اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان کے توانائی بحران کے حل کے لیے لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق، میڈیا راؤنڈ ٹیبل میں اہم نتائج اور تجاویز پیش
Share
اسلام آباد، 5 نومبر (اردو ٹائمز): لمزانرجی انسٹی ٹیوٹ (ایل ای آئی) نے توانائی کے بحران پر دوسرا اعلیٰ سطحی میڈیا راؤنڈ ٹیبل منعقد کیا، جس میں پاکستان کے توانائی بحران پر قابو پانے ، بجلی کے نرخوں میں کمی اور طویل مدتی توانائی تحفظ کے لیے تحقیق کے نتائج اور تجاویز پیش کی گئیں ۔ تحقیق کے مطابق توانائی کے شعبے میں مربوط منصوبہ بندی، بجلی کے مؤثر استعمال، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور مقامی سطح پر آلات کی تیاری سے ملکی معیشت کو نمایاں بچت ہو سکتی ہے۔
’پاکستان کا توانائی تحفظ: میڈیا کے ساتھ مکالمہ‘ کے عنوان سے منعقدہ اس راؤنڈ ٹیبل میں سینئر صحافیوں ، شعبہ توانائی کے اعلیٰ حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان کو درپیش توانائی کے مسائل کی بنیادی وجوہات اور سستی، قابلِ اعتماد اور خود انحصار توانائی کے نظام کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ مئی 2026 میں منعقدہ پہلے میڈیا سیشن کے تسلسل میں اس بار توانائی کے شعبے میں منصوبہ بندی کے مسائل، موسم کے لحاظ سے بجلی کی طلب، درآمدی ایندھن پر انحصار، تقسیم شدہ شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال، بجلی کے ترسیلی نظام کے استحکام اور مالی پائیداری پر توجہ مرکوز کی گئی۔
لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ایڈوائزر، نیشنل گرڈ پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) کے انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے کہا کہ ادارہ تحقیق کے ذریعے توانائی کے شعبے کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ مؤثر پالیسی سازی اور مربوط توانائی منصوبہ بندی کے لیے سرکاری اداروں کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے الیکٹریسٹی آؤٹ لک 2020 اور 2022، بجلی کی طلب کے تخمینے کے آلات، گرڈ کوڈ 2023، انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ 2023، الیکٹرک وہیکل پالیسی فریم ورک، پائیدار طرزِ تعمیر اور توانائی کے شعبے میں مقامی پیداوار کے فروغ سے متعلق اقدامات کو تحقیق کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اہم پیش رفت اور توانائی کے شعبے میں بہتری کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
تحقیقی سیشن ’توانائی کے بحران کی اصل وجوہات: اعداد و شمار پر مبنی تحقیق‘ کے دوران ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے بتایا کہ انڈی کیٹیو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2035-2025 کے تحت بجلی کی پیداوار کے لیے کم لاگت والے ذرائع کو ترجیح دینے سے متعلق منصوبہ بندی پر نظرثانی کے نتیجے میں تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر کی ممکنہ بچت ہو سکتی ہے۔ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق رہائشی عمارتوں میں سے صرف 25 فیصد میں توانائی کی بچت کے اقدامات کے ذریعے بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب میں تقریباً 3,000 میگاواٹ کمی لائی جا سکتی ہے ، جبکہ سالانہ توانائی کے اخراجات میں ممکنہ طور پر 442.6 ارب روپے کی بچت بھی ہو سکتی ہے۔
لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق ’نیٹ زیرو ٹرانزیشن: 2040 تک صاف اور پائیدار بجلی کے حصول کا راستہ‘ کے نتائج پیش کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ اس تحقیق میں 2040 تک بجلی کے شعبے سے کاربن کے اخراج کو تقریباً مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق مالی سال 2024 میں بجلی کی پیداوار میں فوسل فیول کا حصہ 49 فیصد تھا، جسے مالی سال 2040 تک کم کرکے تقریباً ایک فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پن بجلی کا حصہ 47 فیصد، ہوا سے بجلی کی پیداوار کا 25 فیصد، جوہری توانائی کا 18 فیصد اور شمسی توانائی کا آٹھ فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ تحقیق میں
تقریباً 78 ملین ٹن کاربن کے اخراج سے بچاؤ کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ صارفین کی سطح پر شمسی توانائی کی پیداوار میں اضافے سے قومی گرڈ پر بجلی کی کم از کم طلب تقریباً 3,000 میگاواٹ تک کم ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں گرڈ کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے بیٹری اسٹوریج اور بجلی کی طلب کو منظم کرنے کے اقدامات ضروری ہوں گے۔
لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی تھرمل پاور پلانٹس کے متبادل استعمال سے متعلق تحقیق میں قابلِ تجدید توانائی سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام کے استحکام کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی گئی۔ تحقیق میں تجویز دی گئی کہ موجودہ تھرمل پاور پلانٹس میں سے موزوں پلانٹس کو سنکرونس کنڈینسرز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ، تاکہ قومی گرڈ کو ضروری معاون خدمات فراہم کی جا سکیں ۔ تاہم، اس تجویز پر عمل درآمد کا فیصلہ تکنیکی اور معاشی افادیت کے جائزے سے مشروط ہوگا۔
توانائی کے شعبے میں مقامی پیداوار کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے شعبوں میں آلات کی متوقع طلب 1.9 ٹریلین روپے ہے ، جس میں سے تقریباً 1.1 ٹریلین روپے مالیت کے آلات مقامی سطح پر تیار کیے جا سکتے ہیں ۔ تحقیق میں 49 مقامی صنعت کاروں کی پیداواری صلاحیت اور تیاری کی سطح کا جائزہ لے کر مقامی صنعت کے فروغ کے لیے ایک روڈ میپ بھی تجویز کیا گیا۔ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ نے حکومت پر زور دیا کہ قومی بجلی منصوبہ 2027-2023 کے تحت تجویز کردہ پاور سیکٹر انڈیجینائزیشن پلان (پی ایس آئی پی) پر عمل درآمد تیز کیا جائے ، تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکے۔
تحقیق کے مطابق پاکستان میں بیٹری اسٹوریج کی طلب میں آئندہ برسوں کے دوران نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ 26-2025 میں بیٹری اسٹوریج کی متوقع طلب 4 سے 5 گیگا واٹ آور ہے ، جو 2031 تک بڑھ کر 45 سے 50 گیگا واٹ آور تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اضافہ بجلی کے نظام میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے استعمال کے تناظر میں بیٹری اسٹوریج کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
راؤنڈ ٹیبل کے اختتام پر ’ماہرین سے سوالات: ادارہ جاتی اور ماہرین کا ردعمل‘ (ماہرین سے پوچھیں: ادارہ جاتی اور ماہر کا جواب) کے عنوان سے پینل سیشن منعقد ہوا، جس میں انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر مسعود احمد، نیشنل گرڈ پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر الطاف حسین ملک، ISMO کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر ہارون اور لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے تکنیکی ماہرین عمرفاروق اور فیصل جاویدمغل نے بھی شرکت کی۔ پینل میں میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرمایہ کاری کی ترجیحات، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو بجلی کے نظام میں شامل کرنے ، گرڈ کو جدید بنانے اور طویل مدتی توانائی تحفظ سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔
راؤنڈ ٹیبل میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ توانائی کے شعبے سے متعلق معلومات عوام تک پہنچانے ، عوامی آگاہی بڑھانے اور توانائی کے نظام میں تبدیلیوں سے متعلق مستند معلومات اور تحقیق کی بنیاد پر بحث کو فروغ دینے میں میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

