اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی بڑی کارروائی — غیر قانونی گردے کی پیوندکاری کا گروہ بے نقاب
Share
*اسلام آباد (اردو ٹائمز): ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے ہمراہ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی، اسلام آباد میں چھاپہ مار کر غیر قانونی کمرشل گردے کی پیوندکاری کے ایک منظم گروہ کو پکڑ لیا۔ چھاپے کے دوران انکشاف ہوا کہ وصول کنندہ محمد قاسم ولد محمد عارف کو ڈونر رمضان ارشد ولد محمد ارشد کا گردہ غیر قانونی طریقے سے لگایا گیا تھا۔
کارروائی کے دوران تین ملزمان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ دیگر دو کو کو بعد ازاں گرفتار کیا گیا۔ عدالت نے گرفتار ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے ۔
*طریقہ واردات*
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وصول کنندہ نے گردے کی پیوندکاری کے عوض 30 لاکھ روپے نقد ادا کیے۔ ڈونر کا بندوبست ایجنٹوں نے کیا۔ ان ایجنٹوں نے ڈونر سے 4 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا جس میں سے 3 لاکھ 40 ہزار روپے ڈونر کو اور 60 ہزار روپے تینوں ایجنٹوں میں کمیشن کے طور پر تقسیم ہونے تھے۔
یہ ملزمان کسی قسم کی طبی ڈگری یا سند کے بغیر رہائشی مکانات میں گردوں کی پیوندکاری کرتے رہے۔ پیوندکاری کے لیے ضروری ٹیشو ٹائپنگ، کراس میچ، PRA اور HLA ٹیسٹ ایک ہسپتال سے ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے کروائے جاتے تھے۔ چونکہ یہ ٹیسٹ صرف HOTA سے منظور شدہ قریبی رشتہ داروں کے لیے ہی کیے جاتے ہیں، اس لیے ملزمان ڈونر کے نمونے وصول کنندہ کے رشتہ داروں کے ناموں پر جعلی ریفرل خطوط کے ساتھ پیش کرتے تھے تاکہ معاملہ رشتہ دار ڈونر کا لگے۔ وصول کنندگان کا ڈائیلاسس اسلام آباد میں موجودایک ہسپتال کے ایک ٹیکنیشن کے ذریعے کرایا جاتا تھا۔
جبکہ پیوندکاری کے بعد مریض کی حالت بگڑنے پر اس کو ایک اور ہسپتال میں بھیج دیا جاتا تھا
اس گروہ کا جال ایجنٹوں، ایک ڈاکٹر، نرس، اینستھیزیا فراہم کرنے والے، ادویات سپلائی کرنے والے، لیبارٹری ٹیسٹ کروانے والے اور ڈائیلاسس فراہم کرنے والے افراد پر مشتمل تھا۔ یہ گروہ پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی، بحریہ فیز 4 اور پشاور میں نجی مقامات پر کام کرتا رہا ہے۔
*مالی تحقیقات*
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزمان نے غیر قانونی گردے کی پیوندکاری سے حاصل ہونے والی ناجائز آمدن سے اسلام آباد میں قیمتی جائیدادیں خریدیں۔ ایک ملزم نے میڈیا ٹاؤن، اسلام آباد میں 10 مرلہ مکان 6 کروڑ 25 لاکھ روپے میں خریدا، جبکہ دوسرے ملزم نے جناح گارڈن فیز 1، اسلام آباد میں 5 مرلہ مکان 2 کروڑ 50 لاکھ روپے میں خریدا۔ دونوں جائیدادوں کی منتقلی ایف آئی اے ایکٹ 1974 کی دفعہ 5 کے تحت نوٹس جاری کر کے منجمد کر دی گئی ہے۔ ملزمان کے بینک ریکارڈ کے حصول کے لیے تمام بینکوں کو خطوط روانہ کر دیے گئے ہیں اور دونوں ملزمان کے خلاف علیحدہ منی لانڈرنگ کی کارروائی بھی زیرِ غور ہے۔
مزید یہ کہ تلاشی کے دوران ملزمان سے 10 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے اور تین گاڑیاں — ایک چنگان اوشان X7 اور دو ہونڈا سِوک — ضبط کی گئیں جن کی منتقلی اور رجسٹریشن متعلقہ ایکسائز دفتر کے ذریعے منجمد کر دی گئی ہے۔ HOTA، IHRA اور DRAP کی ٹیموں نے غیر قانونی سیٹ اپ کا معائنہ کیا اور الگ الگ رپورٹیں پیش کریں گی۔
یہ پوری کارروائی ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی ہدایت اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ ایف آئی اے ٹیم میں سب انسپکٹر تابش جاوید، سب انسپکٹر شہریار، سب انسپکٹر اہتشام گوندل، اسسٹنٹ سب انسپکٹر سہیل احمد اور ایل ایف سی رباب شامل تھے۔ HOTA کی جانب سے اسسٹنٹ آڈٹ آفیسر سردار عادل اور مانیٹرنگ آفیسر ہنا کنول نے اس مشترکہ آپریشن میں حصہ لیا۔
باقی نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں اور تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
مقدمہ ایف آئی آر نمبر 60/2026 مورخہ 15 اکتوبر 2026 ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010 کی دفعات 9، 10 اور 11(a)(ii) زیر دفعہ 34، 419 اور 109 PPC درج کیا گیا ہے۔






