نیویارک – 22 ستمبر 2026 (اردو ٹائمز): چلی نے مملکتِ مراکش کی اپنی پوری سرزمین، بشمول صحارا کے علاقے، پر خودمختاری کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مراکش کی جانب سے 2007 میں پیش کردہ خودمختاری کے منصوبے کو ایک منصفانہ، پائیدار اور باہمی طور پر قابلِ قبول سیاسی حل قرار دیا ہے۔
یہ مؤقف پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مراکش کے وزیر خارجہ، افریقی تعاون اور مراکشی تارکینِ وطن ناصر بوریطہ اور ان کے چلی کے ہم منصب فرانسسکو پیریز میکنّا کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں سامنے آیا۔ ملاقات میں چلی کے صدر خوسے انتونیو کاسٹ بھی شریک تھے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق، چلی نے اپنی حمایت کو عملی دوطرفہ اقدامات میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مراکشی صحارا کے علاقے میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے مواقع کو فروغ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، تاکہ سرمایہ کاری، تجارت اور پیداواری ترقی کو تقویت دی جا سکے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ چلی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2797/2025 کا خیرمقدم اور اس کی حمایت کی ہے، جبکہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بغیر پیشگی شرائط کے مذاکرات میں شامل ہوں اور مراکش کے خودمختاری منصوبے کی بنیاد پر تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول حتمی سیاسی حل تلاش کریں۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی غرض سے شرائطِ کار پر بھی دستخط کیے۔