سے کچھ رپورٹس نے تجویز کیا ہے کہ اسلام آباد اس ہفتے کے آخر میں مذاکرات کی میزبانی کرنے والے شہر کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ امریکی آؤٹ لیٹ Axios کے مطابق اسلام آباد میں ملاقات کے لیے دو ممکنہ فارمیٹس زیر بحث ہیں۔ ایک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ایک اور تصور میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف سے ملاقات کی، جنہوں نے ٹرمپ کے مذاکرات کے دعووں کو “اس دلدل سے بچنے کی کوشش کے طور پر مسترد کر دیا جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنسے ہوئے ہیں”۔پھر بھی، کچھ حقائق کی تصدیق ہوتی ہے: پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو صدر ٹرمپ سے بات کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک روز بعد ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کو فون کیااس کے بعد وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی اور ترک ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔تجزیہ کاروں اور حکام کی جانب سے سامنے آنے والی تصویر عارضی لیکن نازک سفارتی تحریک میں سے ایک ہے، جو کچھ فوجی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کافی اہم ہے لیکن ابھی تک ٹھوس مذاکرات کے لیے نہیں ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران پہلے ہی “اہم نکات” پر پہنچ چکے ہیں، جس میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ اسرائیل جنگ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عارضی اقدامات کی تجویز ہے۔ بغائی نے تصدیق کی کہ پیغامات “دوستانہ ممالک” کے ذریعے پہنچے تھے، جس میں مذاکرات کے لیے امریکی درخواست کی گئی تھی، لیکن کہا کہ ایران نے “ملک کے اصولی موقف” کے مطابق جواب دیا تھا ایک ایرانی اہلکار نے، جس کا سرکاری منسلک پریس ٹی وی نے حوالہ دیا، نے پیر کو جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی شرائط کا خاکہ پیش کیا۔ ان میں مستقبل کی فوجی کارروائی کے خلاف ضمانتیں، خلیجی خطے میں تمام امریکی فوجی اڈوں کی بندش، واشنگٹن اور تل ابیب سے مکمل معاوضہ، ایران سے منسلک گروپوں میں شامل علاقائی تنازعات کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز پر حکومت کرنے والا ایک نیا قانونی ڈھانچہ شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا ہے جن کا ٹرمپ کا دعویٰ تھا۔ پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک بیان میں کہا، “یہ حساس سفارتی بات چیت ہیں، اور امریکہ پریس کے ذریعے بات چیت نہیں کرے گا۔” عرب سینٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی اسٹڈیز میں ایرانی اسٹڈیز یونٹ کے ڈائریکٹر اور قطر کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر مہران کامروا نے کہا کہ ٹرمپ کا نقطہ نظر ایک مانوس انداز کی پیروی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے تہران کو امریکی شرائط پر مذاکرات کرنے پر مجبور کرنے کے لیے مسلسل فوجی اور اقتصادی دباؤ پر انحصار کیا ہے، یہ حکمت عملی ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ “یہ ٹرمپ کی گن بوٹ ڈپلومیسی اور ان کے اس قیاس کے مطابق ہے کہ وہ ایرانیوں کو مذاکرات کے لیے دباؤ اور دھمکیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔” “تاہم، ہم نے دیکھا ہے کہ ایران کی جانب سے اس طرح کے دباؤ کے حربے کے خلاف مزاحمت کی گئی ہے اور ایرانیوں نے دھمکیوں کا اس طرح جواب نہیں دیا جس طرح امریکیوں کی توقع تھی۔” تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے ایرانی انکار کی وضاحت کا ایک حصہ ساختی ہے۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسبل سٹیٹ کرافٹ کی ایگزیکٹو نائب صدر، تریتا پارسی نے دلیل دی کہ جنگ نے – متضاد طور پر – پابندیوں کے اہم معاملے پر ایران کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔۔موجودہ سفارت کاری میں پاکستان کا کردار وقت کے ساتھ ساتھ بنائے گئے تعلقات کے مجموعے کی طرف متوجہ ہے۔ یاد رہے کہ جون 2025 میں جب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ کے ساتھ غیر معمولی لنچ میٹنگ کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تھا تو پہلی بار کسی امریکی صدر نے پاکستانی فوجی سربراہ کی میزبانی کی تھی جو صدر بھی نہیں تھے، ٹرمپ نے کھلے عام کہا تھا کہ پاکستان “ایران کو بہت اچھی طرح جانتا ہے، سب سے بہتر “۔ دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس ملاقات میں اسرائیل ایران کشیدگی پر بات چیت کی گئی۔ 3 مارچ کو، وزیر خارجہ ڈار نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ پاکستان “اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے”۔ اسی خطاب میں، ڈار نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے نگرانی کے فریم ورک کی تجویز کے بجائے، صفر یورینیم افزودگی کے واشنگٹن کے مطالبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاق ہوا کہ دو سے تین ممالک کی نگرانی ہونی چاہیے اور ایران اس سے خوش ہے۔ پاکستان واحد مسلم اکثریتی ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور وہ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی نہیں کرتا ہے۔ اس نے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات برقرار رکھے ہیں، جو 1947 سے شروع ہوئے، ستمبر 2025 میں طے پانے والے ایک سٹریٹجک دفاعی معاہدے سے تقویت ملی۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ ای نے حال ہی میں نوروز کے موقع پر ایک پیغام میں پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے لوگوں کے تئیں “خاص احساس” رکھتے ہیں۔”پاکستان کی اہمیت ایک بڑے اسلامی ملک کے طور پر اس کے موقف سے بھی پیدا ہوتی ہے جس میں قابل اعتبار ساکھ ہے۔ اس کے خلیجی ممالک، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات ہیں؛ ہر کوئی پاکستان کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کھلا ہے۔”

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download