LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیےایران کے ساتھ کھڑے ہیں وزیراعظم پاکستان کا اعلان

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیاہے کہ ہم مشکل حالات میں ایرانی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ گیارہ مارچ کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی دونوں رہنماؤں نے بدلتے حالات میں قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا۔حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس گفتگو کے دوران پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے میں موجودہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو انتہائی ضروری سمجھتا ہے۔ کہا کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے تمام فریقوں کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ شہباز شریف نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے ہر سطح پر ایران کے ساتھ روابط اور تعاون بڑھانے کے پاکستانی عزم کا اعادہ بھی کیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کو خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ علاقائی کشیدگی کے حوالے سے ایران کے موقف سے بھی پاکستانی وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی، تو عالمی نظام اور سلامتی خطرے میں پڑ جائیں گے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھے جائیں گے تاکہ امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور اعلیٰ سطح کے روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ خیال رہے کہ ایک روز قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ملکی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد دی تھی۔ انہوں نے علی خامنہ ای کے موت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک خط میں شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ نئے رہنما ایران کو ”امن، استحکام، وقار اور خوشحالی‘‘ کی جانب لے کر جائیں گے اور ساتھ ہی شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ واضح رہے کہ موجودہ ایران جنگ گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر وہ مشترکہ فضائی حملے شروع کیے تھے، جن میں ایران کے طویل عرصے سے سپریم لیڈر رہنے والے علی خامنہ ای بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد کشیدگی تیزی سے ایک بڑے علاقائی تنازعے میں تبدیل ہو گئی جب تہران نے جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی اہداف اور مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج سے منسلک مقامات اور اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک خط بھیج کر علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کی ہےاور مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے ۔ خط میں اس بات پر زور دیاہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور زبان سے جڑے ہوئے ہیں، اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔ وزیراعظم پاکستان نے ایرانی عوام کے امن، استحکام اور فلاح و بہبود کے لیے بھی دعا کی۔ اس دوران ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی رپورٹس کے بعد حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہ بالکل محفوظ ہیں۔ایرانی صدر مسعود پزیکشیان کے صاحبزادے اور حکومتی مشیر یوسف پزیکشیان نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای خیریت سے ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں بتایا ہے کہ جب مجھے مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبر ملی تو میں نے باخبر افراد سے رابطہ کیا، جنہوں نے تصدیق کی کہ خدا کا شکر ہے وہ بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں۔قبل ازیں ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے مجتبیٰ خامنہ ای کو رمضان جنگ کا زخمی جانباز قرار دیا تھا، تاہم ان کے زخمی ہونے کی نوعیت یا تفصیلات کبھی واضح نہیں کی گئیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی غیر موجودگی اور جنگ کے دوران زخمی ہونے کی افواہوں نے بین الاقوامی میڈیا میں تشویش پیدا کی تھی۔دوسری جانب تہران میں عوامی ریلیاں نکالی گئیں جہاں لوگوں نے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا اظہار کیا۔ شہر کے مشہور والیاسر اسکوائر میں ایک بڑا میورل بھی نصب کیا گیا ہے جس میں بانیٔ انقلاب روح اللہ خمینی کی موجودگی میں علی خامنہ ای اپنے بیٹے کو قیادت کا پرچم سونپتے دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ایران میں علما نے مقتول رہنما کے بیٹے، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا ہے۔ امریکی-اسرائیلی حملوں میں بزرگ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کے بعد علما کی حکومت کی ماہرین کی اسمبلی نے اپنا اگلا رہنما منتخب کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا۔ ایک طویل بیان میں، اسمبلی نے کہا: ‘محتاط اور وسیع مطالعہ کے بعد… آج کے غیر معمولی اجلاس میں، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (اللہ انہیں حفاظت میں رکھے) کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے تیسرے رہنما کے طور پر مقرر اور متعارف کرایا جاتا ہے، جو ماہرین کی اسمبلی کے معزز نمائندوں کی فیصلہ کن رائے پر مبنی ہے۔‘ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے، جو 56 سال کے ہیں، کہا: ‘انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے تیسرے رہنما کے طور پر مقرر اور متعارف کرایا گیا ہے، جو کہ ماہرین کی اسمبلی کے معزز نمائندوں کی فیصلہ کن رائے پر مبنی ہے۔‘مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو مشرقی ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے، اور وہ مرحوم سپریم لیڈر کے چھ بچوں میں سے ایک ہیں۔ علما کی اسمبلی نے بیان میں کہا کہ ‘نئے رہنما کے انتخاب میں ایک لمحے کی بھی ہچکچاہٹ نہیں کی گئی، یہ ٹرمپ کی جانب سے مجبتیٰ خامنہ ای کا پہلا ذکر نہیں ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے مجتبیٰ پر یہ الزام لگاتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں کہ وہ کوئی باقاعدہ حکومتی عہدہ نہ رکھنے کے باوجود سپریم لیڈر کی جانب سے سرکاری حیثیت میں کام کر رہے ہیں۔
مجتبیٰ آٹھ ستمبر 1969 کو ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے علاقے خامنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی مناسبت سے ان کے خاندان کو خامنائی یا خامنہ ای کہا جاتا ہے۔ 17 سال کی عمر میں، انہوں نے مختصر عرصے کے لیے ایران، عراق جنگ میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں ہی عوام کی توجہ حاصل کرنا شروع کی، جس وقت تک ان کے والد کی بطور سپریم لیڈر عمل داری مضبوطی سے قائم ہو چکی تھی۔مجتبیٰ خامنہ ای نے قم سے دینی تعلیم حاصل کی ہے، اور ان کے پاس حجتہ اللہ کا عہدہ ہے، جو آیت اللہ سے ایک درجہ کم ہے۔ یہ بات ان کے سپریم لیڈر بننے کی راہ میں آڑے آ سکتی ہے۔انہوں نے اپنا زیادہ تر کریئر عوامی عہدوں سے الگ لیکن اقتدار کے قریب اپنے والد سپریم لیڈر کے دفتر میں کام کرتے ہوئے گزارا ہے۔ انہیں اکثر باقاعدہ کوئی عہدہ رکھنے والی عوامی سیاسی شخصیت کے بجائے ایک گیٹ کیپر اور پاور بروکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔مجبتیٰ کے ایران کی طاقت ور فوج پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب ان کی تقرری پر زور دے رہی ہے، تاہم ایک تجزیہ کار نے اخبار کو بتایا کہ ان کا اس وقت انتخاب درست فیصلہ ہو گا کیوں کہ مجتبیٰ سکیورٹی اور عسکری نظام سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ انہیں والد کی امریکی اسرائیلی حملے میں موت کی وجہ سے عوامی ہمدردی بھی حاصل ہے۔ مغربی میڈیا نے الزام لگایا تھا کہ مجتبیٰ ایران میں بڑے پیمانے پر اثاثوں کے مالک ہیں۔ جب مغربی ملکوں نے ایران کے اربوں ڈالر منجمد کیے تو اس میں مجتبیٰ کے بھی اثاثے شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ مجتبیٰ کی شہرت دو اہم خصوصیات پر مرکوز رہی ہے۔ پہلی خصوصیت ایران کے سکیورٹی اداروں، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب کور اور اس کے سخت گیر نیٹ ورکس کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔ دوسری خصوصیت اصلاح پسند سیاست اور مغربی ممالک کے ساتھ روابط کی سخت مخالفت ہے۔ ناقدین انہیں 2009 کے متنازع صدارتی انتخاب کے بعد ہونے والے مظاہروں کو کچلنے سے جوڑتے ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ انہوں نے ایران کی سرکاری نشریاتی تنظیم پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، جس سے انہیں ملک کے معلوماتی منظر نامے اور ریاستی بیانیے کے کچھ حصوں پر بالواسطہ کنٹرول حاصل ہوا۔ تاہم وہ زیادہ تر پس منظر میں رہے ہیں اور میڈیا پر زیادہ نظر نہیں آتے۔ ان کا کسی سیاسی جلسے کی قیادت کرنے، عوامی اجتماعات سے خطاب، یا بڑی مساجد میں امامت کا زیادہ ریکارڈ نہیں ہے۔ایرانی آئین کے مطابق علما کی ایک 88 رکنی کونسل سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔ یہ کونسل ممکنہ امیدواروں کی مذہبی، سیاسی اور قائدانہ اہلیت کی فہرست بناتی ہے۔دوسری جانب عملی طور پر یہ ایک غیر جانبدار انتخابی ادارہ نہیں ہے۔ خود کونسل کے امیدواروں کی جانچ پڑتال ان اداروں کے ذریعے کی جاتی ہے جو بالآخر سپریم لیڈر کے حلقہ اثر سے تشکیل پاتے ہیں، اور اس کی کارروائی خفیہ ہوتی ہے۔یہ بات اس وقت اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ مجتبیٰ کو ایک قابل عمل سپریم لیڈر کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے، اس تنقید کے باوجود کہ ان کے پاس اس عہدے سے روایتی طور پر جڑا ہوا اعلیٰ مذہبی رتبہ نہیں ہے۔مجتبیٰ کے بطور سپریم لیڈر انتخاب میں ایک متنازع نکتہ یہ ہے کہ 1979 میں شاہ کا تختہ الٹتے وقت انقلاب کے موروثی حکمرانی کو مسترد کر دیا تھا۔ اس لیے بہت سے ایرانیوں کے لیے والد کی جگہ بیٹے کو سپریم لیڈر بنانا نظریاتی پسپائی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ یہ ایران کے لیے سب سے اہم سوال ہے۔ اس کا جواب شاید اس سے کم مختلف ہو جس کی بہت سے لوگ توقع کر سکتے ہیں۔علی خامنہ ای ایرانی انقلاب کے معماروں میں سے ایک تھے۔ پچھلے چار عشروں میں انہوں نے اپنے گرد طاقت کا اس قدر ارتکاز کر لیا تھا کہ وہ خود ہی نظام بن گئے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای اگر سپریم لیڈر بن جاتے ہیں تو انہیں اپنے والد جیسی حیثیت اور طاقت حاصل کرنا بےحد مشکل ثابت ہو گا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے وہ اپنے والد کی پالیسیاں ہی جاری رکھیں گے۔ دوسری طرف، چونکہ ان کے خاندان کے انتہائی قریبی افراد امریکی اور اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ مجرم امریکہ اور بدعنوان صیہونی رجیم کی وحشیانہ جارحیت کے باوجود ہوا۔‘ ایران کے انقلابی گارڈز نے ملک کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا ہے۔ گارڈز نے ایک بیان میں کہا: ‘اسلامی انقلاب گارڈ کورپس… وقت کے ولی فقیہ، ان کی عظمت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی الہیٰ احکامات کی تعمیل میں مکمل اطاعت اور خود قربانی کے لیے تیار ہےادھر جاری جنگ میں امریکی فوج نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایک سروس ممبر سعودی عرب میں ایرانی حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہوگیا، جو کہ جنگ کے آغاز سے ساتواں امریکی جنگی موت ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی قوتوں کی نگرانی کرتا ہے، ایک بیان میں کہا کہ سروس ممبر ہفتے کی رات ’ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران زخموں کے باعث ہلاک ہوا۔ حملے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور کہا کہ سروس ممبر کی شناخت اس کی فیملی کو اطلاع دینے کے 24 گھنٹے بعد تک خفیہ رکھی جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام نے ڈیلاویئر میں ایک امریکی فوجی اڈے پر چھ ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشوں کی واپسی کے موقع پر شرکت کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے بھی نوجوان خامنہ ای کو ‘ہلکی شخصیت’ قرار دیا تھا، اور ایک بار پھر اصرار کیا کہ ان کی نئے رہنما کی تقرری میں رائے ہونی چاہیے۔ بتایا کہ ’اگر وہ ہم سے منظوری نہیں لیتے تو وہ زیادہ دیر تک نہیں رہیں گے۔‘لیکن تہران کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف ایران کا ہے، اور یہ کہ ‘ہم کسی کو اپنے داخلی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ ‘علاقے کے لوگوں سے جنگ شروع کرنے پر معافی مانگیں۔‘ نوجوان خامنہ ای کو ایک قدامت پسند شخصیت سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ان کے انقلابی گارڈز کے ساتھ ماضی میں تعلق کی وجہ سے، جو ایرانی فوج کی نظریاتی شاخ ہے۔ اسرائیل کی فوج نے پہلے ہی کسی بھی جانشین کو خبردار کیا تھا کہ ‘ہم آپ کو نشانہ بنانے میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے , اسرائیل نے تہران کے اندر اور آس پاس پانچ تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا، جس سے کم از کم چار افراد مارے گئے اور آگ لگنے سے آسمان دھوئیں سے بھر گیا۔ تہران کے گورنر نے بتایا کہ دارالحکومت میں ایندھن کی تقسیم ‘عارضی طور پر معطل’ کردی گئی ہے۔ حکام نے دھوئیں کو زہریلا قرار دیتے ہوئے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی، مگر بہت سے مکانات دھماکوں کے زور سے ٹوٹ گئے۔جب جنگ اپنے نویں دن میں داخل ہوئی، تو ایران کے انقلابی گارڈز نے کہا کہ ان کے پاس مشرق وسطیٰ میں ڈرون اور میزائل جنگ جاری رکھنے کے لیے چھ ماہ تک کافی سپلائیز موجود ہیں۔ اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب کے اوپر کئی دھماکے سنے گئے۔ میگن ڈیوڈ اڈوم ایمرجنسی سروسز نے کہا کہ مرکزی اسرائیل میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ٹرمپ نے دوبارہ ایران میں امریکی زمینی فوجوں کو بھیجنے کے امکان کو خارج نہیں کیا، حالانکہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں لیکن یہ اصرار کیا کہ جنگ تقریباً جیتی جا چکی ہے۔ گارڈز کے ترجمان نے کہا کہ ایران نے اب تک صرف پہلی اور دوسری نسل کے میزائل استعمال کیے ہیں، لیکن آنے والے دنوں میں ‘جدید اور کم استعمال ہونے والے طویل فاصلے کے میزائل’ استعمال کرے گا۔ سعودی عرب نے کہا کہ دو افراد ‘ایک فوجی پروجیکٹائل’ کے نتیجے میں جان سے گئے اور 12 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ پہلے یہ بتایا گیا کہ اس نے اپنے دارالحکومت ریاض کے سفارتی علاقے کو نشانہ بنانے والی ڈرونز کی ایک لہر کو روکا ہے۔کویت نے اس دوران کہا کہ ایک حملہ اس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر موجود ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا، جبکہ بحرین نے بتایا کہ ایک پانی کی پانی کی صفائی کے پلانٹ کو نقصان پہنچا ہے۔ ایران کی وزارت صحت نے کہا کہ کم از کم 1,200 شہری مارے جبکہ تقریباً 10,000 زخمی ہو چکے ہیں — یہ اعداد و شمار اے ایف پی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکی۔لبنان کے وزیر صحت نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 394 افراد مارے جا چکے ہیں، جب سے لبنان ایک ہفتہ پہلے جنگ میں گھسیٹا گیا، جن میں 83 بچے اور 42 خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل فوج نے کہا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران دو اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس دوران، ٹرمپ نے کویت میں ایک امریکی اڈے پر ڈرون حملے میں مارے جانے والے چھ امریکی فوجیوں کی لاشوں کی واپسی کی تقریب میں شرکت کی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازعے کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ نہیں جسے امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں نے ایک ماہ یا اس سے زیادہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ اگر ایک ‘قبول شدہ’ رہنما مرحوم سپریم لیڈر کی جگہ لے لے تو ایران کی معیشت کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے قم سے دینی تعلیم حاصل کی ہے، اور ان کے پاس حجتہ اللہ کا عہدہ ہے، جو آیت اللہ سے ایک درجہ کم ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جمعے کو ریاض میں ملاقات کے دوران خطے کی حالیہ صورت حال کے تناظر میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’ایران دانش مندی سے کام لے کر کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ریاض میں موجود ہیں، جہاں ان کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات ہوئی۔ ہفتے کو ایکس پر اپنے پیغام میں سعودی وزیر دفاع نے لکھا کہ پاکستانی آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں ’دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سٹریٹجک دفاعی تعاون کے معاہدے کے دائرہ کار میں مملکت پر ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں اور ان سے نمٹنے کے ممکنہ طریقۂ کار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کے مطابق: ’ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی اور استحکام کو کمزور کرتے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایران دانش مندی سے کام لے گا اور کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں ایک تاریخی ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ریاض میں طے پانے والے اس معاہدے پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھےسعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے اور تہران کے اسرائیلی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر جوابی حملوں کا آج 10واں روز ہے امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے اور اس جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تقریباً 50 دوسرے سینیئر سول اور فوجی عہدیداروں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جان سے چلے گئے تھے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ یہ جنگ ہر روز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر مزید 14 ممالک کو متاثر کر چکی ہے۔
اس کے علاوہ شہباز شریف نے سعودی ولی عہد سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان ہر حال، ہر وقت اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ پاکستان نے متعدد بار سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے تین مارچ کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ایک ’سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ موجود ہے اور اس حوالے سے (پاکستان نے) ایران کو حالیہ جنگ شروع ہوتے ہی یاد دہانی کروا دی تھی اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ کہ ان کی انہی کوششوں کی وجہ سے سعودی عرب اور عمان کے خلاف کم ترین ردعمل سامنے آ یا ہے، جبکہ دوسرے خلیجی ممالک پر کارروائیاں زیادہ ہوئی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ایران کے خلاف بلا جواز حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایک پرامن اور مذاکراتی حل تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔‘

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

wild bandito princess starlight perbedaan cara membangun dunia imajinatif permainan

pengguna kota metro membahas mengapa durasi jam bermain tidak menjamin hasil menguntungkan

mahjong ways kabupaten kutai kartanegara mengulas hubungan desain permainan persepsi pola

sweet bonanza kota ternate peran warna cerah menciptakan daya tarik visual

gates of olympus kabupaten serdang bedagai memahami mengapa multiplier tidak sama kepastian hasil

lucky neko kabupaten lampung selatan perpaduan identitas jepang gaya animasi kontemporer

mahjong wins kabupaten kubu raya mengamati kebiasaan berbagi pengalaman melalui media sosial

wild bandito kabupaten pamekasan bagaimana tema petualangan membentuk identitas visual

princess starlight kabupaten banyuasin menelaah pengaruh musik cahaya terhadap pengalaman digital

sweet bonanza kabupaten kutai timur memahami mengapa hasil sebelumnya tidak menentukan hasil berikutnya

mahjong ways kota banjarbaru membedakan fungsi simbol dekoratif simbol fungsional

lucky neko kabupaten indragiri hulu mengkaji daya tarik simbol keberuntungan perspektif budaya

gates of olympus kabupaten aceh tengah menentukan batas hiburan ekspektasi finansial

wild bandito kabupaten buru selatan mengulas fungsi ilustrasi menyampaikan tema permainan

mahjong pgsoft kabupaten konawe menelusuri transformasi unsur tradisional media digital

pemodelan mahjong ways menganalisis konsistensi frekuensi simbol data simulasi

observasi mahjong ways 2 mengkaji variansi outcome serangkaian percobaan

studi gates of olympus mengulas distribusi multiplier berdasarkan sampel hasil putaran

uji sweet bonanza membandingkan frekuensi kombinasi berbagai sesi

analisis starlight princess meninjau pola distribusi freespin melalui data simulasi

pemetaan lucky neko mengamati fluktuasi simbol interval pengamatan berbeda

simulasi pg soft mengkaji keterkaitan variansi frekuensi outcome permainan

kajian pragmatic play memetakan karakteristik distribusi simbol berdasarkan sampel data

observasi microgaming mengkaji sebaran hasil serangkaian percobaan acak

pemodelan playtech mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur khusus sampel data

studi netent menganalisis dinamika volatilitas selama periode pengamatan

analisis mahjong wins memetakan sebaran multiplier serangkaian simulasi

uji bonanza gold membandingkan outcome berdasarkan perbedaan interval pengamatan

kajian scatter hitam mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur data permainan

studi game online menganalisis pengaruh persepsi risiko terhadap proses pengambilan keputusan

penelitian teknologi informasi 00000001

penelitian teknologi informasi 00000002

penelitian teknologi informasi 00000003

penelitian teknologi informasi 00000004

penelitian teknologi informasi 00000005

penelitian teknologi informasi 00000006

penelitian teknologi informasi 00000007

penelitian teknologi informasi 00000008

penelitian teknologi informasi 00000009

penelitian teknologi informasi 00000010

penelitian teknologi informasi 00000011

penelitian teknologi informasi 00000012

penelitian teknologi informasi 00000013

penelitian teknologi informasi 00000014

penelitian teknologi informasi 00000015

penelitian teknologi informasi 00000016

penelitian teknologi informasi 00000017

penelitian teknologi informasi 00000018

penelitian teknologi informasi 00000019

penelitian teknologi informasi 00000020

penelitian teknologi informasi 00000021

penelitian teknologi informasi 00000022

penelitian teknologi informasi 00000023

penelitian teknologi informasi 00000024

penelitian teknologi informasi 00000025

penelitian teknologi informasi 00000026

penelitian teknologi informasi 00000027

penelitian teknologi informasi 00000028

penelitian teknologi informasi 00000029

penelitian teknologi informasi 00000030

penelitian teknologi informasi 00000031

penelitian teknologi informasi 00000032

penelitian teknologi informasi 00000033

penelitian teknologi informasi 00000034

penelitian teknologi informasi 00000035

penelitian teknologi informasi 00000036

penelitian teknologi informasi 00000037

penelitian teknologi informasi 00000038

penelitian teknologi informasi 00000039

penelitian teknologi informasi 00000040

penelitian teknologi informasi 00000041

penelitian teknologi informasi 00000042

penelitian teknologi informasi 00000043

penelitian teknologi informasi 00000044

penelitian teknologi informasi 00000045

Volatilitas dan Pola Kemenangan di Bandung Memahami Hubungan Keduanya

Cerita Player Semarang saat Menemukan Simbol Scatter Hitam

Gates of Olympus di Makassar Bagaimana Fitur Tumble Membentuk Dinamika Permainan

Mahjong Wins Palembang Menilik Fitur Free Spins yang Paling Dinantikan

Game PG Soft di Yogyakarta Membahas Faktor di Balik Nilai RTP yang Tinggi

Starlight Princess 1000 di Wilayah Denpasar Mengenal Fitur Multiplier x1000

Pola Gacor dan Tips Bermain Aman Pembahasan untuk Komunitas di Malang

Mahjong Ways 3 Pekanbaru Pengalaman Pemain dalam Memahami Fitur Maxwin

Simbol Scatter dan Wild di Balikpapan Perannya dalam Mengaktifkan Fitur Bonus

Memahami Sistem RNG dan Prinsip Keacakan Putaran dalam Game di Pontianak

Mahjong Wins 3 Batam Membahas Kemunculan Scatter Hitam dan Persepsi Keberuntungan

Tren Gacor Mahjong Ways Kembali Menjadi Perbincangan di Kalangan Player Bogor

Mahjong Wins 2 Surakarta Mengulas Fitur Free Spins yang Menarik Perhatian

Gates of Olympus Versi Bandar Lampung Membahas Momen Maxwin Spektakuler

Tingkat Volatilitas dan Hasil Sesi Permainan Kajian dari Kota Padang

Sweet Bonanza 1000 Wilayah Samarinda Mengenal Mekanisme Tumble Beruntun

Angka RTP Harian di Banjarmasin Memahami Informasi untuk Mengenali Karakteristik Game

Simbol Multiplier dan Petir Zeus di Manado Menelusuri Daya Tarik Elemen Visual

Game Modern di Mataram Mengulas Keistimewaan Fitur Cluster Pays

Strategi Membaca Pola Gacor ala Gamers Profesional dalam Perbincangan di Cirebon

Mahjong Ways Bekasi Mengenal Fitur Free Spins dengan Kemunculan Simbol Emas

Mahjong Wins 3 Wilayah Tangerang Mengulas Fenomena Maxwin yang Tidak Terduga

Volatilitas dan Durasi Bermain di Depok Memahami Pengaruh Karakteristik Permainan

Komunitas Serang Berbagi Pengalaman tentang Fitur Scatter Hitam

Starlight Princess di Purwokerto Faktor di Balik Popularitas Fitur Multiplier Besar

Tren Gacor dan RTP Live di Tasikmalaya Membahas Informasi yang Beredar di Komunitas

Mahjong Wins 2 Jambi Mengulas Momen Menegangkan saat Fitur Free Spins Aktif

Mahjong Ways 2 Bengkulu Memahami Kombinasi Simbol dan Mitos tentang Maxwin

Sistem RNG dan Keacakan Simbol pada Game Online Pembahasan dari Cimahi

Tumble Beruntun di Salatiga Memahami Mekanisme Permainan dan Persepsi Kemenangan Besar

informasi terbaru kabupaten belu 00000001

informasi terbaru kabupaten belu 00000002

informasi terbaru kabupaten belu 00000003

informasi terbaru kabupaten belu 00000004

informasi terbaru kabupaten belu 00000005

informasi terbaru kabupaten belu 00000006

informasi terbaru kabupaten belu 00000007

informasi terbaru kabupaten belu 00000008

informasi terbaru kabupaten belu 00000009

informasi terbaru kabupaten belu 00000010

informasi terbaru kabupaten belu 00000011

informasi terbaru kabupaten belu 00000012

informasi terbaru kabupaten belu 00000013

informasi terbaru kabupaten belu 00000014

informasi terbaru kabupaten belu 00000015

informasi terbaru kabupaten belu 00000016

informasi terbaru kabupaten belu 00000017

informasi terbaru kabupaten belu 00000018

informasi terbaru kabupaten belu 00000019

informasi terbaru kabupaten belu 00000020

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

sumenep cerita perkembangan istilah maxwin percakapan forum mahjong ways

pembaruan grafis pg soft menjadi topik hangat kalangan pengamat digital singaraja

bandung hingga jakarta perjalanan percakapan komunitas mahjong wins indonesia

gianyar mengulas hubungan istilah populer komunitas identitas visual mahjong ways

nuansa asia klasik karya pragmatic play menarik perhatian pengamat kreatif klungkung

bangli membahas kembalinya mahjong wins 3 percakapan simbol naga scatter

amlapura menyoroti perkembangan tampilan grafis mahjong ways 2 sudut pandang desain

forum digital berbagai wilayah indonesia menghidupkan diskusi mahjong ways

badung mengulas alasan scatter hitam mahjong wins 3 memiliki daya tarik visual tersendiri

mataram membandingkan pendekatan pragmatic play pg soft mengolah tema mahjong

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

noticias 000000001

noticias 000000002

noticias 000000003

noticias 000000004

noticias 000000005

noticias 000000006

noticias 000000007

noticias 000000008

noticias 000000009

noticias 000000010

noticias 000000011

noticias 000000012

noticias 000000013

noticias 000000014

noticias 000000015

noticias 000000016

noticias 000000017

noticias 000000018

noticias 000000019

noticias 000000020

noticias 000000021

noticias 000000022

noticias 000000023

noticias 000000024

noticias 000000025

noticias 000000026

noticias 000000027

noticias 000000028

noticias 000000029

noticias 000000030

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download