LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) کشمیریوں سےاظہار یکجہتی ,قومی اسمبلی پاکستان توانا آواز

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی پاکستان کی اولین ترجیح ہے, مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی بربریت عروج پر ہے, بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم و جبر کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کو کبھی کمزور نہیں کر سکتا۔ مسئلہ کشمیر کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کا یہ بیان بہت اہم ہے کیونکہ وہ کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھاتے ہیں سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک کی تحقیق کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی مستقل طور پر ایک طاقتور، متحد آواز کے طور پر کام کررہی ہے جو کشمیریوں کے حقوق کی وکالت کرتی ہے،کشمیریوں کےخود ارادیت کے لیے ان کی جدوجہد کے لیے غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرتی ہےیہ ایوان اکثر متفقہ قراردادیں پاس کرتا ہے جس میں جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مذمت کی جاتی ہے اور بین الاقوامی فورمز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔قومی اسمبلی سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات 5 اگست 2019، آرٹیکل 370 کی تنسیخ کو مسترد کرنے کی قراردادیں پاس کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ,
پارلیمنٹ اس بات کی تائید کرتی ہے کہ مسئلہ کشمیر محض علاقائی نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس کا مرکز حق خود ارادیت ہے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر اور پارلیمانی وفود بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) اور کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن جیسے بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو فعال طور پر اٹھاتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی کشمیر پر ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم ہے تاکہ مسئلہ کشمیر پر مسلسل توجہ اور پالیسی کی تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایوان مسلسل ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد، غیر قانونی حراستوں اور ہندوستانی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کی مذمت کرتار ہتا ہے۔

یہ غور کرنا چاہیے کہ مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ جابرانہ ہتھکنڈوں سے مقامی آزادی کی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ان اقدامات کے ذریعے، قومی اسمبلی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کشمیر کاز پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی گفتگو میں سرفہرست رہے۔حالیہ دورہ چین کے دوران چیئرمین نیشنل پیپلز کانگریس سے ملاقات میں بھی اسپیکر قومی اسمبلی کے مسئلہ کشمیر اٹھایا تھا۔اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان سردار ایازصادق کا کہنا ہےکہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لےمقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو ہر فورم پر اٹھاتے رہے ہیں اوراٹھاتے رہیں گے۔اسپیکر قومی اسمبلی سے برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کے رکن عمران حسین کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں رکن ہاؤس آف کامنز نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کے رکن کا بھی یہ کہنا ہے کہ وہ برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے مسئلے کو مؤثر انداز میں اٹھائیں گے خاص طور پر کشمیر میں یتیم اور مستحق بچوں کی خدمت کے لیے آرفنج فاؤنڈیشن کی سماجی و فلاحی خدمات کو سراہا گیا اس موقع پر وفاقی وزیر و چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی بحران ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں، عالمی برادری کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
یہ یاد رکھیں کہ یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو پاکستان اور دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا، ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرنا اور بھارتی مظالم کی مذمت کرنا ہے۔ پانچ فروری کو پاکستان میں منقسم کشمیر کے سبھی حصوں میں بسنے والے کشمیریوں سےاظہارِ یکجہتی کے لیے ”یوم یکجہتی کشمیر” مناتے ہیں یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ 36 سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ تاہم کم ہی لوگ یہ جانتے ہیں کہ اس دن کو منانے کی شروعات کب اور کیسے ہوئی، کس شخصیت نے سب سے پہلے یہ تجویز پیش کی یاد رکھیں کہ 25 جنوری 1990 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں پیش آنے والا واقعہ کشمیری تاریخ کے المناک دنوں میں شمار کیا جاتا ہےاس روز بھارتی قابض فورسز نے ایک پُرامن اجتماع پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 نہتے کشمیری جان سے گئے جبکہ 75 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔عینی شاہدین کے مطابق ہندواڑہ میں ہونے والا اجتماع غیر مسلح شہریوں پر مشتمل تھا، جو وادی میں جاری قتل و غارت کے خلاف آواز بلند کرنے اور انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
اس وقت پوری وادی پہلے ہی گاؤکدل قتلِ عام کے صدمے میں تھی، تاہم حالات کو بہتر بنانے کے بجائے بھارتی حکام نے کرفیو، فوجی محاصرے اور جبری گرفتاریوں میں مزید شدت پیدا کر دی بھارتی فورسز نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے پورا علاقہ خوف اور غم میں ڈوب گیا۔ اس واقعے کے بعد بھی حسبِ روایت نہ کوئی آزادانہ تحقیقات ہو سکیں اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا دی گئی۔ہندواڑہ قتلِ عام کو کشمیری عوام آج بھی ایک ایسے واقعے کے طور پر یاد کرتے ہیں جس نے یہ پیغام دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف احتجاج بلکہ غم منانا بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ کشمیریوں کی طویل جدوجہدِ آزادی کی ایک خونی کڑی قرار دیا جاتا ہے، جو آج بھی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے شواہد بتاتے ہیں کہ اس دن کو منانے کا آغاز تقسیم کشمیر سے قبل ہی 1932 میں متحدہ پنجاب سے ہو گیا تھا تاہم یہ سلسلہ ٹوٹتا اور جڑتا رہا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیا جاتا رہا تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مقرر نہیں تھا اور یہ سلسلہ بھی مسلسل نہیں رہا, شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا۔ اس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورا پاکستان بند ہو گیا اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کی سربراہ قاضی حسین احمد کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اس وقت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔ یاد رکھیں کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں اتاری تھیں اور ایک بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا، تاہم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کا مطالبہ 1990 میں قاضی حسین نے میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا اور اس کی فوری تائید وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کی۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اور تنازع کشمیر کے سیاسی طور پر حل ہونے کے امکانات سے مایوس کشمیری نوجوان عسکری تحریک میں شامل ہو رہے تھے۔ ہلاکتوں اور ہجرتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اسی دوران 29 تا 31 دسمبر 1988 جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا تھااور ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئےتھے۔
ملک میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھی۔ ۔میاں نواز شریف اس وقت اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ تھی اور اس کے سربراہ قاضی حسین احمد اور میاں نواز شریف کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی۔ اسلامی جمہوری اتحاد قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں تھا اور پنجاب کی صوبائی حکومت بھی اسی اتحاد کے پاس تھی۔ میاں نواز شریف اور قاضی حسین احمد نے اس معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک اپنے عروج کی طرف رواں تھی اور بھارت کی افواج اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا کھل کر استعمال کر رہی تھیں۔ نتیجتاً بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتیں روز کا معمول بن گئیں ۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی مشاورت سے کشمیر میں مسلح عسکری تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اور پانچ فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کشمیر کے معاملے پر پہلے ہی اپوزیشن کے نشانے پر تھی لہٰذا وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بغیر تاخیر اس اعلان کی تائید کی اور آنے والے سالوں میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیاتھا۔تاہم یوم یکجہتی کشمیر کو سرکاری طور پر منانے کے آغاز 2004 میں ہواتھا جب اس وقت کے وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی اور وزیر امور کشمیر آفتاب احمد خان شیرپاو نے یہ دن سرکاری طور پر منانے کے اعلان کیاتھا۔ پانچ فروری 2004 کو وزیر اعظم جمالی نے مظفرآباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور جموں وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیاتھا۔ تب سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ہر سال اسی دن یہ مشترکہ اجلاس منعقد ہوتا ہے اور وزیر اعظم پاکستان یا ان کا نامزد نمائندہ اس اجلاس میں ضرور شامل ہوتا ہےبھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ جارحانہ رویے کے تناظر میں، یوم یکجہتی کشمیر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور دیرپا حل پر ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج نے سری نگر میں داخل ہو کر بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کی صریح خلاف ورزی کی، اس دن سے جدید تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب شروع ہوا۔

 

ہر سال ہم یوم یکجہتی کشمیر اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بہادر جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مناتے ہیں، جو اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ظلم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں، بھارت کے دہائیوں پر محیط مظالم کے باوجود کشمیری عوام کی مزاحمتی روح آج بھی قائم ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کی یہ جارحانہ مہم مزید شدت اختیار کر گئی ہے، بھارت نے یکطرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، فوجی محاصرہ نافذ کیا، کشمیریوں کی املاک تباہ کر کے اجتماعی سزا دی اور ایسے ظالمانہ قوانین لاگو کیے جنہوں نے کشمیری عوام کو اُن کی بنیادی آزادیوں سے محروم کر دیا۔ مقبوضہ وادی بدستور نقل و حرکت، ابلاغ اور اجتماع کی سخت پابندیوں کے تحت ہے جبکہ جعلی مقابلے، حراستی تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں شہریوں کو خوفزدہ رکھنے کے لیے جاری ہیں، بھارتی حکام منظم انداز میں کوشش کر رہے ہیں کہ کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے۔تقریباً 8 دہائیوں سے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام نے بے پناہ مصائب اور ظلم و جبر کا سامنا کیا ہے، ہم اُن کے ناقابلِ تسخیر حوصلے، ہمت اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں، آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اُن کا عزم آج بھی غیر متزلزل ہے5 اگست 2019 سے بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات میں مزید شدت پیدا کر دی ہے، جن کا مقصد جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت اور سیاسی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ نقل و حرکت اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ بھارت نے ظالمانہ قوانین نافذ کر کے کشمیریوں کی جائز سیاسی آوازوں کو دبانے اور اُن کے قومی جذبے کو کچلنے کے لیے منظم مہم شروع کر رکھی ہے، متعدد ممتاز کشمیری رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت قید میں رکھنا بھارتی انتہا پسندانہ ایجنڈے کی بدترین مثال ہے، ان کی مسلسل نظربندیاں انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ان غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو پاکستان اور دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا، ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرنا اور بھارتی مظالم کی مذمت کرنا ہے۔اس دن کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلوانا ضروری ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حق میں ہمیشہ کھڑا رہا ہے اور کشمیریوں کی مکمل حمایت جاری رکھتا ہے۔
پاکستان کی حکومت اور عوام ہر سال ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ مناتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی مستقل حمایت کی تجدید کی جاسکے۔ حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ ہر سال، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک قرارداد منظور کرتی ہے جس میں لوگوں کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کے قانونی حق پر زور دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ کشمیری عوام گزشتہ 79 سال گزرنے کے باوجود اس ناقابل تنسیخ حق کو استعمال نہیں کر سکے۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط، مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے سب سے بڑے قابض فوجی علاقوں میں سے ایک ہے۔ کشمیری خوف اور دہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو طویل حراست میں رکھا جا رہا ہے اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان جابرانہ اقدامات کا مقصد اختلاف رائے کو کچلنا ہے۔ بھارت، مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ 5 اگست, 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد، بھارت کی کوششوں کا مقصد بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی اور سیاسی ماحول کو تبدیل کرنا ہے تاکہ کشمیری اپنی ہی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل ہو جائیں- مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دیرینہ تنازعات کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہیے۔ مقامی لوگوں کی حقیقی امنگوں کو دبا کر دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے مفاد میں عالمی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کو آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے۔ جموں و کشمیر کا تنازعہ ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہےپاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری عوام کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ بہادر کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد میں لاتعداد قربانیاں دے رہے ہیں۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ کشمیر ہمیشہ ہندوستان سے علیحدہ آزاد اور خودمختار ریاست رہا ہے۔ آج وہاں جو حالات ہیں وہ وہاں رونما ہونے والے تاریخی واقعات کے تسلسل کا نتیجہ ہیں,ڈوگرہ راج جموں و کشمیر پر 1947ء تک قائم رہا۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ یہ ریاست خود مختار تھی۔ جموں و کشمیر میں ڈوگرہ راج سے آزادی کی تحریک کا آغاز 1925ء میں اس وقت ہوا تھا جب ہندو راجہ ہری سنگھ 77 فیصد مسلم آبادی کا راجہ بنا تھا۔1932ء میں نوجوان رہنما شیخ محمد عبد اللہ کشمیر کے سیاسی افق پر ابھرے ۔ 1931ء سے لے کر آج تک کشمیری مسلمان ہر طرح ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ان کی تحریک آزادی ابھی تک جاری ہے۔ 1947ء کے فسادات کے اثرات جب جموں و کشمیر پہنچے تو جموں میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جموں و کشمیر اورلداخ کی تاریخ بتاتی ہے کہ معاملات اس طرح طے نہیں ہو سکتے جس طرح بھارتی انتہا پسند حکمراں کرنا چاہتے ہیں۔ جموں میں مسلم آبادی کا تناسب کم ہو چکا ہے لیکن مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی کو کچلا نہیں جا سکا ہے۔ شاید کشمیری یہ لڑائی جمہوری اور قانونی طریقے سے لڑنا چاہتے ہیں لیکن بھارت ہر طرح سے ان کی آواز دبانا چاہتا ہے۔ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے عوام کی خواہشات کے برعکس 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت کے ساتھ الحاق کر لیا تھا جس کے نتیجے میں بھارتی افواج نے کشمیر پر قبضہ کر لیا تھا۔ جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی تسلط ایک ایسا معاملہ ہے جسے دنیا متنازعہ تصور کرتی ہے حالانکہ حالیہ برسوں میں بھارت بین الاقوامی برادری کو یہ یقین دلانے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کرچکا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے اس کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ میں حال ہی مسئلہ کشمیر کو جس طرح موضوع بنایا گیا ہے اس سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کو بھارت کی نظر سے ہرگز نہیں دیکھتی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، بھارت کو یہ خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی امن بورڈ میں لاسکتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں بلکہ ایک ایسا متنازعہ علاقہ مانتی ہے، لہٰذا بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدام اور اس کے بعد کی گئی تمام کوششوں کو بین الاقوامی برادری کوئی حیثیت نہیں دیتی کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے منتظر ہیں کہ انھیں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔
آج جب بین الاقوامی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی، قومی اسمبلی پاکستان ,امریکی ثالثی کی پذیرائی اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر وہ کسی بھی صورت اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پاکستان کا جموں و کشمیر پر مؤقف واضح، دوٹوک اور اصولی ہے۔ہم جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں کہ جب تک انصاف نہیں مل جاتا اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں دیا گیا وعدہ پورا نہیں ہوتا، ہم اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ان شااللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی نصیب ہوگی

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

wild bandito princess starlight perbedaan cara membangun dunia imajinatif permainan

pengguna kota metro membahas mengapa durasi jam bermain tidak menjamin hasil menguntungkan

mahjong ways kabupaten kutai kartanegara mengulas hubungan desain permainan persepsi pola

sweet bonanza kota ternate peran warna cerah menciptakan daya tarik visual

gates of olympus kabupaten serdang bedagai memahami mengapa multiplier tidak sama kepastian hasil

lucky neko kabupaten lampung selatan perpaduan identitas jepang gaya animasi kontemporer

mahjong wins kabupaten kubu raya mengamati kebiasaan berbagi pengalaman melalui media sosial

wild bandito kabupaten pamekasan bagaimana tema petualangan membentuk identitas visual

princess starlight kabupaten banyuasin menelaah pengaruh musik cahaya terhadap pengalaman digital

sweet bonanza kabupaten kutai timur memahami mengapa hasil sebelumnya tidak menentukan hasil berikutnya

mahjong ways kota banjarbaru membedakan fungsi simbol dekoratif simbol fungsional

lucky neko kabupaten indragiri hulu mengkaji daya tarik simbol keberuntungan perspektif budaya

gates of olympus kabupaten aceh tengah menentukan batas hiburan ekspektasi finansial

wild bandito kabupaten buru selatan mengulas fungsi ilustrasi menyampaikan tema permainan

mahjong pgsoft kabupaten konawe menelusuri transformasi unsur tradisional media digital

pemodelan mahjong ways menganalisis konsistensi frekuensi simbol data simulasi

observasi mahjong ways 2 mengkaji variansi outcome serangkaian percobaan

studi gates of olympus mengulas distribusi multiplier berdasarkan sampel hasil putaran

uji sweet bonanza membandingkan frekuensi kombinasi berbagai sesi

analisis starlight princess meninjau pola distribusi freespin melalui data simulasi

pemetaan lucky neko mengamati fluktuasi simbol interval pengamatan berbeda

simulasi pg soft mengkaji keterkaitan variansi frekuensi outcome permainan

kajian pragmatic play memetakan karakteristik distribusi simbol berdasarkan sampel data

observasi microgaming mengkaji sebaran hasil serangkaian percobaan acak

pemodelan playtech mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur khusus sampel data

studi netent menganalisis dinamika volatilitas selama periode pengamatan

analisis mahjong wins memetakan sebaran multiplier serangkaian simulasi

uji bonanza gold membandingkan outcome berdasarkan perbedaan interval pengamatan

kajian scatter hitam mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur data permainan

studi game online menganalisis pengaruh persepsi risiko terhadap proses pengambilan keputusan

penelitian teknologi informasi 00000001

penelitian teknologi informasi 00000002

penelitian teknologi informasi 00000003

penelitian teknologi informasi 00000004

penelitian teknologi informasi 00000005

penelitian teknologi informasi 00000006

penelitian teknologi informasi 00000007

penelitian teknologi informasi 00000008

penelitian teknologi informasi 00000009

penelitian teknologi informasi 00000010

penelitian teknologi informasi 00000011

penelitian teknologi informasi 00000012

penelitian teknologi informasi 00000013

penelitian teknologi informasi 00000014

penelitian teknologi informasi 00000015

penelitian teknologi informasi 00000016

penelitian teknologi informasi 00000017

penelitian teknologi informasi 00000018

penelitian teknologi informasi 00000019

penelitian teknologi informasi 00000020

penelitian teknologi informasi 00000021

penelitian teknologi informasi 00000022

penelitian teknologi informasi 00000023

penelitian teknologi informasi 00000024

penelitian teknologi informasi 00000025

penelitian teknologi informasi 00000026

penelitian teknologi informasi 00000027

penelitian teknologi informasi 00000028

penelitian teknologi informasi 00000029

penelitian teknologi informasi 00000030

penelitian teknologi informasi 00000031

penelitian teknologi informasi 00000032

penelitian teknologi informasi 00000033

penelitian teknologi informasi 00000034

penelitian teknologi informasi 00000035

penelitian teknologi informasi 00000036

penelitian teknologi informasi 00000037

penelitian teknologi informasi 00000038

penelitian teknologi informasi 00000039

penelitian teknologi informasi 00000040

penelitian teknologi informasi 00000041

penelitian teknologi informasi 00000042

penelitian teknologi informasi 00000043

penelitian teknologi informasi 00000044

penelitian teknologi informasi 00000045

Volatilitas dan Pola Kemenangan di Bandung Memahami Hubungan Keduanya

Cerita Player Semarang saat Menemukan Simbol Scatter Hitam

Gates of Olympus di Makassar Bagaimana Fitur Tumble Membentuk Dinamika Permainan

Mahjong Wins Palembang Menilik Fitur Free Spins yang Paling Dinantikan

Game PG Soft di Yogyakarta Membahas Faktor di Balik Nilai RTP yang Tinggi

Starlight Princess 1000 di Wilayah Denpasar Mengenal Fitur Multiplier x1000

Pola Gacor dan Tips Bermain Aman Pembahasan untuk Komunitas di Malang

Mahjong Ways 3 Pekanbaru Pengalaman Pemain dalam Memahami Fitur Maxwin

Simbol Scatter dan Wild di Balikpapan Perannya dalam Mengaktifkan Fitur Bonus

Memahami Sistem RNG dan Prinsip Keacakan Putaran dalam Game di Pontianak

Mahjong Wins 3 Batam Membahas Kemunculan Scatter Hitam dan Persepsi Keberuntungan

Tren Gacor Mahjong Ways Kembali Menjadi Perbincangan di Kalangan Player Bogor

Mahjong Wins 2 Surakarta Mengulas Fitur Free Spins yang Menarik Perhatian

Gates of Olympus Versi Bandar Lampung Membahas Momen Maxwin Spektakuler

Tingkat Volatilitas dan Hasil Sesi Permainan Kajian dari Kota Padang

Sweet Bonanza 1000 Wilayah Samarinda Mengenal Mekanisme Tumble Beruntun

Angka RTP Harian di Banjarmasin Memahami Informasi untuk Mengenali Karakteristik Game

Simbol Multiplier dan Petir Zeus di Manado Menelusuri Daya Tarik Elemen Visual

Game Modern di Mataram Mengulas Keistimewaan Fitur Cluster Pays

Strategi Membaca Pola Gacor ala Gamers Profesional dalam Perbincangan di Cirebon

Mahjong Ways Bekasi Mengenal Fitur Free Spins dengan Kemunculan Simbol Emas

Mahjong Wins 3 Wilayah Tangerang Mengulas Fenomena Maxwin yang Tidak Terduga

Volatilitas dan Durasi Bermain di Depok Memahami Pengaruh Karakteristik Permainan

Komunitas Serang Berbagi Pengalaman tentang Fitur Scatter Hitam

Starlight Princess di Purwokerto Faktor di Balik Popularitas Fitur Multiplier Besar

Tren Gacor dan RTP Live di Tasikmalaya Membahas Informasi yang Beredar di Komunitas

Mahjong Wins 2 Jambi Mengulas Momen Menegangkan saat Fitur Free Spins Aktif

Mahjong Ways 2 Bengkulu Memahami Kombinasi Simbol dan Mitos tentang Maxwin

Sistem RNG dan Keacakan Simbol pada Game Online Pembahasan dari Cimahi

Tumble Beruntun di Salatiga Memahami Mekanisme Permainan dan Persepsi Kemenangan Besar

informasi terbaru kabupaten belu 00000001

informasi terbaru kabupaten belu 00000002

informasi terbaru kabupaten belu 00000003

informasi terbaru kabupaten belu 00000004

informasi terbaru kabupaten belu 00000005

informasi terbaru kabupaten belu 00000006

informasi terbaru kabupaten belu 00000007

informasi terbaru kabupaten belu 00000008

informasi terbaru kabupaten belu 00000009

informasi terbaru kabupaten belu 00000010

informasi terbaru kabupaten belu 00000011

informasi terbaru kabupaten belu 00000012

informasi terbaru kabupaten belu 00000013

informasi terbaru kabupaten belu 00000014

informasi terbaru kabupaten belu 00000015

informasi terbaru kabupaten belu 00000016

informasi terbaru kabupaten belu 00000017

informasi terbaru kabupaten belu 00000018

informasi terbaru kabupaten belu 00000019

informasi terbaru kabupaten belu 00000020

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

sumenep cerita perkembangan istilah maxwin percakapan forum mahjong ways

pembaruan grafis pg soft menjadi topik hangat kalangan pengamat digital singaraja

bandung hingga jakarta perjalanan percakapan komunitas mahjong wins indonesia

gianyar mengulas hubungan istilah populer komunitas identitas visual mahjong ways

nuansa asia klasik karya pragmatic play menarik perhatian pengamat kreatif klungkung

bangli membahas kembalinya mahjong wins 3 percakapan simbol naga scatter

amlapura menyoroti perkembangan tampilan grafis mahjong ways 2 sudut pandang desain

forum digital berbagai wilayah indonesia menghidupkan diskusi mahjong ways

badung mengulas alasan scatter hitam mahjong wins 3 memiliki daya tarik visual tersendiri

mataram membandingkan pendekatan pragmatic play pg soft mengolah tema mahjong

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

noticias 000000001

noticias 000000002

noticias 000000003

noticias 000000004

noticias 000000005

noticias 000000006

noticias 000000007

noticias 000000008

noticias 000000009

noticias 000000010

noticias 000000011

noticias 000000012

noticias 000000013

noticias 000000014

noticias 000000015

noticias 000000016

noticias 000000017

noticias 000000018

noticias 000000019

noticias 000000020

noticias 000000021

noticias 000000022

noticias 000000023

noticias 000000024

noticias 000000025

noticias 000000026

noticias 000000027

noticias 000000028

noticias 000000029

noticias 000000030

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download