LOADING

Type to search

پاکستان

وادی تیراہ (اردو ٹائمز) شدید برفباری ,پاک فوج کی ریلیف سرگرمیاں اور پاکستان دشمنوں کا پروپیگنڈہ

Share

وادی تیراہ (اردو ٹائمز) وادی تیراہ میں پاک فوج کا کوئی آپریشن نہیں , سوشل میڈیا پر دشمنوں کا پاکستان اورمسلح افواج کےخلاف پروپیگنڈہ اورمنفی بیانیہ سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے حکومت گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے,یاد رکھیں کہ وادی تیراہ قبائلی علاقہ جات میں خیبر ایجنسی، کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں پھیلی ہوئی ہےجبکہ اس کا چھوٹا حصہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی شمالی سرحد کو بھی چھوتا ہے۔ یہاں پشتونوں کے آفریدی، اورکزئی اور شنواری قبائل آباد ہیں
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک ہمہ گیر قومی حکمتِ عملی ضروری ہے جس میں ریاست اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ وادی تیراہ میں شدید برف باری کے نتیجے میں پاک فوج کی ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، مسلسل برف باری کے باعث علاقے میں حالات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق، مقامی آبادی کی مدد اور روزمرہ زندگی کی بحالی کے لیے پاک فوج کا ریلیف آپریشن بلا تعطل جاری ہے۔ برف میں پھنسنے والی متعدد گاڑیوں کو نکال کر محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہے۔ پاک فوج اور ایف سی کے افسران و جوان امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں، اور متاثرہ خاندانوں کو کھانا، کمبل، اور ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی شہریوں نے سکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہا اور ان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ اس کے علاوہ، متاثرہ خاندانوں کو ضروری اشیاء بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ حکمت عملی کے تحت علاقے میں زمینی رابطے بحال کیے جا چکے ہیں۔کے پی کی صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشے کی وجہ سے سے مقامی افراد گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ علاقے میں فوجی آپریشن کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ صوبہ خیبرپختونخوا کی وادی تیراہ میں مجوزہ فوجی آپریشن کے تناظر میں مقامی لوگوں کی شدید سردی میں نقل مکانی کے معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومت ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ ایک ایسے وقت پر شدت سے سامنے آیا ہے جب جمعے کو تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بڑی تعداد میں خاندان ضلع خیبر میں برفانی طوفان میں پھنس گئے تھے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ان میں سے 1,500 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہےوزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وادی تیراہ کے معاملے پر پی ٹی آئی پر ’سیاست‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں کسی قسم کو کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔ ایک ویڈیو پیغام میں خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی نالائقی چھپانے کے لیے، وادی تیراہ میں خصوصی طور پر رکھے گئے چار ارب روپے میں ہونے والی کرپشن کو چھپانے کے لیے فوج کا نام لیا جا رہا ہے وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے وادی تیراہ سے متعلق سامنے آنے والے نوٹیفکیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’پورے عمل میں کسی کاغذ، کسی نوٹیفکیشن پر نہ وفاقی حکومت، نہ فوج کا ذکر ہے۔ جیسے ہی وادی تیراہ سے لوگ دوسری جگہ منتقل ہوئے اور انہیں چار ارب روپے کی پیمنٹ کی گئی، جس کی وجہ سے وہاں شور ہوا اور یہ پتہ چلا کہ آدھے سے زائد پیسے ان ہی کے لوگوں نے کسی اور مقصد کے لیے رکھ لیے ہیں۔ صوبائی حکومت نے حقائق چھپانے کے لیے ’ایک بے بنیاد اور حقائق سے ہٹ کر بیانیہ‘ بنانا شروع کر دیا۔’جب بھی آپریشن کوئی کرنا ہو گا، اعلانیہ کریں گے، سب کو بتا کر کریں گے، سب کو آن بورڈ لے کر کریں گے، کسی قسم کا نیا آپریشن یا وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔وزیر مملکت نے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ملک میں کہیں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں ہو رہی ہیں تو وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہیں اور یہ نیشنل ایکشن پلان پی ٹی آئی کے دور حکومت میں، ان کے بانی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں بنا اور اس میں خیبرپختونخوا کی حکومت پوری حصے دار ہے۔بقول طلال چوہدری: ’کوئی آئی بی آپریشن ہو یا خیبرپختونخوا میں ہونے والی کوئی کارروائی، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والا کوئی بھی عمل، اس میں خیبرپختونخوا حکومت مکمل طور پر حصہ دار اور آن بورڈ ہوتی ہے۔وادی تیراہ سے یہ نقل مکانی اس اعلان کے تقریباً ایک ماہ بعد شروع ہوئی جب مقامی عمائدین نے ایک معاہدے کے بعد رہائشیوں کو 23 جنوری تک علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا تھا
پاکستان کی فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے شمال مغربی علاقے تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے خدشات کے باعث لگ بھگ 70 ہزارنقل مکانی کر چکے ہیں طلال چوہدری کے اس تازہ بیان پر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ’حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔‘ بیان کے مطابق ’یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ ’وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔‘
مزید کہا گیا ’قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں اور اس دوران پرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔ ’ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے بیان میں وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی آبادی ’تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے مزید کہا گیا کہ ’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئیں اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور عمل کیمپوں کے بغیر مکمل کیا جائے گا
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک ہمہ گیر قومی حکمتِ عملی ضروری ہے جس میں ریاست اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے سکیورٹی پالیسیوں کو سیاسی مفادات کے لیے سیاست زدہ کرنا مجموعی امن کو خطرے میں ڈال دیتا ہے حتیٰ کہ ان لوگوں کے لیے بھی جو انہیں اپنے محدود سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس کی ایک نمایاں مثال نومبر میں خیبر کی وادی تیراہ میں بار قمبر خیل اور ملک دین خیل قبائل کی جانب سے منعقد کیے گئے دو جرگے ہیں جو علاقے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں منعقد ہوئے۔یہ جرگے علاقے میں ٹی ٹی پی کی بڑی تعداد میں دراندازی کے بعد بلائے گئے تھے۔ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں کو بدقسمتی سےجس انداز میں سیاست زدہ کیا گیا اور معمولی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا اس نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو پاکستانی معاشرے کے اندرونی شگافوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔افغانستان میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگرچہ پاکستان کی طالبان پر مرکوز افغان پالیسی جسے اب تبدیل کر دیا گیا ہے اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہونے کا متنازع فیصلہ ملک میں بگڑتی ہوئی دہشت گردی کی صورت حال کے بڑے عوامل کے طور پر زیرِ بحث آتے ہیں تاہم موجودہ سماجی اور سیاسی پولرائزیشن بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے۔
ریاست اور معاشرے کے درمیان وہ نمایاں خلیج جسے دہشت گرد نیٹ ورکس اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں نظر آتی ہے، وہ صوبہ جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ہر بار جب خیبر پختونخوا کی مقامی برادریاں فوجی آپریشنز کے خلاف احتجاج کے لیے سامنے آتی ہیں تو ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ ان اقدامات کی تعریف کرتے ہیں اور افغانستان۔پاکستان خطے میں بڑے فوجی آپریشنز کے آغاز کی کوششوں کی مزاحمت پر مقامی آبادی کی بھرپور ستائش کرتے ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ مرکزی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور افغان پالیسی کے معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔بارہا خیبر پختونخوا کی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی، سرحدوں کی بندش یا افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملوں پر اعتراض کیا ہے۔
فوجی کارروائیوں کے خلاف مقامی مزاحمت کے بعد سکیورٹی فورسز نے بار قمبر خیل اور ملک دین خیل قبائل سے کہا کہ وہ غیر عسکری ذرائع سے امن بحال کریں یا علاقہ خالی کر دیں۔جب یہ جرگے منعقد ہو رہے تھے تو وادی تیراہ میں ٹی ٹی پی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں، یہ کوئی باضابطہ آپریشن نہیں تھا۔شہری جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا۔ اس کے باوجود مقامی لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو گئے اور خود کو ٹی ٹی پی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بیچ پھنسا ہوا پایا۔دہشت گردی سے نمٹنے کے ترجیحی طریقہ کار پر مقامی آبادی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی خیبر پختونخوا میں ایک پیچیدہ چیلنج کے طور پر ابھری ہے۔ایک طرف یہ اختلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ اور خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت کے درمیان اختلافات سے جنم لینے والے بڑھتے ہوئے ریاست اور معاشرے کے فاصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری طرف یہ مقامی برادریوں کی مسلسل تشدد اور روزمرہ زندگی پر اس کے تباہ کن اثرات سے پیدا ہونے والی تھکن کو ظاہر کرتا ہے۔وہ بڑے فوجی آپریشنز کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ ماضی میں اسی نوعیت کے آپریشنز عسکریت پسندی کے خاتمے میں کیوں ناکام رہے۔مقامی آبادی کی فوجی آپریشنز کی مخالفت اور عسکریت پسند نیٹ ورکس کے ساتھ مذاکرات کی ترجیح نے ان گروہوں کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے اور کسی حد تک انہیں ایک اہم فریق کے طور پر قائم کر دیا ہے۔ مزید برآں ریاست اور معاشرے کے درمیان موجود خلیج کو عسکریت پسند نیٹ ورکس نے کامیابی سے استعمال کر کے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا اور مقامی امن کو کمزور کیا ہے۔اسی طرح صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا کی حکومت نے نومبر میں پشاور میں ایک امن جرگہ بھی منعقد کیا۔ جرگے کے اختتام پر اکیس نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر اکیس اراکین اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے دستخط کیے۔ اس اعلامیے میں صوبائی اسمبلی پر زور دیا گیا کہ وہ امن کے لیے ایک صوبائی ایکشن پلان تشکیل دے۔دیگر نکات کے علاوہ جرگے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دے اور افغان پالیسی کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت سے مشاورت کرے۔اس میں افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے دوبارہ کھولنے اور خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔ جرگے نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر ایک مقررہ مدت کے اندر قانون سازوں کو اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے۔ایک بار پھر یہ جرگہ اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان سیاست اور اختلافِ رائے کو بے نقاب کرتا ہے جو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کو سکیورٹی پالیسیوں کو سیاست کا شکار بنانے سے گریز کرنا چاہیے پاکستانی حکام کو سیاسی اور سکیورٹی تقسیم سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا اور داخلی سلامتی کے معاملے کو سیاست زدہ کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ ’صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدے دار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے ’ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’اس علاقے کے مکین برف باری شروع ہوتے ہی وہاں سے نکل جاتے ہیں اور تین چار ماہ بعد واپس آ جاتے ہیں وادی میں تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بڑی تعداد میں خاندان ضلع خیبر میں برفانی طوفان کے باعث پھنس گئے تھے۔ جس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 نے بتایا کہ شدید برف باری سے متاثرہ وادی تیراہ میں پھنسے 1,500 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے. نقل مکانی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ ’مجوزہ فوجی آپریشن‘ کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔ تاہم خواجہ آصف نے کہا کہ ’11 دسمبر کو ایک جرگہ ہواتھا جس میں 24 یا 26 کے قریب مشران شامل تھے وہ ٹی ٹی پی کے پاس گئے کہ ہماری نقل مکانی شروع ہونی ہے تو اس سلسلے میں کوئی اتفاق رائے کیا جائے، اور بعد میں وہ مشران صوبائی حکومت سے بھی ملے۔‘ ان کے مطابق ’جرگہ مشران اور صوبائی حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے اور چار ارب روپے کا پیکج تیار کیا گیاتھا۔ اس سارے معاملے سے اس علاقے میں تعینات فوجی اہلکاروں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس علاقے میں فوجی آپریشن کئی سال پہلے ہوا تھا اور وقت کے ساتھ سٹریٹیجک فیصلہ لیا گیا کہ آپریشن سے زیادہ آئی بی اوز زیادہ موثر ہوتے ہیں کیونکہ اس میں عام شہریوں کا نقصان کم ہوتا ہے خواجہ آصف نے کہا کہ ’فوج نے آئی بی اوز کے مقابلے میں آپریشن کو ترک کر دیا اس لیے آپریشن کا وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ نقل مکانی ایک روٹین ہے۔‘انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سارے عرصے میں صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھی جائے تو نہ وہاں سکول ہیں نہ ہسپتال ہیں اور نہ ہی کوئی تھانہ ہے اور صوبائی حکومت کا کچھ عرصہ قبل جرگے کے ساتھ طے پایا تھا کہ وہاں پولیس سٹیشن بچیوں کے سکول بنائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر دفاع نے سوال کیا کہ ’صوبائی حکومت کے نوٹیفیکیشن اور جرگے کی موجودگی میں راڈار پر آپ کو فوج کہاں نظر آ رہی ہے؟ ’خیبر پختونخوا حکومت اپنی ناکامیوں کا سارے کا سارا ملبہ فوج یا کسی ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔‘ دوسری جانب تیراہ سے نقل مکانی پر وفاقی حکومت کے ایک نوٹیفیکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے 25 جنوری کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے ایک نوٹفکیشن جاری ہوا کہ تیراہ کے متاثرین خود اپنا علاقہ چھوڑ کر آ رہے ہیں ے؟ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ یہ نوٹفکیشن صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم کا پروانہ ہے۔ اس سے تھوڑا بہت جو اعتماد ہمارے درمیان تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔ آج کے بعد میں حکم دیتا ہوں ہماری وفاقی حکومت کے ساتھ جو بھی معاملات ہوں گے وہ ثبوت کے ساتھ ہوں گے تاکہ بعد میں جو یہ گند پھیلاتے ہیں، جو بند کمروں کے فیصلے پہلے مسلط کرتے ہیں نقصان ہونے پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں تاکہ پھر کوئی اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اعلان کرتا ہوں کہ آنے والے اتوار کو میں آفریدی قوم کا جرگہ بلاؤں گا اس جرگے میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ آپ کو نکالا گیا یا آپ خود آئے؟ اگر آپ کی بات جھوٹی ہوئی تو اتوار کے بعد اپنے لوگوں کو میں خود تیراہ چھوڑنے جاوں گا۔‘ وزیر اعلیٰ نے سوات میں ایک ریلی سے خطاب میں الزام عائد کیا تھا کہ فوج اور آئی جی ایف سی نے 24 رکنی کمیٹی کو مجبور کیا تھا کہ لوگ تیراہ سے نقل مکانی کریں۔ تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف مجوزہ فوجی آپریشن کی وجہ سے مقامی افراد نقل مکانی کر رہے ہیں خیبر پختونخوا حکومت کے محکمہ ریلیف، بحالی اور آبادکاری کی جانب سے 26 دسمبر، 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے ممکنہ عارضی اور رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی نقل و حمل، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، عارضی قیام اور رجسٹریشن مراکز کے قیام و انتظام سمیت دیگر تیاری اور امدادی اقدامات کے لیے تقریباً چار ارب روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ انخلا عارضی اور رضاکارانہ ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ انخلا مبینہ طور پر فوج کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت نے اتوار کو مبینہ طور پر فوج کے احکامات پر تیراہ وادی کو ’خالی‘ کرنے کے دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دے دیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں افغان سرحد کے قریب واقع وادی تیراہ میں اب تک ہزار وں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مقامی رہائشیوں اور حکام نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ تاہم پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ میں نہ تو کوئی فوجی آپریشن جاری ہے اور نہ ہی اس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ فوجی کارروائی کی وجہ سے نہیں بلکہ موسمی شدت سے بچنے کے لیے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ان کے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب کئی ہفتوں سے لوگ تیراہ چھوڑ رہے ہیں۔اس علاقے سے اجتماعی انخلا اس اعلان کے ایک ماہ بعد شروع ہوا، جب مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے لوگوں کو 23 جنوری تک تیراہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔ گزشتہ سال اگست میں پاکستان نےضلع باجوڑ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا تھا، خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے ایکس پر لکھا کہ وہ بے گھر افراد کی مشکلات کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد نے فوجی آپریشن سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف سے پسپائی اختیار کر لی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بے گھر افراد کی دیکھ بحال کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت تیراہ میں مکمل فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔دوسری جانب پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھے گی۔ یہ گروہ، اگرچہ افغان طالبان سے الگ ہے، لیکن 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد مضبوط ہوا ہے۔ حکام کے مطابق ٹی ٹی پی کے کئی رہنما اور جنگجو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور سینکڑوں تیراہ میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں وہ کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اس صورتحال میں تیراہ کے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جو غیر یقینی حالات کے باعث باڑہ اور قریبی علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اب تک تقریباً 10 ہزار خاندانوں، یعنی لگ بھگ 70 ہزار افراد کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے، جبکہ تیراہ کی مجموعی آبادی تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ امدادی سرگرمیوں کے نگران افسر طلحہ رفیق عالم نے بتایا کہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 23 جنوری سے بڑھا کر 5 فروری کر دی گئی ہے نقل مکانی کی بنیادی وجہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال ہے اور حالات بہتر ہونے پر بے گھر افراد کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔ باڑہ اور آس پاس کے علاقوں میں خاندانوں کو گاڑیوں کے ذریعے تیراہ سے آتے دیکھا گیانقل مکانی کرنے والے ایک اور شہری نریندر سنگھ نے بتایا کہ شدید برفباری کے بعد خوراک کی قلت مزید بڑھ گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ”تیراہ میں خوراک کی شدید کمی تھی، اسی وجہ سے ہمیں علاقہ چھوڑنا پڑا۔ تیراہ ستمبر میں اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب وہاں ایک احاطے میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد ٹی ٹی پی سے وابستہ جنگجو تھے، تاہم مقامی رہنماؤں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے سمیت عام شہری بھی شامل تھے۔خیبر پختونخوا میں صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ایک ہدایت نامے میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کو کہا کہ وہ اس ہفتے صوبے میں متوقع شدید بارشوں اور برف باری کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں۔ محکمہ موسمیات نے اس خبردار کیا ہے کہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ 25 جنوری سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہو گا اور 26 جنوری کو شمالی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس نظام کے باعث ان علاقوں میں شدید بارش اور برف باری کا امکان ہے۔ خیبر اور سوات کے شمال مغربی اضلاع کی انتظامیہ نے ریسکیو آپریشن کیے اور مختلف مقامات پر گاڑیاں پھنس گئیں۔ سوشل میڈیا پر جاری فوٹیج میں ریسکیو اہلکاروں کو دکھایا گیا جو تیرہ روڈ، ملم جبہ روڈ اور نتھیا گلی میں بھاری برف باری کے باعث پھنسے لوگوں کی مدد کر رہے تھے۔ پی ڈی ایم اے نے اپنے ہدایت نامے میں کہا ضلعی انتظامیہ کو سڑکوں، شاہراہوں اور سیاحتی مقامات کی مسلسل نگرانی یقینی بنانی چاہیے، ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کو چوکنا رکھنا چاہیے، اور کنٹرول رومز اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیاحوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کریں اور برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق بروقت انتباہ جاری کریں۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ بارش اور برف باری سے مختلف علاقوں میں سڑکیں بند ہونے، پھسلن، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے گرنے اور اچانک سیلاب کا خطرہ ہے، جس سے عام عوام اور سیاح متاثر ہوسکتے ہیں۔اتھارٹی نے لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کرتے ہوئے سیاحوں کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ برف باری اور شدید بارشوں کے دوران بالائی اور دور دراز علاقوں کا رخ نہ کریں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو یقین دلایا کہ وہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ پاکستان بھر سے ہزاروں سیاح موسمِ سرما میں کشمیر، گلگت بلتستان، کے پی اور پنجاب کے خوبصورت مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم شہری اکثر خراب موسم اور سڑکوں کی بندش سے متعلق حکام کی وارننگز کو نظر انداز کرتے ہیں، جس سے ہنگامی حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ جنوری 2022 میں، مری میں شدید برفانی طوفان کے دوران کم از کم 21 افراد اپنی گاڑیوں میں پھنس کر جان سے چلے گئے تھے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری بارش اور برف باری کے باعث جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے وہیں سڑکوں کی بندش اور چند مقامات پر حادثات پیش آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔جمعے کو لوئر چترال کے علاقے ڈومیل میں ایک گھر پر برفانی تودہ گرنے سے نو افراد جان سے چلے گئے تھے جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا تھا۔ریاست اور خیبر پختونخوا کے درمیان موجود اختلافات کا ایک پیمانہ صوبے میں منعقد ہونے والے مختلف امن جرگے ہیں، چاہے وہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہوں یا مقامی برادریوں کی جانب سے منعقد کیے گئے ہوں۔یہ جرگے اس ناخوشگوار حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ مقامی حمایت حاصل کیے بغیر سکیورٹی اقدامات کا یکطرفہ نفاذ الٹا اثر ڈالے گا اور اس کا فائدہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو پہنچے گا۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

wild bandito princess starlight perbedaan cara membangun dunia imajinatif permainan

pengguna kota metro membahas mengapa durasi jam bermain tidak menjamin hasil menguntungkan

mahjong ways kabupaten kutai kartanegara mengulas hubungan desain permainan persepsi pola

sweet bonanza kota ternate peran warna cerah menciptakan daya tarik visual

gates of olympus kabupaten serdang bedagai memahami mengapa multiplier tidak sama kepastian hasil

lucky neko kabupaten lampung selatan perpaduan identitas jepang gaya animasi kontemporer

mahjong wins kabupaten kubu raya mengamati kebiasaan berbagi pengalaman melalui media sosial

wild bandito kabupaten pamekasan bagaimana tema petualangan membentuk identitas visual

princess starlight kabupaten banyuasin menelaah pengaruh musik cahaya terhadap pengalaman digital

sweet bonanza kabupaten kutai timur memahami mengapa hasil sebelumnya tidak menentukan hasil berikutnya

mahjong ways kota banjarbaru membedakan fungsi simbol dekoratif simbol fungsional

lucky neko kabupaten indragiri hulu mengkaji daya tarik simbol keberuntungan perspektif budaya

gates of olympus kabupaten aceh tengah menentukan batas hiburan ekspektasi finansial

wild bandito kabupaten buru selatan mengulas fungsi ilustrasi menyampaikan tema permainan

mahjong pgsoft kabupaten konawe menelusuri transformasi unsur tradisional media digital

pemodelan mahjong ways menganalisis konsistensi frekuensi simbol data simulasi

observasi mahjong ways 2 mengkaji variansi outcome serangkaian percobaan

studi gates of olympus mengulas distribusi multiplier berdasarkan sampel hasil putaran

uji sweet bonanza membandingkan frekuensi kombinasi berbagai sesi

analisis starlight princess meninjau pola distribusi freespin melalui data simulasi

pemetaan lucky neko mengamati fluktuasi simbol interval pengamatan berbeda

simulasi pg soft mengkaji keterkaitan variansi frekuensi outcome permainan

kajian pragmatic play memetakan karakteristik distribusi simbol berdasarkan sampel data

observasi microgaming mengkaji sebaran hasil serangkaian percobaan acak

pemodelan playtech mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur khusus sampel data

studi netent menganalisis dinamika volatilitas selama periode pengamatan

analisis mahjong wins memetakan sebaran multiplier serangkaian simulasi

uji bonanza gold membandingkan outcome berdasarkan perbedaan interval pengamatan

kajian scatter hitam mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur data permainan

studi game online menganalisis pengaruh persepsi risiko terhadap proses pengambilan keputusan

penelitian teknologi informasi 00000001

penelitian teknologi informasi 00000002

penelitian teknologi informasi 00000003

penelitian teknologi informasi 00000004

penelitian teknologi informasi 00000005

penelitian teknologi informasi 00000006

penelitian teknologi informasi 00000007

penelitian teknologi informasi 00000008

penelitian teknologi informasi 00000009

penelitian teknologi informasi 00000010

penelitian teknologi informasi 00000011

penelitian teknologi informasi 00000012

penelitian teknologi informasi 00000013

penelitian teknologi informasi 00000014

penelitian teknologi informasi 00000015

penelitian teknologi informasi 00000016

penelitian teknologi informasi 00000017

penelitian teknologi informasi 00000018

penelitian teknologi informasi 00000019

penelitian teknologi informasi 00000020

penelitian teknologi informasi 00000021

penelitian teknologi informasi 00000022

penelitian teknologi informasi 00000023

penelitian teknologi informasi 00000024

penelitian teknologi informasi 00000025

penelitian teknologi informasi 00000026

penelitian teknologi informasi 00000027

penelitian teknologi informasi 00000028

penelitian teknologi informasi 00000029

penelitian teknologi informasi 00000030

penelitian teknologi informasi 00000031

penelitian teknologi informasi 00000032

penelitian teknologi informasi 00000033

penelitian teknologi informasi 00000034

penelitian teknologi informasi 00000035

penelitian teknologi informasi 00000036

penelitian teknologi informasi 00000037

penelitian teknologi informasi 00000038

penelitian teknologi informasi 00000039

penelitian teknologi informasi 00000040

penelitian teknologi informasi 00000041

penelitian teknologi informasi 00000042

penelitian teknologi informasi 00000043

penelitian teknologi informasi 00000044

penelitian teknologi informasi 00000045

Volatilitas dan Pola Kemenangan di Bandung Memahami Hubungan Keduanya

Cerita Player Semarang saat Menemukan Simbol Scatter Hitam

Gates of Olympus di Makassar Bagaimana Fitur Tumble Membentuk Dinamika Permainan

Mahjong Wins Palembang Menilik Fitur Free Spins yang Paling Dinantikan

Game PG Soft di Yogyakarta Membahas Faktor di Balik Nilai RTP yang Tinggi

Starlight Princess 1000 di Wilayah Denpasar Mengenal Fitur Multiplier x1000

Pola Gacor dan Tips Bermain Aman Pembahasan untuk Komunitas di Malang

Mahjong Ways 3 Pekanbaru Pengalaman Pemain dalam Memahami Fitur Maxwin

Simbol Scatter dan Wild di Balikpapan Perannya dalam Mengaktifkan Fitur Bonus

Memahami Sistem RNG dan Prinsip Keacakan Putaran dalam Game di Pontianak

Mahjong Wins 3 Batam Membahas Kemunculan Scatter Hitam dan Persepsi Keberuntungan

Tren Gacor Mahjong Ways Kembali Menjadi Perbincangan di Kalangan Player Bogor

Mahjong Wins 2 Surakarta Mengulas Fitur Free Spins yang Menarik Perhatian

Gates of Olympus Versi Bandar Lampung Membahas Momen Maxwin Spektakuler

Tingkat Volatilitas dan Hasil Sesi Permainan Kajian dari Kota Padang

Sweet Bonanza 1000 Wilayah Samarinda Mengenal Mekanisme Tumble Beruntun

Angka RTP Harian di Banjarmasin Memahami Informasi untuk Mengenali Karakteristik Game

Simbol Multiplier dan Petir Zeus di Manado Menelusuri Daya Tarik Elemen Visual

Game Modern di Mataram Mengulas Keistimewaan Fitur Cluster Pays

Strategi Membaca Pola Gacor ala Gamers Profesional dalam Perbincangan di Cirebon

Mahjong Ways Bekasi Mengenal Fitur Free Spins dengan Kemunculan Simbol Emas

Mahjong Wins 3 Wilayah Tangerang Mengulas Fenomena Maxwin yang Tidak Terduga

Volatilitas dan Durasi Bermain di Depok Memahami Pengaruh Karakteristik Permainan

Komunitas Serang Berbagi Pengalaman tentang Fitur Scatter Hitam

Starlight Princess di Purwokerto Faktor di Balik Popularitas Fitur Multiplier Besar

Tren Gacor dan RTP Live di Tasikmalaya Membahas Informasi yang Beredar di Komunitas

Mahjong Wins 2 Jambi Mengulas Momen Menegangkan saat Fitur Free Spins Aktif

Mahjong Ways 2 Bengkulu Memahami Kombinasi Simbol dan Mitos tentang Maxwin

Sistem RNG dan Keacakan Simbol pada Game Online Pembahasan dari Cimahi

Tumble Beruntun di Salatiga Memahami Mekanisme Permainan dan Persepsi Kemenangan Besar

informasi terbaru kabupaten belu 00000001

informasi terbaru kabupaten belu 00000002

informasi terbaru kabupaten belu 00000003

informasi terbaru kabupaten belu 00000004

informasi terbaru kabupaten belu 00000005

informasi terbaru kabupaten belu 00000006

informasi terbaru kabupaten belu 00000007

informasi terbaru kabupaten belu 00000008

informasi terbaru kabupaten belu 00000009

informasi terbaru kabupaten belu 00000010

informasi terbaru kabupaten belu 00000011

informasi terbaru kabupaten belu 00000012

informasi terbaru kabupaten belu 00000013

informasi terbaru kabupaten belu 00000014

informasi terbaru kabupaten belu 00000015

informasi terbaru kabupaten belu 00000016

informasi terbaru kabupaten belu 00000017

informasi terbaru kabupaten belu 00000018

informasi terbaru kabupaten belu 00000019

informasi terbaru kabupaten belu 00000020

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

sumenep cerita perkembangan istilah maxwin percakapan forum mahjong ways

pembaruan grafis pg soft menjadi topik hangat kalangan pengamat digital singaraja

bandung hingga jakarta perjalanan percakapan komunitas mahjong wins indonesia

gianyar mengulas hubungan istilah populer komunitas identitas visual mahjong ways

nuansa asia klasik karya pragmatic play menarik perhatian pengamat kreatif klungkung

bangli membahas kembalinya mahjong wins 3 percakapan simbol naga scatter

amlapura menyoroti perkembangan tampilan grafis mahjong ways 2 sudut pandang desain

forum digital berbagai wilayah indonesia menghidupkan diskusi mahjong ways

badung mengulas alasan scatter hitam mahjong wins 3 memiliki daya tarik visual tersendiri

mataram membandingkan pendekatan pragmatic play pg soft mengolah tema mahjong

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

noticias 000000001

noticias 000000002

noticias 000000003

noticias 000000004

noticias 000000005

noticias 000000006

noticias 000000007

noticias 000000008

noticias 000000009

noticias 000000010

noticias 000000011

noticias 000000012

noticias 000000013

noticias 000000014

noticias 000000015

noticias 000000016

noticias 000000017

noticias 000000018

noticias 000000019

noticias 000000020

noticias 000000021

noticias 000000022

noticias 000000023

noticias 000000024

noticias 000000025

noticias 000000026

noticias 000000027

noticias 000000028

noticias 000000029

noticias 000000030

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download