LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) عالمی ہفتہ بین المذاہب ہم آہنگی;دورِ جدید کی ضرورت

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) حکومت پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے کو شاں ہے, مذاہب اور مسالک کے درمیان ہم آہنگی، دورِ جدید کی وہ ضرورت ہے جس کا احساس ہر دور میں زندہ رہا ہے، آئین پاکستان تمام شہریوں کو، مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے یہ اصول بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جنہوں نے رواداری، اتحاد اور ہم آہنگی کو پاکستانی قوم کی بنیاد قرار دیا۔ عالمی ہفتۂ بین المذاہب ہم آہنگی، ہمیں ان اعلیٰ اقدار سے اپنی اجتماعی وابستگی کی تجدید کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔بین المذاہب تفہیم کا براہِ راست تعلق عام شہریوں کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ جہاں ہم آہنگی ہوتی ہے وہاں بچے بلا خوف اسکول جاتے ہیں، عبادت گاہیں محفوظ اور کھلی رہتی ہیں، محلّے اعتماد کے ساتھ ہنستے بستے ہیں اور روزگار باوقار انداز میں ملتا اور برقرار رکھا جاتا ہے۔ صدرپاکستان آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے، پاکستان مذہبی، ثقافتی، لسانی اور نسلی تنوع سے مالا مال معاشرہ ہے، ہمارا آئین تمام شہریوں کو ’مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق عالمی ہفتہ بین المذاہب ہم آہنگی کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی ہفتہ بین المذاہب ہم آہنگی، جو یکم تا 7 فروری 2026 منایا جا رہا ہے، اس موقع پر پاکستان کے عوام اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ موقع ہمیں اُن مشترکہ اقدار کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں امن، ہمدردی، باہمی احترام اور بقائے باہمی شامل ہیں اور جو تمام مذاہب اور نظامِ عقائد کی اساس ہیں۔صدر زرداری نے کہاپاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جو مذہبی، ثقافتی، لسانی اور نسلی تنوع سے مالا مال ہے۔اس کے برعکس، عدم برداشت اور تقسیم سماجی زندگی کو متاثر کرتی ہے، مقامی معیشتوں پر منفی دباؤ ڈالتی ہے اور اُس احساسِ تحفظ کو کمزور کرتی ہے جس پر خاندان انحصار کرتے ہیں۔ لہٰذا مذاہب کے درمیان احترام اور مکالمے کا فروغ کوئی مجرد اصول نہیں بلکہ سماجی استحکام اور فلاح و بہبود کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔تنازعات،تقسیم اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے اس دور میں بین المذاہب رابطہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین بامعنی روابط، تعلیم اور مکالمہ تعصبات اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے ناگزیر ہیں۔صدر زرداری نے کہا اخلاقی اہمیت کے ساتھ ساتھ، بین المذاہب ہم آہنگی سماجی یکجہتی، پائیدار امن اور مشترکہ ترقی کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔اسلام، دیگر عظیم مذاہب کی طرح، عدل، پُرامن تعاون اور انسانی وقار کے احترام کا درس دیتا ہے۔ شفقت، مہربانی اور رواداری جیسی اقدار تمام مذہبی روایات میں مشترک ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری مشترکہ انسانیت ہمارے اختلافات سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرتے ہوئے اور باہمی تفہیم کو فروغ دے کر ہم اپنے معاشروں میں اعتماد اور یکجہتی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔صدر نے کہا میں اُن مذہبی رہنماؤں، علما، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور نوجوانوں کی کاوشوں کو سراہتا ہوں جو برادریوں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات، احترام کے فروغ، نفرت کے سدباب اور آئندہ نسلوں کی رہنمائی میں نہایت اہم ہیں تاکہ وہ تنوع کو طاقت کے سرچشمے کے طور پر دیکھ سکیں۔ہم بین المذاہب ہم آہنگی کی اقدار کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری اور ایک پُرامن دنیا کے لیے مل جل کر کام کرنے کے عزم کی تجدید کریں۔ دعا ہے کہ یہ ہفتہ ہمیں بامعنی عمل، باخبر مکالمے اور باہمی احترام کی طرف مائل کرے۔پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔’’ہم آہنگی‘‘ لفظ فارسی ترکیب کے مطابق ایک دوسرے کے لیے دل و دماغ میں جگہ پیدا کرنے کا نام ہے،بالفاظِ دیگر ایک دوسرے کے لیے اپنے رویے اور عمل میں عدم برداشت کی بجائے برداشت، تصادم کی بجائے تعاون، تشدد کی بجائے تحمل سے کام لینے کا عنوان ہے۔ ہم آہنگی کو عربی زبان میں ’’مدارات‘‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ہم آہنگی کا دائرہ یوں تو انسانی زندگی کے کسی بھی شعبے میں تناؤ آمیزی کو معمول پر لانے اورباہمی رویوں کے عدمِ توازن کو متوازن بنانے کے لیے مطلوب سمجھا جاتا ہے، مگر مذہبی شناختوں کے حوالے سےاس کی اہمیت اور ضرورت کا احساس و اِدراک سنجیدہ طبقات کو ہمیشہ رہا ہے اور موجودہ زمانے میں اولاًمختلف مذاہب کے درمیان اورپھر اسلامی مسالک کے درمیان ہم آہنگی کی جتنی ضرورت ہے، اِسے اس دور کے اہم تقاضوں میں سمجھنا چاہیے، اس لیے کہ اس وقت انسانی دنیا‘ مذہبی حوالے سے دو طرح کے تصادم یا تناؤ کی زد میں ہے:
پہلا تناؤ مذہبیت اور لا مذہبیت کے درمیان ہے اس وقت لامذہبیت اور دہریت، انسانیت کوہر قسم کے دین و دھرم سے دور کرنے یا ہر قسم کی آسمانی، اخلاقی اور اقداری تعلیمات سے محروم کرنے پر تلی ہوئی ہے اور لامذہبیت کایہ فتنہ مذہبیت کو بری طرح اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے، چنانچہ من حیث المذہب تمام مذاہب کے علمبرداروں سے دورِ جدید کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی اقوام کو کم از کم دہریت و لا مذہبیت کے شکنجے میں کسنے سے بچائیں؛ کیوں کہ ہم تمام مذاہب والے اپنی اپنی متعین اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر انسانیت کی اچھی طرح خدمت کرنا چاہیں تو یہ نسبۃً آسان ہے، جب کہ لا مذہبیت جو غیر اقداری رویہ یا روش ہے، اس کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کوئی تھیوری یا ایسافارمولہ سامنے رکھنا مشکل ہے، جس کی بنیاد پر ہم انسانیت کو حیوانی اقدار کے حوالے ہونے سے بچاسکیں، اس لیے لامذہبیت کے مقابلے میں تمام مذاہب والوں کا اپنی اپنی اقدار کی پاسداری کے ساتھ مشترکات و مسلمات کے لیے مل بیٹھنا، اس وقت تمام مذاہب کی ضرورت ہے اور تمام مذاہب کے زعما ءکی ایک طرح سے ذمہ داری بھی ہے۔ اسی طرح اگر ہم اسلام سے نسبت رکھنےوالے مسالک کی طرف آ جائیں تو بین المسالک ہم آہنگی توبین المذاہب ہم آہنگی کےمقابلے میں زیادہ ضروری معلوم ہوتی ہے؛ کیوں کہ لامذہبیت اور مذہبیت کے شدید عالمی تناؤ سے بڑھ کر اس وقت انسانیت، دنیائے کفر اور دنیائے اسلام کے دو مذہبی تصادم، عد م برداشت اور غیر متوازن رویوں کی زد میں ہے۔ دنیائے کفر، اسلامی دنیا کے معاملے میں تاریخ کے بدترین اسلام فوبیا کا شکار ہے، وہ تمام اسلامی مسالک کو محض مسلمان کہلانے کی وجہ سے ہر قسم کی معاشی، معاشرتی، میڈیائی اور مسلح جنگ کی زد میں رکھے ہوئے ہے۔ دنیائے کفر اپنے اس ظالمانہ رویے میں ہماری داخلی تفریقی شناختوں کی کوئی تفریق نہیں کرتی۔ مغربی دنیا‘ اہلِ اسلام کو نشانہ بناتے ہوئے شیعہ سنی کی تفریق کرتی ہے، نہ مقلدوغیر مقلد کی تقسیم سے اُسےکوئی غرض ہے اور نہ ہی دیوبندی یا بریلوی کی تمییز اس کے لیے امتیاز کا ذریعہ ہے، وہ ہمیں بلا امتیاز اپنالقمۂ تر بنانے کے لیے مصروفِ عمل ہے، اس لیے دورِ جدید کا ہنگامی اور لازمی تقاضا ہے کہ اسلام سے نسبت رکھنے والے تمام مسالک اپنی اپنی مسلکی شناختوں کو تھامتے ہوئے اسلام دشمن قوتوں کے سامنے وحدت اور ہم آہنگی کا بہترین مظہر بن جائیں اور یہ تسلیم کر لیں کہ جو مذہب اسلام‘ غیر اسلامی مذاہب کے ساتھ مشترکات ومسلمات پر مل بیٹھنے کی تلقین کرتا ہے، اس مذہب کے اپنے پیروکار کفر کے مقابلے میں دفاعِ اسلام اور اپنے تحفظ کے لیے اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے؟ بلکہ تمام مسالک کے ماضی کے اکابر نے ہمیشہ مشترکات و مسلمات پر اکٹھے ہونے کی بہترین مثالیں چھوڑی ہیں، جن میں تحریکِ پاکستان، تحریکِ آئین سازی، تحریکِ ختم نبوت کے مختلف ادوار، متحدہ مجلس عمل، اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ اور پیغامِ پاکستان جیسے مسلکی وقومی اتحاد ہمارے سامنے ہیں۔ ہمارے اکابر کے درمیان اس قسم کے اتحاد ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ ہمارا مسلکی تنوع ہرگزتصادم کا باعث نہیں ہے، بلکہ عدم برداشت پر مبنی تحزّب (گروہ بندی) ہمارا المیہ ہے، اس لیے دورِ جدید کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے عدم برداشت کے رویوں سے بالاتر ہوں اور مشترکات و مسلمات کے لیے ہم آہنگی کے فروغ کی بہترین مثال بنیں۔ فی زمانہ اسے اسلام کا بنیادی تقاضا بھی کہہ سکتے ہیں۔بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے مذہبی اختلافات کے باوجود، مسلمات و مشترکات پر اتفاقِ رائے و عمل قرآنی حکم ہے:‘بیان القرآن ہے’’آپ فرمادیجیےکہ اےاہل کتاب! آؤایک ایسی بات کی طرف جوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان (مسلم ہونے میں) برابر ہے ’’غیرمسلموں کے ساتھ مدارات سے رہیں۔‘‘

 

تمام مذاہب کے مقدسات کا احترام کیا جائے:ایک دوسرے کے ساتھ تعامل میں تمام مذاہب کے تقدس کی پاسداری کے ساتھ ساتھ انسانی تعظیم و تکریم کو بھی ملحوظ رکھا جائے، کسی بھی موقع پرمذہب کے اختلاف اور تفاوت کی وجہ سے نفسِ انسانیت کا اشتراک واحترام متاثراور فراموش نہیں ہوناچاہیے :بیان القرآن ہے ’’اورہم نے آدم کی اولادکوعزت دی۔‘‘ ’’ساری انسانیت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا شدہ ہیں۔‘‘ مذہب و مسلک کی بنیاد پر اشتعال انگیزی سے اجتناب کو یقینی بنایا جائے، معارضے ومقابلےکے موقع پرمذہبیات اور مذہبی شخصیات کے درمیان توہین آمیز تقابل نہ کیا جائے -ایک دوسرے کی توہین و تحقیر کا عمل صراحۃً تو درکنار، اشارات، کنایات اور موہوم کلمات کے ذریعے بھی نہ کیا جائے، بلکہ ایک دوسرے کا تذکرہ ایسےغیر مبہم الفاظ میں کیا جائےجس سے غلط فہمی جنم نہ لے سکے: ہمارے باہمی اختلافات، بلا شبہ ایک حقیقت ہے، مگر ان اختلافات کو عام مجامع، شاہراہوں، چوراہوں اور بازاروں میں عام کرنے، بیان کرنے اور پھیلانے سے اجتناب کیا جائے اور پوری امانت و دیانت کے ساتھ اپنےاپنے مخصوص حلقوں میں تعلیم گاہوں تک محدود رکھا جائے، تاکہ گروہی تصادم کا فتنہ جنم نہ لے سکے، ایسےفتن کی روک تھام اور سدِباب مذہبی پیشواؤں کی ذمہ داری ہے:بیان القرآن ہے ’’اورفتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔‘‘ ’’لوگوں کے سامنے صرف وہی چیزیں بیان کریں جو وہ اِدراک کرسکیں۔‘‘ؓ اسی طرح ان کی عبادت گاہوں کومکمل تحفظ بخشا گیا تھا۔ نیز ان عبادت گاہوں میں اپنے عقیدہ وعمل کے مطابق مصروفِ عبادت لوگوں سے بھی عدمِ تعرض کی تلقین کی گئی تھی، اسی طرح ان کے اپنے دینی مناصب کے حامل افراد اور انتظامی عہدیداروں کوبرقرار رکھنے کے احکامات شامل تھے۔ مزید یہ کہ اپنے مذہبی مناصب کے ذمہ داروں کے تعین وتقررمیں انہیں مکمل آزاد چھوڑا گیا تھا۔ اسی طرح ان کی عزت وآبرواور جان ومال کی حفاظت مدنی ریاست کے فرائض میں شمار کی گئی تھی۔ مزید برآں خیبر کے موقع پریہود کی شرارتوں کےباوجودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےیہودکومالی تحفظ فراہم کیا تھا: خبردار! عہد وپیمان والے لوگوں کا مال ناحق ہتھیانے کو میں حلال قرار نہیں دیتا۔‘‘ الحمدللہ! ہماری اسلامی تعلیمات غیر مسلم اقلیتوں کے مذہبی ، معاشرتی اور مالی و انتظامی حقوق کے حوالے سے بالکل واضح ہیں۔ غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ اہلِ اسلام کا رویہ ہمیشہ ان تعلیمات سے ہم آہنگ رہا ہے اور رہنا چاہیے اوریہ کہ مذہب کے نام پر کبھی کسی غیرمذہب والے کے ساتھ امتیازی سلوک کی اسلام میں کہیں بھی گنجائش نہیں ہے۔ اب ہمارے اہلِ علم اور اربابِ حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی رعایا کے غیر مسلموں کے ہر نوع مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کا تحفظ کریں اورہم وطن غیرمسلموں کی صلاحیتوں کوملکی تعمیر و ترقی کے لیے بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کریں۔یقین ہےکہ ملکی سطح پر مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان قربتوں کے لیے حکومت پاکستان کا پرعزم کردار، انتہائی مثبت نتائج کا حامل ثابت ہوگا، ان شاء اللہ۔ توقع ہے کہ ہم آہنگی کے اس قومی سفر سے بین الاقوامی سفر تک بھی وفاقی وزیر برائے مذہبی امور محترم سردار محمد یوسف، ترجمانی کا فريضہ نبھائیں گے، عالمی ہفتۂ بین المذاہب ہم آہنگی کی مناسبت سے ضروری ہےکہ مذاہب و مسالک کے درمیان ہم آہنگی کا یہ سفر باہمی عزت و احترام، خیال داری، رواداری اور قومی ایشوز پر باہمی تعاون واتفاق پر مبنی ہونا چاہیے، یہ شرعی اصطلاح میں ’’مدارات‘‘ ہے،اس وقت مذہبی ہم آہنگی کامثبت تصور ہمارے سامنے پیش ہوا ہے مزید برآں خیبر کے موقع پریہود کی شرارتوں کےباوجودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےیہودکومالی تحفظ فراہم کیا تھا: ’’خبردار! عہد وپیمان والے لوگوں کا مال ناحق ہتھیانے کو میں حلال قرار نہیں دیتا۔‘‘
ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے خلفائے راشدینؓ نے بھی اس سنتِ حسنہ کو زندہ رکھااور اپنے ادوار کی فتوحات میں غیر مسلم مخالفین کے معاملے میں نرم خوئی، عدل وانصاف ، رعایت وحفاظت کے خصوصی احکامات دیےجاتےتھے، یہاں تک کہ نئےمفتوحہ لوگوں کے حیوانات، ان کی فصلوں اور باغات کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی تاکیدات کی جاتی تھیں، جب کہ بچے، بوڑھے، عورتیں اور خالص مذہبی سرگرمی تک محدود افراد کو ہر قسم کا تحفظ دینے کا حکم ہر دور میں زندہ تابندہ چلاآرہاہے ’’بلاشبہ دین( حق اورمقبول)اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔ ‘‘ ’اسلام برتر ہےب,رتررہے گا اس پر برتری نہیں ہوگی۔‘‘اللہ تعالیٰ نے انسان اور انسانی تہذیب کی بنیاد عالمگیریت پر رکھی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر انسانیت کے رہبر اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے دور میں اپنی امتوں کو اتحاد و اتفاق اور باہمی اخوت و محبت کا درس دیتے رہے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طرزِ عمل صحابہ کرامؓ کے لیے اسوہ اور عملی نمونہ تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ مبارک کے بعد جب خلافتِ راشدہ کا دور آیا تو درسگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تربیت یافتہ خلفاء راشدینؓ نے بھی اپنے اپنے دور خلافت میں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھا اورغیر مسلم شہریوں کو وہ تمام حقوق دیئے جو کسی بھی اسلامی ریاست میں مسلمانوں کو حاصل تھے۔ ان کی عزت و آبرو، مال مویشی، عبادت گاہیں، تجارت اور کاروبار اسی طرح محفوظ تھے جس طرح مسلمانوں کے حقوق محفوظ تھے۔ اس حوالے سے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے معاشرے میں اصلاحِ احوال کا علَم بلند کیا کہ جس میں اگرچہ بہت سی خوبیاں بھی تھیں مگر معاشرتی اعتبار سے اس میں کچھ خرابیاں بھی متحرک تھیں جن میں مذہبی انتہا پسندی، ظلم و تشدد، مذہبی منافرت اور تنگ نظری بھی عروج پر تھی۔ جو لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوتِ توحید کو قبول کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے تو داعیانِ کفر و شرک کی طرف سے ان موحدین کے لیے زندگی اجیرن بنادی جاتی۔ انہیں نہ صرف اپنے وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا بلکہ ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے اور انہیں حقِ زندگی ہی سے محروم کردیتے تھے، یا پھر مذہبی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی اذیت ناک سزائیں دیتے کہ ہاتھ پائوں میں میخیں تک ٹھونک دیتے تھے،اس ضمن میں قرآن مجید میں ہمیں نمرود، فرعون اور دیگر منکرین و معاندینِ انبیاء کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سیرتِ مبارکہ اور اپنے طرزِ عمل سے مذہبی ہم آہنگی کے ماحول کو فروغ دیا اور اس کی معاشرتی ضرورت و اہمیت پر بھی زور دیا جس کے نتیجے میں مذہبی منافرت اور تنگ نظری کا وجود پاش پاش ہوگیا۔آج کی عالمی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت تشدد اور انتہا پسندی میں پھنسی ہوئی ہے۔ مذہبی، سیاسی اور فکری انتہا پسندی نے انسان کو اعتدال کی راہ سے ہٹادیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات ایک عالمگیر تہذیب کے قیام و تشکیل کے لیے نہایت موثر اور مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں۔چند سفارشات پیش ہیں جن پر عمل کرکے امتِ مسلمہ پھر دنیائے انسانی کی امامت و قیادت کا فریضہ سرانجام دینے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرسکتی ہے:موجودہ دور میں امت مسلمہ بالخصوص اہل پاکستان کو درپیش مشکلات، مصائب اور مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تعلیمات قرآن کی روشنی میں پوری قوم کو اجتماعی طور پر اپنے ہر قسم کے گناہوں، کوتاہیوں اور بداعمالیوں سے توبہ کرنی چاہئے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے اور اُن سے محبت رکھتا ہے۔نصابِ تعلیم میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلامیات لازمی یا اختیاری کے ضمن میں پڑھانے کی بجائے کم از کم بی۔ اے، بی۔ ایس۔سی، بی۔ایس کی سطح پر ایک لازمی مضمون کے طور پر شاملِ نصاب کرکے پڑھایا جائے تاکہ اسلامی فکر اور روحانی الطبع افراد معاشرہ تیار ہوسکیں اور وہ عملی زندگی میں اسوہ حسنہ پر گامزن ہوکر ایک صالح اور دینی و روحانی اقدار کے حامل معاشرہ کی تشکیل کرسکیں۔معاشرے کے اندر سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کے طریقہ پر چلتے ہوئے اجتماعی عدل کے ماحول کو فروغ دیاجائے۔سیرتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے معاشرتی زندگی کو ایسے خطوط پر استوار کیا جائے جن سے افرادِ معاشرہ میں اخوت، محبت، باہمی ہمدردی، بھائی چارہ، ایثار، خدمت خلق، ہم آہنگی، رواداری، تحمل و برداشت اور مروت کے جذبات فروغ پاسکیں اور آپس میں وحدت و یگانگت کی فضا پیدا ہو۔ت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر سیمینارز اور کانفرنسز کا اہتمام کیا جائے تاکہ عامۃ الناس اور بالخصوص نوجوان نسل میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کا شعور پیدا ہو اور وہ سیرت پر عمل کرنا اپنی دینی ذمہ داری سمجھیں۔حکومتی اور نجی سطح پر میڈیا پر سیرت طیبہ سے متعلق زیادہ سے زیادہ پروگرام نشر کیے جائیں تاکہ لوگوں کی صحیح پیمانے پر ذہن سازی کی جاسکے۔اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی، اخوت و محبت، ہم آہنگی و رواداری کو غیر مسلموں تک پہنچانے کے لیے مشنری جذبے سے ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو ایسے تربیت یافتہ افراد تیار کریں جو علمی و عملی ہر دو اعتبار سے سیرت اور اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلتے پھرتے نمونے ہوں تاکہ اپنے اور پرائے اُن کے حسنِ عمل سے متاثر ہوکر اسلام کی سنہری تعلیمات کی طرف کھچے چلے آئیں۔پاکستانی معاشرہ میں موجود دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے انسانی بنیادوں پر بہتر اور اچھے تعلقات ہر سطح پر قائم کیے جائیں تاکہ معاشرے میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کی فضا قائم ہو اور معاشرتی امن و استحکام کو عملی طور پر مستحکم بنایا جاسکے۔ جدید دنیا، جو سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بلندیوں پر فخر کرتی ہے، اخلاقی اور انسانی قدروں کے زوال کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ مختلف مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اختلاف کے ساتھ جینا سیکھنے کے بجائے اختلاف کو دشمنی میں بدل لیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنجیدہ خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ عالمی امن، معاشرتی استحکام اور انسانی بقا کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک دوسرے کے عقائد، عبادات اور تہذیبی اقدار کا احترام کریں اور اختلاف کو تصادم کا ذریعہ نہ بنائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے رواداری، مکالمے اور برداشت کو اپنایا، وہ ترقی، علم اور تہذیب کے مراکز بنے، جبکہ نفرت اور تعصب نے بڑی بڑی تہذیبوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مذاہب کا مقصد انسان کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں۔ جب مذہب نفرت اور انتقام کا ہتھیار بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اس کی اصل روح، یعنی اخلاق، محبت اور انسانیت کو نظر انداز کر دیا ہے۔
اسلام رواداری، برداشت اور انسانی احترام کا سب سے جامع اور متوازن ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ بین المذاہب ہم آہنگی کی عملی تصویر ہے۔ مکہ مکرمہ میں کفار کی جانب سے شدید مخالفت، ظلم، سماجی بائیکاٹ اور اذیت کے باوجود آپؐ نے صبر، حکمت اور اعلیٰ اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا۔ فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان انسانی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ اسلام طاقت حاصل ہونے کے بعد بھی انتقام کے بجائے درگزر، عفو اور رحم کو ترجیح دیتا ہے۔ریاستِ مدینہ میں طے پانے والا میثاقِ مدینہ بین المذاہب ہم آہنگی کی پہلی باقاعدہ تحریری دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور مساوی شہری حقوق کی ضمانت دی گئی۔ یہ معاہدہ اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ اسلامی ریاست میں مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھا جاتا۔ یہ تاریخی حقیقت آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، خاص طور پر ان معاشروں کے لیے جہاں مذہبی تنوع پایا جاتا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، مسالک اور ثقافتوں کے لوگ بستے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی پر جو واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا، وہ بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ہم اس وژن سے دور ہوتے چلے گئے اور سماجی سطح پر عدم برداشت نے جڑ پکڑ لی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بانی کے افکار کو محض تقاریر اور نصابی حوالوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انھیں عملی زندگی میں نافذ کریں، کیونکہ ایک مضبوط اور پُرامن پاکستان کی بنیاد رواداری اور انصاف ہی پر رکھی جا سکتی ہے۔
آج کی نئی نسل اس ملک اور دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے کیونکہ کل کی قیادت، فیصلہ سازی اور فکری سمت کا تعین انھی کے ہاتھ میں ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے کمزوری نہیں بلکہ فکری پختگی کی علامت ہے، اور برداشت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں نفرت اور غلط معلومات لمحوں میں پھیل جاتی ہیں، نوجوانوں کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ تعصب، اشتعال اور افواہوں کا حصہ بننے کے بجائے شعور، تحقیق اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ اگر نئی نسل مذہب کو نفرت کے بجائے اخلاق، رواداری اور خدمتِ انسانیت کا ذریعہ بنا لے تو نہ صرف ہمارا معاشرہ بلکہ آنے والی نسلیں بھی امن، احترام اور باہمی اعتماد کی فضا میں سانس لے سکیں گی۔الحمدللہ! وطنِ عزیز میں تو مذہبی رواداری کے التزام کے ساتھ قرآن و سنت کو آئینی بالادستی حاصل ہے اور پارلیمنٹ میں موجود ہمارے علمائے کرام اوروفاقی وزیر برائے مذہبی امورسردار محمد یوسف جیسے وزراء، مسلم قوم کے جذبات کے نہ صرف یہ کہ ترجمان ہیں، بلکہ محافظ بھی ہیں۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

wild bandito princess starlight perbedaan cara membangun dunia imajinatif permainan

pengguna kota metro membahas mengapa durasi jam bermain tidak menjamin hasil menguntungkan

mahjong ways kabupaten kutai kartanegara mengulas hubungan desain permainan persepsi pola

sweet bonanza kota ternate peran warna cerah menciptakan daya tarik visual

gates of olympus kabupaten serdang bedagai memahami mengapa multiplier tidak sama kepastian hasil

lucky neko kabupaten lampung selatan perpaduan identitas jepang gaya animasi kontemporer

mahjong wins kabupaten kubu raya mengamati kebiasaan berbagi pengalaman melalui media sosial

wild bandito kabupaten pamekasan bagaimana tema petualangan membentuk identitas visual

princess starlight kabupaten banyuasin menelaah pengaruh musik cahaya terhadap pengalaman digital

sweet bonanza kabupaten kutai timur memahami mengapa hasil sebelumnya tidak menentukan hasil berikutnya

mahjong ways kota banjarbaru membedakan fungsi simbol dekoratif simbol fungsional

lucky neko kabupaten indragiri hulu mengkaji daya tarik simbol keberuntungan perspektif budaya

gates of olympus kabupaten aceh tengah menentukan batas hiburan ekspektasi finansial

wild bandito kabupaten buru selatan mengulas fungsi ilustrasi menyampaikan tema permainan

mahjong pgsoft kabupaten konawe menelusuri transformasi unsur tradisional media digital

pemodelan mahjong ways menganalisis konsistensi frekuensi simbol data simulasi

observasi mahjong ways 2 mengkaji variansi outcome serangkaian percobaan

studi gates of olympus mengulas distribusi multiplier berdasarkan sampel hasil putaran

uji sweet bonanza membandingkan frekuensi kombinasi berbagai sesi

analisis starlight princess meninjau pola distribusi freespin melalui data simulasi

pemetaan lucky neko mengamati fluktuasi simbol interval pengamatan berbeda

simulasi pg soft mengkaji keterkaitan variansi frekuensi outcome permainan

kajian pragmatic play memetakan karakteristik distribusi simbol berdasarkan sampel data

observasi microgaming mengkaji sebaran hasil serangkaian percobaan acak

pemodelan playtech mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur khusus sampel data

studi netent menganalisis dinamika volatilitas selama periode pengamatan

analisis mahjong wins memetakan sebaran multiplier serangkaian simulasi

uji bonanza gold membandingkan outcome berdasarkan perbedaan interval pengamatan

kajian scatter hitam mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur data permainan

studi game online menganalisis pengaruh persepsi risiko terhadap proses pengambilan keputusan

penelitian teknologi informasi 00000001

penelitian teknologi informasi 00000002

penelitian teknologi informasi 00000003

penelitian teknologi informasi 00000004

penelitian teknologi informasi 00000005

penelitian teknologi informasi 00000006

penelitian teknologi informasi 00000007

penelitian teknologi informasi 00000008

penelitian teknologi informasi 00000009

penelitian teknologi informasi 00000010

penelitian teknologi informasi 00000011

penelitian teknologi informasi 00000012

penelitian teknologi informasi 00000013

penelitian teknologi informasi 00000014

penelitian teknologi informasi 00000015

penelitian teknologi informasi 00000016

penelitian teknologi informasi 00000017

penelitian teknologi informasi 00000018

penelitian teknologi informasi 00000019

penelitian teknologi informasi 00000020

penelitian teknologi informasi 00000021

penelitian teknologi informasi 00000022

penelitian teknologi informasi 00000023

penelitian teknologi informasi 00000024

penelitian teknologi informasi 00000025

penelitian teknologi informasi 00000026

penelitian teknologi informasi 00000027

penelitian teknologi informasi 00000028

penelitian teknologi informasi 00000029

penelitian teknologi informasi 00000030

penelitian teknologi informasi 00000031

penelitian teknologi informasi 00000032

penelitian teknologi informasi 00000033

penelitian teknologi informasi 00000034

penelitian teknologi informasi 00000035

penelitian teknologi informasi 00000036

penelitian teknologi informasi 00000037

penelitian teknologi informasi 00000038

penelitian teknologi informasi 00000039

penelitian teknologi informasi 00000040

penelitian teknologi informasi 00000041

penelitian teknologi informasi 00000042

penelitian teknologi informasi 00000043

penelitian teknologi informasi 00000044

penelitian teknologi informasi 00000045

Volatilitas dan Pola Kemenangan di Bandung Memahami Hubungan Keduanya

Cerita Player Semarang saat Menemukan Simbol Scatter Hitam

Gates of Olympus di Makassar Bagaimana Fitur Tumble Membentuk Dinamika Permainan

Mahjong Wins Palembang Menilik Fitur Free Spins yang Paling Dinantikan

Game PG Soft di Yogyakarta Membahas Faktor di Balik Nilai RTP yang Tinggi

Starlight Princess 1000 di Wilayah Denpasar Mengenal Fitur Multiplier x1000

Pola Gacor dan Tips Bermain Aman Pembahasan untuk Komunitas di Malang

Mahjong Ways 3 Pekanbaru Pengalaman Pemain dalam Memahami Fitur Maxwin

Simbol Scatter dan Wild di Balikpapan Perannya dalam Mengaktifkan Fitur Bonus

Memahami Sistem RNG dan Prinsip Keacakan Putaran dalam Game di Pontianak

Mahjong Wins 3 Batam Membahas Kemunculan Scatter Hitam dan Persepsi Keberuntungan

Tren Gacor Mahjong Ways Kembali Menjadi Perbincangan di Kalangan Player Bogor

Mahjong Wins 2 Surakarta Mengulas Fitur Free Spins yang Menarik Perhatian

Gates of Olympus Versi Bandar Lampung Membahas Momen Maxwin Spektakuler

Tingkat Volatilitas dan Hasil Sesi Permainan Kajian dari Kota Padang

Sweet Bonanza 1000 Wilayah Samarinda Mengenal Mekanisme Tumble Beruntun

Angka RTP Harian di Banjarmasin Memahami Informasi untuk Mengenali Karakteristik Game

Simbol Multiplier dan Petir Zeus di Manado Menelusuri Daya Tarik Elemen Visual

Game Modern di Mataram Mengulas Keistimewaan Fitur Cluster Pays

Strategi Membaca Pola Gacor ala Gamers Profesional dalam Perbincangan di Cirebon

Mahjong Ways Bekasi Mengenal Fitur Free Spins dengan Kemunculan Simbol Emas

Mahjong Wins 3 Wilayah Tangerang Mengulas Fenomena Maxwin yang Tidak Terduga

Volatilitas dan Durasi Bermain di Depok Memahami Pengaruh Karakteristik Permainan

Komunitas Serang Berbagi Pengalaman tentang Fitur Scatter Hitam

Starlight Princess di Purwokerto Faktor di Balik Popularitas Fitur Multiplier Besar

Tren Gacor dan RTP Live di Tasikmalaya Membahas Informasi yang Beredar di Komunitas

Mahjong Wins 2 Jambi Mengulas Momen Menegangkan saat Fitur Free Spins Aktif

Mahjong Ways 2 Bengkulu Memahami Kombinasi Simbol dan Mitos tentang Maxwin

Sistem RNG dan Keacakan Simbol pada Game Online Pembahasan dari Cimahi

Tumble Beruntun di Salatiga Memahami Mekanisme Permainan dan Persepsi Kemenangan Besar

informasi terbaru kabupaten belu 00000001

informasi terbaru kabupaten belu 00000002

informasi terbaru kabupaten belu 00000003

informasi terbaru kabupaten belu 00000004

informasi terbaru kabupaten belu 00000005

informasi terbaru kabupaten belu 00000006

informasi terbaru kabupaten belu 00000007

informasi terbaru kabupaten belu 00000008

informasi terbaru kabupaten belu 00000009

informasi terbaru kabupaten belu 00000010

informasi terbaru kabupaten belu 00000011

informasi terbaru kabupaten belu 00000012

informasi terbaru kabupaten belu 00000013

informasi terbaru kabupaten belu 00000014

informasi terbaru kabupaten belu 00000015

informasi terbaru kabupaten belu 00000016

informasi terbaru kabupaten belu 00000017

informasi terbaru kabupaten belu 00000018

informasi terbaru kabupaten belu 00000019

informasi terbaru kabupaten belu 00000020

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

sumenep cerita perkembangan istilah maxwin percakapan forum mahjong ways

pembaruan grafis pg soft menjadi topik hangat kalangan pengamat digital singaraja

bandung hingga jakarta perjalanan percakapan komunitas mahjong wins indonesia

gianyar mengulas hubungan istilah populer komunitas identitas visual mahjong ways

nuansa asia klasik karya pragmatic play menarik perhatian pengamat kreatif klungkung

bangli membahas kembalinya mahjong wins 3 percakapan simbol naga scatter

amlapura menyoroti perkembangan tampilan grafis mahjong ways 2 sudut pandang desain

forum digital berbagai wilayah indonesia menghidupkan diskusi mahjong ways

badung mengulas alasan scatter hitam mahjong wins 3 memiliki daya tarik visual tersendiri

mataram membandingkan pendekatan pragmatic play pg soft mengolah tema mahjong

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

noticias 000000001

noticias 000000002

noticias 000000003

noticias 000000004

noticias 000000005

noticias 000000006

noticias 000000007

noticias 000000008

noticias 000000009

noticias 000000010

noticias 000000011

noticias 000000012

noticias 000000013

noticias 000000014

noticias 000000015

noticias 000000016

noticias 000000017

noticias 000000018

noticias 000000019

noticias 000000020

noticias 000000021

noticias 000000022

noticias 000000023

noticias 000000024

noticias 000000025

noticias 000000026

noticias 000000027

noticias 000000028

noticias 000000029

noticias 000000030

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download