اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان ، سعودی عرب کی سلامتی اور تحفظ کے لیے پر عزم
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے غیر مشروط عزم پر قائم ہے۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا، جو نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر “اجتماعی دفاع” (ایک پر حملہ، سب پر حملہ) کے اصول پر مبنی ہے۔• حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے بعد ریاض میں مکہ اتحاد کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے شرکت کی۔ اجلاس میں “اجتماعی دفاعی اقدامات” کو فوری فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
حکومت پاکستان نے جمعے کو ایک بیان میں واضح کہا کہ سعودی عرب میں اس کے فوجی اہلکاروں کی خاطر خواہ تعداد تعینات ہے، جو دفاعی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایئر پورٹ پر 2 حملوں کے نتیجے میں 3 سعودی شہری جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے پہلےحملے میں ایئر پورٹ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اتھارٹی نے بتایا ہے کہ ریاض ایئر پورٹ پر دوسرے حملے میں سرکاری ایئر لائن کے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملے میں سعودی ایئر لائنز کا ملازم جاں بحق ہوا، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی کے مطابق حملے کے وقت طیارے میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا، تاہم ان حملوں میں املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور اس مشکل وقت میں سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں ریاض اور ابہا ایئرپورٹس کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی شہریوں کی اموات اور زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی افواج نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو روک کر بے گناہ شہریوں کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے وزارت خارجہ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے عسکری دستے سعودی عرب میں موجود ہیں۔اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ دفاعی معاہدہ فعال ہونے کے بعد آپریشنل فیصلے متعلقہ حکام خود کریں گے۔ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کو پاکستان کے لیے انتہائی تشویش کا باعث قرار دیا گیا ہے ترجمان نے بتایا کہ دفاعی معاہدے (مکہ اتحاد) کے تحت سیکریٹری جنرل (لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود) کی تعیناتی مکمل ہو چکی ہے۔ معاہدہ فعال ہونے کے بعد اب تمام تر عملی اور آپریشنل فیصلے متعلقہ حکام خود کریں گے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی یا جنگ کی صورتحال میں پاکستان نے جو متوازن اور مثبت کردار ادا کیا ہے، بین الاقوامی برادری اور غیر ملکی مہمانوں کی جانب سے اسے بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔
ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ افغان عبوری حکومت کے الزامات کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی پناہ گاہیں افغانستان میں اب بھی موجود ہیں۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے خلاف ملکی سلامتی کے اداروں کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام ریاستی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر (AJK) میں حالیہ انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل اور حکومت سازی کا پورا عمل کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے
اس سے پہلے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاک فوج کے دستے پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ مکہ اتحاد کے تحت دستوں کی موجودگی کوئی نئی پیش رفت نہیں ہے، بلکہ پاکستانی فوجی اہلکار کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف شعبوں اور صلاحیتوں (ڈومینز) کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس سہ فریقی معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا (جسے نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر ڈیزائن کیا گیا ہے)۔
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تنصیبات اور شہروں پر حالیہ حملوں کے بعد 5 اکتوبر 2026 کو ریاض میں مکہ اتحاد کی اسٹریٹجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (SPDC) کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے حوثی ملیشیا کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے “اجتماعی دفاعی اقدامات” کو فوری فعال کرنے اور ضرورت کے مطابق متفقہ فوجی دستوں اور عسکری صلاحیتوں کو تیزی سے سعودی عرب میں تعینات کرنے پر اتفاق کیا۔ اس ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شرکت کی۔ اسی اجلاس میں مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کی نامزدگی کی توثیق بھی کی گئی۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق، سعودی عرب کی سکیورٹی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے اور یہ دفاعی اتحاد کسی اچانک یا خلا سے پیدا ہونے والی چیز نہیں، بلکہ تینوں برادر ممالک کے دیرینہ تاریخی، سیاسی اور فوجی تعلقات کا ایک منظم تسلسل ہے۔قبل ازیں پاکستان کی وفاقی وزارتِ اطلاعات نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاک فضائیہ کے طیاروں کے استعمال ہونے سے متعلق خبر کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات نے کہا ہے کہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کیے گئے دعوے غلط ہیں۔ بیان کے مطابق عالمی میڈیا کو قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کرنا چاہیے۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات کا یہ ردعمل نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک سینئر پاکستانی فوجی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف حملوں میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے حالیہ دھماکوں کے تناظر میں یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی ملیشیا کے درمیان جاری لڑائی میں شدت کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں ایک اور پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے بتایا ہے کہ یمن کے تنازع میں پاکستان کا کردار زمینی کارروائی کے بجائے فضائی معاونت تک محدود رہنے کی توقع ہے۔دوسری جانب پاکستان کی وفاقی وزارتِ اطلاعات نے عالمی میڈیا کو مسلح افواج سے متعلق کسی بھی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہوئی تو متعلقہ حکام خود میڈیا کو آگاہ کریں گے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان دھماکوں کی وجہ کیا تھی۔ اس سے ایک روز قبل سعودی حکام نے تصدیق کی تھی کہ حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے دو ایئرپورٹس پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں دو خواتین ہلاک اور 28 افراد زخمی ہوئے، جبکہ کنگ خالد ایئرپورٹ پر ایک سوڈانی شہری ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ حوثی ملیشیا کے ترجمان یحییٰ سریع نے ان دونوں ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف سرگرم یمنی فوجی اتحاد نے بدھ کے روز ایک بیان میں سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کے جواب میں حوثیوں کے درجنوں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی حمایت یافتہ فوجی اتحاد کے مطابق حوثیوں پر حملوں میں ان کے میزائلوں کے ذخائر سمیت دیگر اہم تنصیبات اور کمانڈ سینٹرز کو تباہ کیا گیا ہے۔ یمن کے شمال میں واقع بیشتر علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا پر اس وقت حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔ حوثیوں نے جولائی میں شروع ہونے والے تازہ تنازعے کے دوران گزشتہ ماہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول بحیرہ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔ رواں ہفتے یمنی حکومت نے ’آپریشن فجر الیمن‘ کے نام سے حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ جس کا باقاعدہ اعلان 5 اکتوبر کو یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کیا۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینا، ملک کے اہم ترین بحری راستوں اور دارالحکومت صنعاء پر کنٹرول بحال کرنا ہے۔ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی اس لڑائی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی یمن کی موجودہ صورتِ حال کو انتہائی خطرناک اور تشویش ناک قرار دیا ہے۔ یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حامی افواج اور حوثی گروہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے یمن کی موجودہ صورتِ حال کو انتہائی خطرناک اور تشویش ناک قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے میں جھڑپوں میں شدت کے باعث یمن کے مختلف صوبوں میں ہونے والی نقل مکانی میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ستمبر کے وسط تک بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 76 ہزار تھی جو کچھ ہی روز میں 2 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت ستمبر میں شروع ہونے صورتِ حال کے بعد گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہوئے ہیں۔ آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ کا کہنا ہے کہ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے لیے کوئی مناسب جگہ یا محفوظ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے متاثرین کے لیے خوراک اور پناہ گاہوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر عالمی برادری سے ہنگامی فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں میں یمن کی 10 مختلف گورنریٹس (صوبوں) کے شہری شامل ہیں، جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا گورنریٹ ’تعز‘ ہے۔ اس کے علاوہ 3 ہزار 700 سے زائد یمنی شہری سمندری راستے سے نقل مکانی کر کے افریقی ملک جبوتی پہنچ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب و اسکی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑی حد تک تھم گئی تھی جو اب ایک بار پھر خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ یمن کے شمال میں واقع بیشتر علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا پر اس وقت حوثی گروپ کا کنٹرول ہے۔ حوثیوں نے گزشتہ ماہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول بحیرہ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ یمنی حکومت نے ’آپریشن فجر الیمن‘ کے نام سے حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ جس کا باقاعدہ اعلان 5 اکتوبر کو یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کیا۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینا ہے۔مکہ دفاعی اتحاد نے 7 اگست 2026 کو اپنے قیام کے بعد سے اب تک عسکری حکمت عملی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی تیز رفتاری سے پیش رفت کی ہے۔ 5 اکتوبر 2026 کو ریاض میں ہونے والے اسٹریٹجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (SPDC) کے ہنگامی اجلاس کے بعد اس اتحاد کی عسکری حکمت عملی کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:
1۔ بتدریج دفاعی ردِعمل (Calibrated Defensive Response)
پاکستانی اور ترک عسکری حکام کے مطابق، مکہ اتحاد کی حکمت عملی فی الحال خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہے۔
* یمن میں کارروائیوں سے گریز: ترکیہ اور پاکستان کے عسکری دستے یمن کے اندر حوثی باغیوں کے خلاف کسی جارحانہ یا جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
* ہدف اور ترجیح: عسکری حکمت عملی کا بنیادی ہدف صرف سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کا دفاع کرنا ہے۔
2۔ فوری عسکری تعیناتی اور جنگی تیاری
(Rapid Deployment) ہنگامی اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے “اجتماعی دفاعی وعدوں” پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے:
* پہلے سے طے شدہ متفقہ فوجی دستوں اور عسکری صلاحیتوں کو سعودی عرب میں درپیش خطرات کے مطابق تیزی سے تعینات (Rapid Deployment) کیا جائے گا۔
* اس عسکری قوت کی فراہمی تینوں ممالک کے قوانین اور قومی قانون سازی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کی جائے گی
25 ستمبر 2026 کو ریاض میں تینوں ممالک کے عسکری سربراہان (بشمول فیلڈ مارشل عاصم منیر) کے اجلاس میں طے پانے والی حکمت عملی کے مطابق:
* انٹیلی جنس کا مؤثر تبادلہ: خطے کے خطرات اور میزائل/ڈرون حملوں کے بارے میں فوری اور لائیو انٹیلی جنس شیئرنگ کے لیے قانونی فریم ورک اور روابط کو مضبوط بنانا۔
* دفاعی صلاحیتوں کا انضمام (Military Integration): تینوں ممالک کی افواج کی جنگی تیاری اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کی اجتماعی استعداد کو بڑھانا۔
* تکنیکی اور لاجسٹک سپورٹ: ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو جدید ہتھیاروں کے نظام، فضائی دفاع (Air Defence)، اور تکنیکی مہارت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ حوثی میزائلوں اور ڈرونز کا مؤثر مقابلہ کر سکے۔ مکہ الائنس نے سیاسی بیانات سے نکل کر عملی عسکری شکل اختیار کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
* مستقل سیکریٹریٹ کا قیام: ریاض، سعودی عرب میں اتحاد کا باقاعدہ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔
* پہلا سیکریٹری جنرل: پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کو تین سال کے لیے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کر کے آپریشنل اختیارات ان کے سپرد کیے گئے ہیں۔
* مشترکہ عسکری ہیڈکوارٹر: اتحاد کے تحت ایک مشترکہ عسکری اور آپریشنل ہیڈکوارٹر فعال ہونے کے آخری مراحل میں ہے، جہاں جلد ہی تینوں ممالک کے فوجی عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، مکہ اتحاد نے قلیل عرصے میں بہت سا تنظیمی سفر طے کر لیا ہے، تاہم مکمل عسکری حقیقت بننے کے لیے اب بھی چند چیزیں پائپ لائن میں ہیں:
* ابھی تک اس اتحاد کے پاس کوئی “مستقل کھڑی عسکری فورس” موجود نہیں ہے۔
* ایک مشترکہ فوجی کمانڈر ، عوامی سطح پر واضح کردہ رولز آف اِنگیجمنٹ اور تحریری ملٹری ڈاکٹرائن کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔ مکہ دفاعی اتحاد کی اس عسکری حکمت عملی کا مقصد خطے میں ایک مضبوط “اجتماعی سدِ جارحیت” قائم کرنا ہے تاکہ دشمن عناصر سعودی عرب پر کسی بڑے حملے سے قبل اس سہ فریقی طاقت کا ادراک کر سکیں۔جنرل احمد شریف چوہدری نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کو خطے کے استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ برسوں میں نئے سیکیورٹی چیلنجز نے جنم لیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ناکام بنانے کی مشترکہ دفاعی قوت کا کام کرے گا، کسی بھی ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہو گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی عناصر مذموم مقاصد کو عملی جامع پہنانے سے پہلے کئی بار سوچیں گے، اس کا مقصد کسی کو دشمن یا دوست قرار دینا نہیں، ایک مقصد سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور دفاع کیا جائے گا۔ ایران امریکا جنگ کے خاتمے اور معاہدے کی کوششیں کر رہے ہیں، آئندہ بھی کرتے رہیں گے، چاہتے ہیں کہ اختلافات کم ہوں، مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل نکلے، تنازع مزید نہ پھیلے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے غیر جانبداری سے امریکا اور ایران جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا، ہمارا مفاد علاقائی امن اور استحکام میں ہے، جنگ کو مزید پھیلانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ حکومت پاکستان نے واضح کہا کہ سعودی عرب میں اس کے فوجی اہلکاروں کی خاطر خواہ تعداد تعینات ہے، جو دفاعی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے,

