اسلام آباد (اردو ٹائمز) ترامڑی چوک میں نومولود کی لاش کچرے دان میں پھینکنے کا مبینہ واقعہ، نجی اسپتال کا عملہ ملوث شہزاد ٹاؤن پولیس نے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا، نومولود کی لاش تحویل میں لے کر اسپتال منتقل، واقعے کی تحقیقات شروع
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز): وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترامڑی چوک، تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نومولود کی لاش مبینہ طور پر کچرے دان میں پھینکنے کی کوشش کی گئی۔ واقعے نے نجی طبی مراکز میں زچہ و بچہ کی دیکھ بھال اور طبی عملے کی ذمہ داریوں سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ارم اسپتال نامی نجی طبی مرکز میں ایک 17 سالہ شادی شدہ لڑکی اپنے والد اور دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ موجود تھی۔ الزام ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کی موت واقع ہوئی اور بعدازاں اسپتال کے عملے نے نومولود کی لاش مبینہ طور پر ایک شاپر میں ڈال کر اپنے ایک کارکن کے حوالے کی، جسے اسے کچرے دان میں پھینکنے کے لیے بھیجا گیا۔
ذرائع کے مطابق، جب مذکورہ کارکن نومولود کی لاش پھینکنے جا رہا تھا تو ایک راہ گیر کو شک گزرا۔ اس نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو روک لیا اور پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر تھانہ شہزاد ٹاؤن منتقل کر دیا، جبکہ نومولود کی لاش تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کی گئی۔ پولیس کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور مزید قانونی کارروائی شروع کرنے کی اطلاعات ہیں۔
اہم سوالات جن کے جواب ضروری ہیں: نومولود کی موت کن حالات میں ہوئی؟ کیا بچے کی پیدائش اور موت کا باقاعدہ طبی ریکارڈ موجود ہے؟ لاش کو مبینہ طور پر کچرے دان میں پھینکنے کی نوبت کیوں آئی؟ اور اس معاملے میں اسپتال انتظامیہ سمیت دیگر متعلقہ افراد کا کیا کردار تھا؟
واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ اسلام آباد پولیس، محکمہ صحت اور متعلقہ حکام معاملے کی شفاف تحقیقات کریں، اسپتال کا طبی ریکارڈ اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنائیں اور حقائق سامنے لائیں۔ تاہم، کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ تفصیلات ابتدائی اطلاعات پر مبنی ہیں؛ نومولود کی موت کی وجہ اور مبینہ کرداروں کی ذمہ داری کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

