اسلام آباد (اردو ٹائمز) واشنگٹن کے میوزیم تک پہنچنے والی ایک بھولی ہوئی آواز
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) کبھی کبھی تاریخ کے کسی بھولے ہوئے صفحے پر اچانک روشنی پڑتی ہے اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جسے ہم معمولی سمجھ کر گزر گئے تھے، وہ دراصل ہماری تہذیبی شناخت کا ایک اہم حصہ تھا۔ پنجابی زبور کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
پنجاب پاکستان کا اہم تاریخی ، ثقافتی اور زرعی خطہ ہے۔ اس خطے نے برصغیر کی تاریخ ، سیاست ، ادب ، موسیقی اور تحریک آزادی میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔
لیکن پنجاب کی بدقسمتی رہی کہ اسے تقسیم در تقسیم کیا جاتا رہا اور ایک بار پھر دشمن اس پر گندی نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں پنجابی زبان کو اس کے اپنے گھروں میں وہ وقار نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق تھی۔ بہت سے پنجابی خاندانوں میں بچوں کو اردو بولنے کی ترغیب اس لئے دی جاتی تھی کہ اردو کو تعلیم ، شائستگی اور سماجی ترقی کے زیادہ قریب سمجھا جاتا تھا۔ یوں رفتہ رفتہ پنجابی مادری زبان کے بارے میں ایک احساس کمتری پیدا ہوا۔
بچپن سے لڑکپن تک ہم میں سے بہت سوں نے یہ کیفیت محسوس کی ہوگی۔ لیکن جیسے جیسے تہذیب و تمدن ، تاریخ اور ادب سے شناسائی ہوئی پنجابی بولنے اور پنجابی ہونے پر فخر کا احساس بڑھتا گیا۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں دوسری زبانیں سیکھنے یا بولنے کا مخالف ہوں بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دنیا میں کثرت سے بولی جانے والی زبانوں پر عبور حاصل ہو لیکن اپنی مادری زبان پر فخر کرنے کا حامی ہوں۔
کئی دنوں کے بعد جناب شہزاد انجم صاحب سے بات ہوئی۔ شہزاد انجم سے متعلق الگ سے لکھنے کا قرض واجب ہے کوشش ہوگی کہ یہ قرض جلد اتار دوں۔ بات چیت کے دوران انہوں نے واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی جو رواں ماہ (اکتوبر) کے آخر میں ہوگی۔ میں نے تقریب میں شریک ہونے کی حامی بھر لی لیکن جب میں نے دعوت نامہ دیکھا تو اندر کا پنجابی جاگ گیا۔ قصہ یوں ہے کہ
واشنگٹن ڈی سی میں واقع Museum of the Bible نے 31 اکتوبر 2026 کو پنجابی زبور کے بارے میں ایک خصوصی پروگرام اور نمائش کا اہتمام کیا ہے۔ پروگرام کا عنوان ہے: Sing a New Song: Revealing the Untold Heritage of the Punjabi Psalter۔ دعوت نامے کے مطابق ڈاکٹر یوسف صدیق پنجابی زبور کی تاریخ، مذہبی اور ثقافتی اہمیت پر گفتگو کریں گے، پنجابی زبور کی گائیکی پیش کی جائے گی اور نایاب تاریخی مواد اور نوادرات بھی دکھائے جائیں گے۔ میں ڈاکٹر یوسف صدیق کو ذاتی طور نہیں جانتا بلکہ میری کم علمی کہہ لیں کہ موصوف کا نام پہلی بار سنا ہے۔ فی الحال یہ وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ پنجابی زبور کو Museum of the Bible کی مستقل نمائش یا مستقل کلیکشن کا حصہ قرار دیا گیا یا نہیں کیونکہ میوزیم کا موجودہ اعلان اسے ایک خصوصی پروگرام اور artifact exploration کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یعنی اس خبر کی اصل اہمیت یہ نہیں کہ ’’پنجابی زبور میوزیم کا مستقل حصہ بن گیا‘‘ بلکہ یہ ہے کہ پنجابی زبان اور پنجابی مسیحی روایت کا ایک نسبتاً کم معروف باب اب ایک بڑے عالمی ثقافتی ادارے میں زیرِ بحث آ رہا ہے اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ پنجابی زبور کوئی محض لفظی ترجمہ نہیں تھا۔ تحقیق کے مطابق انیسویں صدی کے اواخر میں زبور کو پنجابی زبان میں شاعرانہ یا منظوم انداز میں ڈھالا گیا اور اسے مقامی پنجابی دھنوں اور موسیقی کی روایت سے جوڑا گیا۔ اس کام میں مقامی زبان، شاعری اور موسیقی کو بنیادی اہمیت دی گئی۔
یہاں سوال یہ ہے کہ مذہبی متن کا کسی مقامی زبان میں ترجمہ صرف مذہبی ضرورت ہوتی ہے یا اس کے نتیجے میں زبان کے ادبی ذخیرے میں بھی اضافہ ہوتا ہے؟
میرا ماننا ہے کہ پنجابی زبور اس سوال کا ایک دلچسپ جواب فراہم کرتا ہے۔
اس منصوبے میں پنجابی شاعر اور مقامی ادبی روایت کو شامل کیا گیا۔ امام الدین شہباز نے تمام 150 زبوروں کو پنجابی میں منظوم انداز میں پیش کیا، جبکہ موسیقی کی تشکیل کے لیے مقامی دھنوں اور روایتی موسیقی سے استفادہ کیا گیا۔ Presbyterian Historical Society کے مطابق اس کام میں مقامی پنجابی موسیقی اور شاعری کو سمجھنے اور استعمال کرنے پر خاص توجہ دی۔
یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ نوآبادیاتی دور کے بہت سے مذہبی منصوبوں میں مقامی ثقافت کو مغربی سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ پنجابی زبور کی کہانی میں، کم از کم اس مخصوص منصوبے کے بارے میں دستیاب تحقیق یہ بتاتی ہے کہ مقامی دھنوں، زبان اور شاعری کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
اس داستان میں امام الدین شہباز کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ وہ مقامی شاعر اور مبلغ تھے اور پنجابی زبور کو شاعرانہ صورت دینے میں ان کا بنیادی کردار تھا۔ تحقیق کے مطابق انہوں نے 150 کے 150 زبوروں کو پنجابی نظم کی شکل دی۔ برطانوی لائبریری کے آرکائیوز میں ان کی بعض اصل نظموں سے متعلق مواد بھی دریافت ہوا ہے۔
یہاں ہمارے لیے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری ادبی تاریخ میں ایسے کتنے نام ہیں جو صرف اس لیے حاشیے پر چلے گئے کہ ان کا تعلق کسی مخصوص مذہبی روایت سے تھا۔
پنجابی ادب کو اگر واقعی وسیع معنوں میں دیکھا جائے تو اس میں صرف وہی آوازیں شامل نہیں ہونی چاہئیں جو ہماری پہلے سے بنائی ہوئی فہرستوں میں موجود ہیں۔ پنجابی میں لکھی گئی ہر اہم ادبی کاوش، خواہ اس کا تعلق صوفی روایت سے ہو، سکھ ، ہندو یا مسیحی روایت سے ہو وہ زبان کی مجموعی تاریخ کا حصہ ہے۔
ایم ڈی شہباز کی کاوش کے بعد زبور چرچ سے نکل کر خاندانوں تک پہنچا۔ پنجابی زبور کی سب سے خوبصورت بات شاید اس کی کتابی زندگی نہیں بلکہ اس کی زبانی زندگی ہے۔
Presbyterian Historical Society میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ زبور صرف کسی کتاب کی صورت میں الماریوں میں بند نہیں رہا بلکہ نسل در نسل گایا جاتا رہا۔ مختلف مواقع کے لیے مختلف زبور استعمال ہوتے رہے۔
ایک بچہ اپنے والدین سے زبور سنتا ہے، والدین نے اپنے والدین سے سنا ہوتا ہے، اور یوں ایک مذہبی متن ایک نسل سے دوسری نسل تک زبانی ثقافتی ورثے کی صورت میں منتقل ہوتا رہتا ہےشاید اسی لیے پنجابی زبور کو صرف ’’مذہبی کتاب‘‘ کہنا اس کی پوری معنویت بیان نہیں کرتا۔یہ ایک زبان، ایک موسیقی، ایک شاعرانہ روایت اور ایک کمیونٹی کی اجتماعی یادداشت بھی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا زبور صرف مسیحیوں کا ورثہ ہے؟
پنجابی زبور یقیناً پنجابی مسیحی برادری کے لیے مذہبی اور روحانی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن کیا اس کی وجہ سے یہ پنجابی زبان کے دوسرے بولنے والوں کے لیے غیر متعلق ہو جاتا ہے؟
میرے خیال میں جواب نفی میں ہونا چاہیے۔
جس طرح فارسی میں لکھی گئی کسی صوفیانہ کتاب کو صرف ایک مذہبی طبقے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح پنجابی میں لکھی گئی مسیحی شاعری کو بھی پنجابی زبان کی مجموعی ادبی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
کیونکہ زبان مذہب کی ملکیت نہیں ہوتی۔ زبان اپنے اندر ان تمام لوگوں کی آوازیں محفوظ کرتی ہے جنہوں نے اسے بولا، لکھا، گایا اور اگلی نسل تک منتقل کیا۔
پنجابی زبور اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
واشنگٹن کا میوزیم اور پنجاب کا بھولا ہوا ورثہ
یہ بھی ایک دلچسپ تاریخی منظر ہے کہ جس روایت کی جڑیں انیسویں صدی کے پنجاب میں ہیں، اس پر آج واشنگٹن ڈی سی میں گفتگو ہو رہی ہے۔ معلومات کے مطابق
Museum of the Bible کے پروگرام میں نہ صرف علمی گفتگو ہوگی بلکہ پنجابی زبور کی لائیو گائیکی بھی پیش کی جائے گی۔ اس طرح ایک ایسا متن جو کبھی پنجاب کی مقامی زبان، شاعری اور دھنوں کے ذریعے مذہبی زندگی کا حصہ بنا تھا، اب ایک عالمی سامعین کے سامنے دوبارہ آواز حاصل کرے گا۔ یہ محض ماضی کی نمائش نہیں۔یہ اس سوال کی طرف واپسی بھی ہے کہ ہم اپنی زبان کے ماضی کو کس حد تک جانتے ہیں۔
ہم پنجابی ادب کی بات کرتے ہیں تو چند بڑے نام فوراً ذہن میں آتے ہیں۔ لیکن پنجابی زبان کی اصل وسعت ان ناموں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں وہ تحریریں بھی شامل ہیں جو ہمارے نصابوں میں نہیں، وہ شاعر بھی شامل ہیں جنہیں ہماری ادبی تاریخ نے زیادہ جگہ نہیں دی، اور وہ مذہبی و ثقافتی متون بھی شامل ہیں جنہیں ہم نے شاید کبھی ’’پنجابی ادب‘‘ سمجھ کر پڑھا ہی نہیں۔
پنجابی زبور کی اس دوبارہ دریافت سے ایک عملی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا پاکستان اور بھارت کے پنجابی اداروں، جامعات، لائبریریوں اور آرکائیوز کو اس ورثے پر مزید کام نہیں کرنا چاہیے؟
کیا انیسویں اور بیسویں صدی کے پنجابی مسیحی متون کو باقاعدہ جمع، محفوظ اور ڈیجیٹل نہیں کیا جانا چاہیے؟
کیا امام الدین شہباز جیسے ادیبوں پر تحقیقی کام نہیں ہونا چاہیے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا پنجابی ادب کی تاریخ کو مذہبی خانوں سے باہر نکل کر دوبارہ نہیں لکھا جانا چاہیے؟
یہ کام صرف مسیحی برادری کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پنجابی زبان سے محبت کرنے والے ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ جب کوئی زبان اپنے مختلف مذہبی، سماجی اور ثقافتی تجربات کو محفوظ کرتی ہے تو وہ صرف زبان نہیں رہتی، ایک تہذیبی حافظہ بن جاتی ہے۔
آخر میں پنجابی زبور کی کہانی ہمیں شاید ایک سادہ مگر بہت اہم سبق دیتی ہے کہ ورثہ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو ہمیں پہلے سے معلوم ہو۔ کبھی کبھی ورثہ وہ ہوتا ہے جسے ہم نے دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہو۔
واشنگٹن میں ہونے والی یہ خصوصی نمائش پنجابی زبور کو شاید مستقل طور پر کسی میوزیم کی دیوار پر نہیں لے جا رہی، مگر یہ ایک بھولی ہوئی آواز کو دوبارہ سننے کا موقع ضرور دے رہی ہے۔ اور شاید اصل کامیابی یہی ہوگی کہ یہ آواز واشنگٹن سے واپس پنجاب تک پہنچے۔
کہیں کسی آرکائیو میں پڑی ہوئی ایک پرانی کتاب سے،
کسی بزرگ کی یاد میں محفوظ ایک دھن سے، کسی خاندان کے پاس موجود ایک پرانے نسخے سے،
یا کسی نوجوان کے سوال سے ’’پنجابی زبور کیا ہے، اور ہم نے اس کے بارے میں پہلے کیوں نہیں سنا؟‘‘
اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہی شاید ہماری اپنی ادبی تاریخ کو دوبارہ دریافت کرنے کا آغاز ہو۔

