کراچی (اردو ٹائمز): پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے ایک اور اہم مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ اب اصل سوال محض یہ نہیں رہا کہ اسلام آباد موجودہ جائزہ کامیابی سے مکمل کرپائے گا یا نہیں، بلکہ اس سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مشکل فیصلوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو استعمال کرتے ہوئے بالآخر آئی ایم ایف پر انحصار سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے؟
ادائیگیوں کے توازن کے بار بار پیدا ہونے والے بحران، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، روپے پر دباؤ اور عالمی مالیاتی اداروں سے مسلسل رجوع کرنے کے بعد پاکستان نے ایک مرتبہ پھر مشکل مالیاتی، زری اور ساختی اقدامات کے ذریعے کسی حد تک میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے۔
تاہم معاشی اور کاروباری حلقوں میں یہ احساس مضبوط ہورہا ہے کہ اصل چیلنج استحکام کے حصول کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کو اس عارضی مالیاتی مہلت کو پائیدار معاشی ترقی، زیادہ برآمدات، مضبوط سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع میں تبدیل کرنا ہوگا۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے اور عالمی قرض دہندگان و ترقیاتی شراکت داروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یکے بعد دیگرے آئی ایم ایف پروگراموں نے پاکستان کی ایک بنیادی ساختی کمزوری بھی نمایاں کردی ہے کہ ملک اپنی معیشت کی پائیدار زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ درآمدات اور اخراجات کرتا رہا ہے۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے ملک کے معاشی ماڈل میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔
برآمدات معاشی خودمختاری کی کنجی
آئی ایم ایف اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار کم کرنے کی پاکستان کی صلاحیت بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوگی کہ ملک اپنی برآمدات کو کتنی تیزی سے بڑھاتا اور متنوع بناتا ہے۔
ٹیکسٹائل بدستور پاکستان کی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اب انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ مصنوعات، ادویات، معدنیات، زرعی ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور دیگر برآمدی صنعتوں کو تیزی سے آگے لانا ہوگا۔
صنعتی شعبہ اس وقت توانائی کی بلند قیمتوں، ٹیکسوں کے بوجھ، مہنگی فنانسنگ اور پالیسی و ضابطہ جاتی غیر یقینی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔
کاروباری حلقے مسلسل اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ میکرو اکنامک استحکام اس وقت تک محدود اہمیت رکھے گا جب تک کارخانے اپنی پیداوار میں اضافہ، کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری اور معیشت روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں کرتی۔
حکومت کے لیے اصل چیلنج مالیاتی اور زری نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں نجی شعبہ معاشی ترقی کا حقیقی انجن بن سکے۔
تجارتی خسارہ بدستور خطرے کی گھنٹی
پاکستان کا بار بار بڑھنے والا تجارتی خسارہ طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔
ماضی میں جب بھی ملکی معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی، درآمدات میں برآمدات کے مقابلے میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا۔ نتیجتاً زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا، روپے کی قدر متاثر ہوئی اور ملک کو دوبارہ بیرونی مالی معاونت کی ضرورت پڑی۔
اگر پاکستان اپنی برآمدات، ترسیلاتِ زر اور دیگر پائیدار ذرائع سے زرمبادلہ کی آمدنی میں نمایاں اضافہ نہیں کرتا تو معیشت دوبارہ اسی پرانے چکر میں پھنس سکتی ہے — وقتی بحالی، بیرونی کھاتوں پر دباؤ، کفایت شعاری اور پھر ایک نئے بیل آؤٹ کی ضرورت۔
لہٰذا آئندہ معاشی ترقی کو درآمدات اور کھپت کے بجائے برآمدات اور سرمایہ کاری پر مبنی بنانا ہوگا۔
نجی شعبے کو بحالی کی قیادت کرنا ہوگی
آئی ایم ایف پر انحصار سے پائیدار انداز میں نکلنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔
نجی شعبے کو قابلِ پیش گوئی معاشی پالیسیاں، مسابقتی توانائی نرخ، مناسب لاگت پر فنانسنگ اور مستحکم ٹیکس نظام درکار ہے۔
خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے روزگار پیدا کرنے اور ملک کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے عالمی مسابقت میں کامیابی حاصل کرنا ہے تو کاروبار کرنے میں حائل غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹیں بھی دور کرنا ہوں گی۔
سرمایہ کار پالیسیوں میں تسلسل چاہتے ہیں۔ ٹیکس، قواعد و ضوابط اور معاشی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی طویل مدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔
ٹیکس اور توانائی اصلاحات ناگزیر
پاکستان کا محدود ٹیکس نیٹ بدستور ایک بنیادی ساختی مسئلہ ہے۔
تنخواہ دار طبقے، رجسٹرڈ کمپنیوں اور پہلے ہی دستاویزی معیشت میں شامل کاروباری اداروں پر بار بار اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے کم ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں اور معاشی سرگرمیوں کو منصفانہ انداز میں ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہوگا۔
وسیع اور منصفانہ ٹیکس نیٹ پیداواری شعبوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالے بغیر حکومتی محصولات میں اضافہ کرسکتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ گردشی قرضہ، بجلی کی چوری، ترسیل و تقسیم کے نقصانات اور بجلی کے شعبے کی انتظامی خامیاں معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔
ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر محض بجلی کے نرخوں میں اضافہ پاکستانی صنعت کی عالمی مسابقت کو مزید متاثر کرسکتا ہے۔
استحکام سے ترقی کی جانب
میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری نے حکومت اور پالیسی سازوں کو ایک اہم موقع فراہم کیا ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان ماضی میں بھی اس مقام تک پہنچ چکا ہے۔ معاشی استحکام کے ادوار کے بعد بنیادی ساختی مسائل حل نہ ہونے کے باعث بیرونی مالیاتی مشکلات دوبارہ سر اٹھاتی رہی ہیں۔
موجودہ موقع کو خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، ٹیکس نیٹ کی توسیع، توانائی اصلاحات، برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔
عام پاکستانی کے لیے معاشی بحالی کا اصل پیمانہ زرمبادلہ کے ذخائر، مالیاتی تناسب یا عالمی مالیاتی اداروں کی مثبت رپورٹس نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ مہنگائی میں کتنی کمی آئی، آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا اور معیشت نے کتنے نئے روزگار پیدا کیے۔
پاکستان کی نوجوان اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو ہر سال لاکھوں نئے اور باعزت روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ مضبوط سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کے بغیر محض میکرو اکنامک استحکام اس بڑے چیلنج کا حل نہیں بن سکتا۔
آئی ایم ایف مالی بحران کے دوران پاکستان کو مالی معاونت، پالیسی نظم و ضبط اور ضروری مہلت فراہم کرسکتا ہے، لیکن کوئی بھی آئی ایم ایف پروگرام برآمدات، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور داخلی معاشی اصلاحات کا مستقل متبادل نہیں ہوسکتا۔
لہٰذا پاکستان کا حتمی ہدف واضح ہونا چاہیے: صرف ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کامیابی سے مکمل کرنا نہیں، بلکہ ایسی مضبوط معیشت تعمیر کرنا جو اگلے آئی ایم ایف پروگرام کی محتاج ہی نہ ہو۔
آئی ایم ایف پر انحصار سے آزاد پاکستان راتوں رات وجود میں نہیں آسکتا، لیکن مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات پر مبنی ترقی، مسابقتی صنعت، وسیع ٹیکس نیٹ اور پالیسیوں میں تسلسل کے ذریعے یہ خواب ناقابلِ حصول بھی نہیں۔
پاکستان کو قرض سے معاشی خودانحصاری کی جانب سفر اب شروع کرنا ہوگا۔