LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پانی بطور جنگی ہتھیار عالمی قوانین کی خلاف ورزی,وزیراعظم پاکستان کاعالمی دن پر پیغام

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ 1949 کے جنیوا کنونشن اور 1977 کے اضافی پروٹوکول کے تحت، پانی کے وسائل کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ممنوع ہے، کیونکہ یہ آبادیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔بھارتی آبی جارحیت سے جنوبی ایشیا میں امن کاتوازن بگڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک کی تحقیق کے مطابق پاکستان نےگزشتہ سال معرکہ حق میں تاریخی فتح کے بعد بارہا دفعہ بھارتی آبی جارحیت کو دنیاکے ہر فورم پر اجاگرکیاہے بالخصوص عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی دلیل ہے،بھارت میں انتہاپسند مودی سرکار پانی کو بطور ہتھیاراستمعال کرنے کی مذموم کوشش کررہاہےگزشتہ روز دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن پر وزیراعظم کا پیغام میں کہناتھاکہ پاکستان پانی کو جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے اوربھرپور انداز میں مسترد کرتا ہے۔ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے انڈس واٹرز ٹریٹی 1960 کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔دنیا کے آبی ذخائر کا عالمی دن پاکستان اور اقوام عالم کو آبی ذخائر کے دیر پا تحفظ اور انتظام کے عزم کے اعادہ کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سال یہ دن “آبی ذخائر اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کی پاسداری” کے نہایت موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔ یہ عنوان ہمیں آبی ذخائر کے ثقافتی پس منظر اور اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن 2 فروری 2026 پر اپنے پیغام میں کہا کہ

 

پاکستان1971 کے آبی ذخائر کے عالمی معاہدے کا رکن ہے جس کے تحت نوع انسانی کے لیے آبی ذخائر کے استعمال اور ان کے وسائل کے تحفظ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ عالمی دن اسی معاہدے کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ قابل بھروسہ آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے شدید ماحولیاتی اور معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ذخائر خشک سالی،سیلاب اور شدید موسمیاتی تغیر سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے آبی ذخائر، بشمول جھیلیں اور گلیشیئر، اندرونی آبی ذخائر اور ساحلی و مینگروو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تغیر سے بچاو اور، پانی کے نظم و نسق کا باعث ہیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کے لیے آبی ذخائر ذریعہ معاش اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ آبی ذخائر میں کمی لوگوں کے روزگار میں کمی ،قومی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور سیلاب اور خشک سالی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ آبی ذخائر کا تحفظ محض موسمیاتی تغیر سے بچنے کے لیے ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود کا ضامن ہے ۔ وزیراعظم پاکستان نے پیغام میں کہا کہ آئیے آج کے دن تجدید عہد کریں کہ نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر ہم آبی ذخائر کو اپنا بیش قیمت قومی، ماحولیاتی، سماجی و ثقافتی اثاثہ سمجھتے ہوئے اسکے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کریں گے عالمی سطح پر حکومت پاکستان ممالک کے درمیان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ 1949 کے جنیوا کنونشن اور 1977 کے اضافی پروٹوکول کے تحت، پانی کے وسائل کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ممنوع ہے، کیونکہ یہ آبادیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی خلاف ورزی عالمی قوانین جنیوا کنونشنز اور ان کے اضافی پروٹوکولز کے تحت کی جاتی ہے، خاص طور پر جنیوا کنونشنز (1949)آرٹیکل 54کے تحت: دشمن کی آبادی کو بھوک سے مارنے یا ضروری زندگی کے وسائل سے محروم کرنے کی کوشش ممنوع ہے۔اسکےساتھ آرٹیکل 55: جنگ کے دوران آبادی کی بقا کے لیے ضروری وسائل، جیسے پانی، کو نقصان پہنچانے یا تباہ کرنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ اضافی پروٹوکول (1977)کے آرٹیکل 35کے تحت: جنگ کے وسائل کو بے دریغ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے، جس میں پانی بھی شامل ہےجبکہ آرٹیکل 54: آبادی کو ضروری وسائل سے محروم کرنے کی کوشش ممنوع ہے بھارت, پاکستان سمیت بہت سے ممالک نے ان کنونشنز پر دستخط کیے ہیں اوراسکے پابند ہیں ,ایسے واقعات کی بین الاقوامی سطح پر گرفت کے لیے کئی طریقے ہیں, بین الاقوامی ثالثی عدالت ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک قانونی ادارہ ہے۔ اگر کوئی ملک جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو متاثرہ ملک بین الاقوامی ثالثی عدالت میں شکایت درج کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس جنیوا کنونشنز کی پابندی کی نگرانی کرتا ہے اور خلاف ورزیوں کی رپورٹ کرتا ہے۔ اگر کوئی ملک بین الاقوامی امن کو خطرے میں ڈالتا ہے، تو امن کونسل مداخلت کر سکتی ہے اور سزائیں عائد کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی عدالت اگر کسی ملک میں جنگی جرائم یا نسل کشی ہو رہی ہے، تو مجرموں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔یونسکوپانی کے وسائل کی حفاظت اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کے لیے کام کرتا ہے پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے, بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، سندھ طاس معاہدے کے معاملے میں پاکستان کو ایک بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل ہوگئی ہے29 جنوری 2026 کو جاری ہونے والے ثالثی عدالت کے پروسیجرل آرڈر نمبر 19 میں پاکستان کے معاہدے پر مبنی مؤقف کی واضح توثیق کر دی ہے جبکہ عدالت ثالثی نے نہ صرف اپنی قانونی اتھارٹی برقرار رکھی بلکہ پاکستان کے پیش کردہ شواہد کو آگے بڑھاتے ہوئے تعمیل کی ذمہ داری براہِ راست بھارت پر عائد کر دی ہے۔پاکستان اپنے مختص کردہ پانی کے بہاؤ میں یکطرفہ طور پر رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ریڈ لائن کے طور پر دیکھتا ہے۔ بھارت کا پانی کو جبر کے آلے کے طور پر استعمال کرنا نقصان دہ ہوگا اور متناسب سفارتی، قانونی اور تزویراتی ردعمل کو مدعو کرے گا۔ پانی ایک انسانی ضرورت ہے نہ کہ جنگ کا ہتھیار۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں بشمول یکطرفہ پانی روکنا، مخالفانہ بیان بازی، معطلی کی دھمکیاں، اور ثالثی میں شامل ہونے سے انکار پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار بنانے کی دانستہ حکمت عملی کو بے نقاب کرتا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ جارحانہ ہائیڈرو پولیٹیکل مہم نہ صرف پاکستان کی آبی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون، کثیر جہتی معاہدوں کے تقدس اور جنوبی ایشیا میں امن کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔حکومت پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے متعلق عدالت کا کردار نہایت اہم ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور، بشمول مقبوضہ کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی، پر بھارت سے بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔اس حوالے سے پاکستان کا بیانیہ یہ ہے کہ آئی ڈبلیو ٹی کو معطل کرنے کی ہندوستان کی کوشش ناجائز ہے۔بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا اور ایسی کوئی بھی کارروائی قانونی طور پر باطل، اخلاقی طور پر ناقابل دفاع اور ویانا کنونشن آن دی لا آف ٹریٹیز اور بین الاقوامی واٹر کورس قانون کی خلاف ورزی ہے فیصلے کے بعد یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ بھارت کو نہ صرف ثالثی کارروائی روکنے کا اختیار حاصل نہیں بلکہ مستقبل میں بھی وہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ عدالت کا یہ فیصلہ پاکستان کی 2016 میں رتلے اور کشن گنگا منصوبوں پر دائر کی گئی شکایت کے تناظر میں آیا ہے، جس میں بھارت کی طرف سے ورلڈ بینک کے ذریعے کارروائی روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو مسترد کرنے کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک سیاسی مفاہمت نہیں، بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر یک طرفہ طور پر نظر ثانی یا انکار ممکن نہیں۔ پاکستان اس معاہدے کا مکمل احترام کرتا ہے اور اپنے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گا۔ بھارت کی طرف سے معاہدے کو معطل کرنے یا مسترد کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں، کیونکہ سندھ طاس معاہدہ اقوام متحدہ کے زیرِ اثر طے پایا تھا اور یہ عالمی قوانین کے تحت دونوں ممالک کو اس پر عمل درآمد کا پابند کرتا ہے۔ معاہدے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی کوشش نہ صرف انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ عالمی برادری کے لیے بھی خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے اپنے بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل پاسداری کرتا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد جاری رکھے گا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنے یک طرفہ، غیر قانونی اور اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات سے باز رہے اور معاہدے پر بلاتعطل عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ایسے جارحانہ اور غیر قانونی رویے کا نوٹس لے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ پاکستان نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ اپنے آبی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور کسی بھی قسم کی زیادتی کو برداشت نہیں کرے گا۔بھارتی وزیر اعظم مودی سمیت ہندوستانی رہنماؤں نے کھلے عام پاکستان کو پانی تک رسائی کی دھمکی دی ہے، جیسے کہ خون اور پانی ساتھ نہیں ہوگا۔ اس طرح کی بیان بازی، اکثر انتخابی مہموں کے دوران، ہائیڈرولوجیکل جارحیت کے ذریعے زبردستی کی ایک گہری حکمت عملی کو بے نقاب کرتی ہے۔مغربی دریاؤں پر بگلیہار اور کشن گنگا جیسے منصوبے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور پاکستان کی پانی کی دستیابی کو کم کرتے ہیں، جس سے پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ملک میں زراعت، معاش اور غذائی تحفظ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔چاہے کلبھوشن جادھو کیس ہو یا جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان نے کبھی بھی سویلین انفراسٹرکچر پر سیاست نہیں کی۔ اس نے مسلسل سندھ طاس معاہدے کا احترام کیا ہے۔ بھارت کے اقدامات معاہدے کی روح اور ساخت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ سنہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں آئی ڈبلیو ٹی کو جان بوجھ کر سیاسی اور فوجی کشیدگی سے دور رکھا گیا۔ بھارت کی اسے وسیع تر تنازعات سے جوڑنے کی کوشش معاہدے اور پرامن آبی تعاون کے بین الاقوامی فریم ورک دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔بھارت نے ثالثی میں شامل ہونے سے انکار کرکے اور ضامن کے طور پر بینک کے کردار کی بے عزتی کرکے عالمی بینک کے طریقہ کار کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس سے نہ صرف سندھ طاس معاہدہ کمزور ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں پر عالمی اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ پانی کو ہتھیار بنانا بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ کے واٹر کورسز کنونشن اور بغیر نقصان کے اصولوں کے تحت، سرحدی پانیوں کا باہمی تعاون کے ساتھ انتظام کیا جانا چاہیے دوسری جانب حکومت پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کا بھارتی اقدام کو غیرقانونی کہنا پاکستان کے مؤقف کی تائید ہے۔حکومت پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے متعلق عدالت کا کردار نہایت اہم ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور، بشمول مقبوضہ کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی، پر بھارت سے بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔عدالتِ ثالثی نے واضح طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ثالثی کا عمل مکمل طور پر فعال ہے اور کسی ایک فریق کی عدم شرکت کارروائی کو روک نہیں سکتی۔ عدالت نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ سیاسی بیانات یا یکطرفہ اعلانات معاہداتی طریقہ کار کو معطل نہیں کر سکتے۔حکم میں کہا گیا کہ تعمیل کا تعین زمینی اور عملی حقائق کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ مبالغہ آمیز یا مفروضاتی منصوبہ بندی پر۔ عدالت نے کارروائی میں بھارت کی جانب سے مقررہ ٹائم لائنز پر عدم جواب دہی کو باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔ اہم پیشرفت کے طور پر عدالت نے ہدایت دی ہے کہ بھارت مقررہ مدت کے اندر اپنے آپریشنل لاگ بکس اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرے اور واضح کیا کہ عدم تعاون سندھ طاس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کی ذمہ داریوں کو کمزور نہیں کرتا۔پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام کو آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر بدستور نافذ العمل ہے اور کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کینیڈا کے مستقل مشن اور اقوام متحدہ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ گلوبل واٹر بینکرپسی پالیسی راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سفیر نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر مکمل طور پر برقرار ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپریل گزشتہ سال بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کا اعلان، اس کے بعد بغیر اطلاع پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں اور ہائیڈرولوجیکل معلومات روکنا، معاہدے کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے دریائے سندھ کے نظام کے منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی انتظام کے لیے ایک آزمودہ فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔ یہ نظام پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زرعی پانی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ 24 کروڑ سے زائد افراد کے روزگار اور خوراک کا دارومدار اسی پر ہے پانی کی عدم تحفظ اب محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی نظامی خطرہ بن چکا ہے، جو خوراک کی پیداوار، توانائی، صحتِ عامہ، روزگار اور انسانی سلامتی کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کو شدید سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، زیرِ زمین پانی کی کمی اور تیز رفتار آبادی میں اضافے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جو پہلے سے دباؤ میں موجود آبی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔پاکستان آبی لچک ڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے، جن میں مربوط آبی منصوبہ بندی، سیلاب سے تحفظ، نہری نظام کی بحالی، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی شامل ہیں، جن میں لیونگ انڈس اور ریچارج پاکستان جیسے منصوبے نمایاں ہیں۔مشترکہ دریائی نظاموں میں پانی کے خطرات کا مقابلہ کوئی بھی ملک اکیلا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے شفافیت، پیش بینی اور باہمی تعاون کو سرحد پار آبی نظم و نسق کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ سفیر نے مطالبہ کیا کہ 2026 کی اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس سے قبل پانی کے عدم تحفظ کو ایک عالمی نظامی خطرے کے طور پر تسلیم کیا جائے اور بین الاقوامی آبی قوانین کے احترام کو مشترکہ آبی نظم و نسق کا مرکز بنایا جائے۔پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن نے اپنے فیصلے میں بھارت کے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور ثالثی عدالت کے کردار کو محدود کرنے کے اقدام کو ناقابلِ قبول اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ معاہدے میں کسی بھی فریق کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر ثالثی کارروائی کو روک دے یا عدالت کے دائرہ کار کو محدود کرے۔ فیصلے کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی سے متعلق کوئی شق موجود نہیں، اور اس معاہدے کا اطلاق صرف دونوں ممالک کی باہمی رضا مندی سے ہی ختم یا معطل کیا جا سکتا ہے۔

 

عدالت نے واضح کیا کہ اگر ایک فریق معاہدہ معطل کرنے کی کوشش بھی کرے تو بھی عدالت کی کارروائی اور فیصلہ سازی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی شقیں تنازعات کے حل کے لیے ثالثی عدالت کو لازمی اور فعال کردار سونپتی ہیں۔ کسی ایک فریق کی طرف سے ثالثی کو روکنے کی کوشش معاہدے کی روح کے منافی ہے۔ عدالت سندھ طاس معاہدے پر فیصلہ سازی جاری رکھے گی اور منصفانہ، مؤثر اور ذمہ دارانہ طریقے سے کردار ادا کرتی رہے گی,پاکستان نے دریائے چناب کے بہاؤ میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر وضاحت کے لیے بھارت کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے دریائے چناب کے بہاؤ میں ’اچانک تبدیلی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت نے دریائے چناب میں پانی چھوڑا ہے۔ پاکستان ان تبدیلیوں کو انتہائی تشویش اور سنجیدگی سے دیکھتا ہے، یہ بھارت کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے انڈس واٹر کمشنر نے سندھ طاس معاہدے میں درج طریقۂ کار کے مطابق بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے بھارت کی جانب سے دریا کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ، خاص طور پر زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر، براہِ راست ہمارے شہریوں کی زندگی، روزگار، غذائی تحفظ اور معاشی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے، دریا کے بہاؤ میں کسی بھی یکطرفہ مداخلت سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو لفظی اور عملی طور پر پورا کرے۔ سندھ طاس معاہدہ ایک ’پابند بین الاقوامی معاہدہ‘ ہے جو ’خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کا ذریعہ‘ رہا ہے۔ واضح رہے کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت مغرب کی جانب بہنے والے تین دریا سندھ، چناب اور جہلم پاکستان کو دیے گئے، جبکہ بھارت کو سندھ طاس کے تین مشرقی دریا ملے۔ معاہدے کی خلاف ورزی بین الاقوامی معاہدات کے تقدس اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے خطرہ ہے اور اس سے علاقائی امن، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے ضوابط کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی جانب سے ایک دوطرفہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے، بین الاقوامی قانون، تسلیم شدہ اصولوں اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات اور مسائل کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم ہم اپنے عوام کے وجودی آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔بھارت نے بغیر ثبوت کے اس واقعے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا تھا۔ پاکستان نے معاہدے کے تحت اپنے حصے کے پانی کی معطلی کی کسی بھی کوشش کو ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ بعد ازاں پاکستان نے 1969 کے ویانا کنونشن برائے قانونِ معاہدات کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے عدالتی کارروائی پر غور کیا تھا۔ جون میں مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) جو بین الاقوامی تنازعات کے لیے فریم ورک فراہم کرتی ہے، نے دائرۂ اختیار سے متعلق ایک ضمنی فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا تھاکہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ یہ ضمنی فیصلہ 2023 کے اس مقدمے میں جاری کیا گیا تھاجو پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو دیے گئے دریاؤں پر بھارتی پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن کے خلاف پی سی اے میں دائر کیا تھا۔
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ہم دیکھ رہے ہیں بھارت کی جانب سے ایسی سنگین خلاف ورزیاں ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی روح پر حملہ ہیں۔گزشتہ سال دو مرتبہ دریائے چناب کے بہاؤ میں غیرمعمولی اور اچانک تبدیلیاں دیکھی گئیں، جو 30 اپریل سے 21 مئی اور 7 دسمبر سے 15 دسمبر کے درمیان ریکارڈ ہوئیں۔ پانی کے بہاؤ میں یہ تبدیلیاں پاکستان کے لیے انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ یہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بھارت نے یہ پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت لازم پیشگی اطلاع، ڈیٹا یا معلومات کے تبادلے کے بغیر چھوڑا۔بھارت کی جانب سے اس منفی اقدام کے باعث ہمارے انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے، جیسا کہ سندھ طاس معاہدے میں درج ہے۔ بھارت کا حالیہ اقدام واضح طور پر پانی کو ہتھیار بنانے کی مثال ہے، جس کی جانب پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ دلاتا آ رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر پانی میں بھارت کی ہیرا پھیری براہِ راست ہمارے شہریوں کی زندگی، روزگار، خوراک اور معاشی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان کو توقع ہے کہ بھارت انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے گا، دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی یکطرفہ رد و بدل سے گریز کرے گا اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح اور متن کے مطابق مکمل عمل کرے گا۔ بھارت کی جانب سے حالیہ خلاف ورزیاں محض ایک مثال ہیں، بھارت مسلسل ایک منظم انداز میں اس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کشن گنگا اور رتلے جیسے پن بجلی منصوبوں میں بھارت کی جانب سے ایسے ڈیزائن شامل کیے گئے ہیں جو معاہدے کی تکنیکی شرائط کی خلاف ورزی ہیں ,بھارت غیرقانونی ڈیم تعمیر کر رہا ہے اور معاہدے کی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک ناقابلِ تلافی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ ان ڈیموں کے ذریعے بھارت کی پانی ذخیرہ کرنے اور اس میں رد و بدل کی صلاحیت بڑھ رہی ہے، جو پاکستان کی سلامتی، معیشت اور 24 کروڑ عوام کے روزگار کے لیے خطرہ ہے

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

wild bandito princess starlight perbedaan cara membangun dunia imajinatif permainan

pengguna kota metro membahas mengapa durasi jam bermain tidak menjamin hasil menguntungkan

mahjong ways kabupaten kutai kartanegara mengulas hubungan desain permainan persepsi pola

sweet bonanza kota ternate peran warna cerah menciptakan daya tarik visual

gates of olympus kabupaten serdang bedagai memahami mengapa multiplier tidak sama kepastian hasil

lucky neko kabupaten lampung selatan perpaduan identitas jepang gaya animasi kontemporer

mahjong wins kabupaten kubu raya mengamati kebiasaan berbagi pengalaman melalui media sosial

wild bandito kabupaten pamekasan bagaimana tema petualangan membentuk identitas visual

princess starlight kabupaten banyuasin menelaah pengaruh musik cahaya terhadap pengalaman digital

sweet bonanza kabupaten kutai timur memahami mengapa hasil sebelumnya tidak menentukan hasil berikutnya

mahjong ways kota banjarbaru membedakan fungsi simbol dekoratif simbol fungsional

lucky neko kabupaten indragiri hulu mengkaji daya tarik simbol keberuntungan perspektif budaya

gates of olympus kabupaten aceh tengah menentukan batas hiburan ekspektasi finansial

wild bandito kabupaten buru selatan mengulas fungsi ilustrasi menyampaikan tema permainan

mahjong pgsoft kabupaten konawe menelusuri transformasi unsur tradisional media digital

pemodelan mahjong ways menganalisis konsistensi frekuensi simbol data simulasi

observasi mahjong ways 2 mengkaji variansi outcome serangkaian percobaan

studi gates of olympus mengulas distribusi multiplier berdasarkan sampel hasil putaran

uji sweet bonanza membandingkan frekuensi kombinasi berbagai sesi

analisis starlight princess meninjau pola distribusi freespin melalui data simulasi

pemetaan lucky neko mengamati fluktuasi simbol interval pengamatan berbeda

simulasi pg soft mengkaji keterkaitan variansi frekuensi outcome permainan

kajian pragmatic play memetakan karakteristik distribusi simbol berdasarkan sampel data

observasi microgaming mengkaji sebaran hasil serangkaian percobaan acak

pemodelan playtech mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur khusus sampel data

studi netent menganalisis dinamika volatilitas selama periode pengamatan

analisis mahjong wins memetakan sebaran multiplier serangkaian simulasi

uji bonanza gold membandingkan outcome berdasarkan perbedaan interval pengamatan

kajian scatter hitam mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur data permainan

studi game online menganalisis pengaruh persepsi risiko terhadap proses pengambilan keputusan

penelitian teknologi informasi 00000001

penelitian teknologi informasi 00000002

penelitian teknologi informasi 00000003

penelitian teknologi informasi 00000004

penelitian teknologi informasi 00000005

penelitian teknologi informasi 00000006

penelitian teknologi informasi 00000007

penelitian teknologi informasi 00000008

penelitian teknologi informasi 00000009

penelitian teknologi informasi 00000010

penelitian teknologi informasi 00000011

penelitian teknologi informasi 00000012

penelitian teknologi informasi 00000013

penelitian teknologi informasi 00000014

penelitian teknologi informasi 00000015

penelitian teknologi informasi 00000016

penelitian teknologi informasi 00000017

penelitian teknologi informasi 00000018

penelitian teknologi informasi 00000019

penelitian teknologi informasi 00000020

penelitian teknologi informasi 00000021

penelitian teknologi informasi 00000022

penelitian teknologi informasi 00000023

penelitian teknologi informasi 00000024

penelitian teknologi informasi 00000025

penelitian teknologi informasi 00000026

penelitian teknologi informasi 00000027

penelitian teknologi informasi 00000028

penelitian teknologi informasi 00000029

penelitian teknologi informasi 00000030

penelitian teknologi informasi 00000031

penelitian teknologi informasi 00000032

penelitian teknologi informasi 00000033

penelitian teknologi informasi 00000034

penelitian teknologi informasi 00000035

penelitian teknologi informasi 00000036

penelitian teknologi informasi 00000037

penelitian teknologi informasi 00000038

penelitian teknologi informasi 00000039

penelitian teknologi informasi 00000040

penelitian teknologi informasi 00000041

penelitian teknologi informasi 00000042

penelitian teknologi informasi 00000043

penelitian teknologi informasi 00000044

penelitian teknologi informasi 00000045

Volatilitas dan Pola Kemenangan di Bandung Memahami Hubungan Keduanya

Cerita Player Semarang saat Menemukan Simbol Scatter Hitam

Gates of Olympus di Makassar Bagaimana Fitur Tumble Membentuk Dinamika Permainan

Mahjong Wins Palembang Menilik Fitur Free Spins yang Paling Dinantikan

Game PG Soft di Yogyakarta Membahas Faktor di Balik Nilai RTP yang Tinggi

Starlight Princess 1000 di Wilayah Denpasar Mengenal Fitur Multiplier x1000

Pola Gacor dan Tips Bermain Aman Pembahasan untuk Komunitas di Malang

Mahjong Ways 3 Pekanbaru Pengalaman Pemain dalam Memahami Fitur Maxwin

Simbol Scatter dan Wild di Balikpapan Perannya dalam Mengaktifkan Fitur Bonus

Memahami Sistem RNG dan Prinsip Keacakan Putaran dalam Game di Pontianak

Mahjong Wins 3 Batam Membahas Kemunculan Scatter Hitam dan Persepsi Keberuntungan

Tren Gacor Mahjong Ways Kembali Menjadi Perbincangan di Kalangan Player Bogor

Mahjong Wins 2 Surakarta Mengulas Fitur Free Spins yang Menarik Perhatian

Gates of Olympus Versi Bandar Lampung Membahas Momen Maxwin Spektakuler

Tingkat Volatilitas dan Hasil Sesi Permainan Kajian dari Kota Padang

Sweet Bonanza 1000 Wilayah Samarinda Mengenal Mekanisme Tumble Beruntun

Angka RTP Harian di Banjarmasin Memahami Informasi untuk Mengenali Karakteristik Game

Simbol Multiplier dan Petir Zeus di Manado Menelusuri Daya Tarik Elemen Visual

Game Modern di Mataram Mengulas Keistimewaan Fitur Cluster Pays

Strategi Membaca Pola Gacor ala Gamers Profesional dalam Perbincangan di Cirebon

Mahjong Ways Bekasi Mengenal Fitur Free Spins dengan Kemunculan Simbol Emas

Mahjong Wins 3 Wilayah Tangerang Mengulas Fenomena Maxwin yang Tidak Terduga

Volatilitas dan Durasi Bermain di Depok Memahami Pengaruh Karakteristik Permainan

Komunitas Serang Berbagi Pengalaman tentang Fitur Scatter Hitam

Starlight Princess di Purwokerto Faktor di Balik Popularitas Fitur Multiplier Besar

Tren Gacor dan RTP Live di Tasikmalaya Membahas Informasi yang Beredar di Komunitas

Mahjong Wins 2 Jambi Mengulas Momen Menegangkan saat Fitur Free Spins Aktif

Mahjong Ways 2 Bengkulu Memahami Kombinasi Simbol dan Mitos tentang Maxwin

Sistem RNG dan Keacakan Simbol pada Game Online Pembahasan dari Cimahi

Tumble Beruntun di Salatiga Memahami Mekanisme Permainan dan Persepsi Kemenangan Besar

informasi terbaru kabupaten belu 00000001

informasi terbaru kabupaten belu 00000002

informasi terbaru kabupaten belu 00000003

informasi terbaru kabupaten belu 00000004

informasi terbaru kabupaten belu 00000005

informasi terbaru kabupaten belu 00000006

informasi terbaru kabupaten belu 00000007

informasi terbaru kabupaten belu 00000008

informasi terbaru kabupaten belu 00000009

informasi terbaru kabupaten belu 00000010

informasi terbaru kabupaten belu 00000011

informasi terbaru kabupaten belu 00000012

informasi terbaru kabupaten belu 00000013

informasi terbaru kabupaten belu 00000014

informasi terbaru kabupaten belu 00000015

informasi terbaru kabupaten belu 00000016

informasi terbaru kabupaten belu 00000017

informasi terbaru kabupaten belu 00000018

informasi terbaru kabupaten belu 00000019

informasi terbaru kabupaten belu 00000020

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

sumenep cerita perkembangan istilah maxwin percakapan forum mahjong ways

pembaruan grafis pg soft menjadi topik hangat kalangan pengamat digital singaraja

bandung hingga jakarta perjalanan percakapan komunitas mahjong wins indonesia

gianyar mengulas hubungan istilah populer komunitas identitas visual mahjong ways

nuansa asia klasik karya pragmatic play menarik perhatian pengamat kreatif klungkung

bangli membahas kembalinya mahjong wins 3 percakapan simbol naga scatter

amlapura menyoroti perkembangan tampilan grafis mahjong ways 2 sudut pandang desain

forum digital berbagai wilayah indonesia menghidupkan diskusi mahjong ways

badung mengulas alasan scatter hitam mahjong wins 3 memiliki daya tarik visual tersendiri

mataram membandingkan pendekatan pragmatic play pg soft mengolah tema mahjong

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

noticias 000000001

noticias 000000002

noticias 000000003

noticias 000000004

noticias 000000005

noticias 000000006

noticias 000000007

noticias 000000008

noticias 000000009

noticias 000000010

noticias 000000011

noticias 000000012

noticias 000000013

noticias 000000014

noticias 000000015

noticias 000000016

noticias 000000017

noticias 000000018

noticias 000000019

noticias 000000020

noticias 000000021

noticias 000000022

noticias 000000023

noticias 000000024

noticias 000000025

noticias 000000026

noticias 000000027

noticias 000000028

noticias 000000029

noticias 000000030

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download