اسلام آباد اسلام آباد میں دو روزہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی علامت ہے
بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس اسلام آباد میں دنیا کے 40 سے زائد ممالک کے سپیکرز، ڈپٹی سپیکرز اور پارلیمانی وفود شرکت کر رہے ہیں یہ اہم سفارتی اجتماع عالمی امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی علامت قرار دیا جا رہا ہےافتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا
بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کے سیکرٹری جنرل مارٹن چونگونگ نے جنیوا سے اپنے وڈیو پیغام میں کانفرنس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ امن، سلامتی اور ترقی آپس میں مربوط ہیں، اور ہمیں عالمی خوشحالی اور انصاف کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔آئی ایس سی کی سفیر مصباح کھر نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر سے پارلیمانی رہنماؤں کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ اختلاف کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہ کانفرنس اتحاد و ہم آہنگی کی علامت ہے اور چیئرمین سینیٹ کے اس وژن کا مظہر ہے جنہوں نے 40 سے زائد پارلیمانی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ جب امن نہیں ہوتا تو ترقی بھی رک جاتی ہے۔آئی ایس سی کے سیکرٹری جنرل ای۔ کے۔ ناتھ دھاکل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام آباد میں معزز مہمانوں کی میزبانی ہمارے لیے اعزاز ہےآئی ایس سی ایک کثیرالجہتی بین الحکومتی ادارے کے طور پر عالمی مسائل مثلاً ماحولیاتی چیلنجز اور امن کے لیے تعاون کو فروغ دیتا ہے۔انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ امن، سلامتی اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔چیئرمین سینیٹ و بانی چیئرمین انٹرپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پارلیمان دنیا میں امن و ترقی کے محض ناظر نہیں بلکہ اعتماد کے معمار، اتفاقِ رائے کے فروغ دہندہ اور عوام کی آواز ہیں، پاکستان عالمی سطح پر امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان کا یہ عزم محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ اس کا عملی ثبوت پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا کردار اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں اہم شرکت ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت نہ صرف پارلیمان کے ادارے کے احترام کی علامت ہے بلکہ یہ پاکستان کے اس عزم کی بھی واضح عکاسی ہے جو مکالمے، تعاون اور کثیرالجہتی روابط کے فروغ سے متعلق ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آج دنیا کے شمالی اور جنوبی حصوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی رہنما ایک چھت تلے جمع ہیں، جو ایک نئے عہد کی پارلیمانی یکجہتی کی بنیاد ہے،یہ تاریخی اجتماع دنیا بھر کے پارلیمانی رہنماؤں کی یکجہتی، عزم اور تعاون کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا عنوان امن، سلامتی اور ترقی سرحدوں اور نظریات سے بالاتر ایک ایسا پیغام ہے جو پوری انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ موجودہ دور غیر یقینی، تنازعات، ماحولیاتی تبدیلیوں، معاشی جھٹکوں اور تیز رفتار تکنیکی تغیرات سے عبارت ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ امن ہمارے سامنے بکھرتا جا رہا ہے جیسا کہ ہم نے غزہ، سوڈان اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی شکل میں دیکھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے وقت میں پارلیمان کو رہنمائی کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پارلیمان کو دنیا کے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے نظام کو جوڑنے والی روشنی بننا چاہیے۔ہمیں سوچنا، عہد کرنا اور اکٹھے عمل کرنا ہوگا۔ مکالمہ ہمارا پل اور تعاون ہمارا راستہ ہونا چاہیے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ امن، سلامتی اور ترقی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔امن اور سلامتی کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور ترقی کے بغیر امن پائیدار نہیں رہ سکتا۔ آج سلامتی کا مفہوم صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ ماحولیاتی استحکام، خوراک و پانی کی سلامتی، ڈیجیٹل تحفظ اور معاشی خودکفالت جیسے عناصر کو بھی شامل کرتا ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان، جو عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات سے دوچار ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اب کوئی دور کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ، غیر منصفانہ حقیقت بن چکی ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دہائیوں پر محیط پارلیمانی تجربے نے انہیں یہ یقین دلایا ہے کہ پائیدار ترقی تنہائی میں حاصل نہیں کی جا سکتی۔ترقی ایک باہمی و مربوط عمل ہے۔ یہی احساس اس عالمی کانفرنس کے انعقاد کی اصل تحریک بنا۔ شمالی و جنوبی دنیا کے درمیان بین البرِاعظم پارلیمانی اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مشترکہ مفادات اور ترقی کے اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آیئے ہم وعدوں سے آگے بڑھیں، حل تلاش کریں جو جرات مندانہ، عملی اور اجتماعی دانشمندی پر مبنی ہو۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمان دنیا میں امن و ترقی کے محض ناظر نہیں بلکہ اعتماد کے معمار، اتفاقِ رائے کے فروغ دہندہ اور عوام کی آواز ہیں۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ قیادت دراصل اپنے یقین کی طاقت، مشکلات کے مقابلے میں استقامت اور ایک نظریے کو فروغ دینے کی توانائی کا نام ہے۔ جو لوگ امن حاصل کرتے ہیں، وہ تعصب، عدم برداشت اور جمود کے سامنے کبھی ہار نہیں مانتے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آیئے اس اجتماع کو یادگار بنائیں، ایک ایسے عزم کے طور پر جو دنیا میں امید، اتحاد اور قیادت کا نیا باب رقم کرے۔چیئرمین سینیٹ نے تمام مندوبین کے لیے اسلام آباد میں خوشگوار قیام اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد کی نیک خواہشات کا اظہار کریں ۔
بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کی سفیر مصباح کھر نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دنیا بھر کے قانون سازوں کے اس معزز اجتماع کی میزبانی میرے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے۔ اسلام آباد میں سینیٹ آف پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ افتتاحی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شریک ممتاز پارلیمانی وفود کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ تنازع نہیں بلکہ تعمیری مکالمہ ہی امن کی راہ متعین کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف براعظموں سے آئے اسپیکرز اور وفود کی موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ دنیا مشترکہ طور پر مکالمے، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے کے عزم پر متحد ہے۔
آئی ایس سی کی سفیرمصباح کھر نے بتایا کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا تصور رواں سال چیئرمین سینیٹ معزز سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں اُس وقت پیش کیا گیا جب دنیا بھر کے 45 سے زائد پارلیمانوں کے اسپیکرز نے مل کر اس کے قیام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ یقین تھا کہ پارلیمان، جو عوام کی اصل آواز ہیں، ایک محفوظ اور خوشحال دنیا کی تشکیل میں رہنمائی کا کردار ادا کریں۔انہوں نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت اور سفارتی بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بطور سابق وزیرِ اعظم اور سپیکر، اُن کا تجربہ انہیں اس حقیقت کا گہرا ادراک دیتا ہے کہ جمہوریت اور سفارت کاری ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں۔ ان کے وژن کی بدولت آئی ایس سی ایک خیال سے حقیقت میں ڈھل چکا ہے، اقوام اور عوام کو مکالمے اور اعتماد کے ذریعے جوڑنے والا پل کا کردار ادا کر رہا ہے ۔
مصباح کھر نے کانفرنس کے موضوع ’’امن، سلامتی اور ترقی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں الگ الگ نہیں بلکہ باہمی انحصار رکھنے والے ستون ہیں جو عالمی استحکام کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس سی کے رہنما اصول ، باہمی انحصار، مشترکہ خوشحالی، اور مشترکہ اقدارقابلِ عمل عہد ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمان ایک منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔آئی ایس سی کی سفیر نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند، باہمی مکالمے پر یقین رکھنے والا اور آگے بڑھنے والا ملک ہے جو شمولیت، تعاون اور تہذیبوں کے درمیان پل تعمیر کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔مصباح کھر نے کہا کہ ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ ایک ایسا عملی لائحۂ عمل فراہم کرے گا جو انصاف، شفاف حکمرانی اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے پارلیمانی تعاون کو تقویت دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’عالمی چیلنجز خواہ وہ تنازعات ہوں، معاشی عدم استحکام، ماحولیاتی تبدیلی یا عدم مساوات یقینا بڑے ہیں، لیکن یہ شراکت داری اور اجتماعی استقامت کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا اپنا تجربہ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں، قدرتی آفات کے مقابلے میں حوصلہ، اور جامع ترقی کے حصول کی جدوجہد ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتی اور ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہیں۔
آئی ایس سی کی سفیرمصباح کھر نے کہا کہ یہ کانفرنس صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک مشترکہ سفر کا آغاز ہے ، ایک زیادہ منصفانہ، محفوظ اور پائیدار دنیا کی جانب گامزن ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ مشاورت ’عالمی پارلیمانی سفارت کاری کو مضبوط بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی‘ اور شرکاء سے اپیل کی کہ وہ آئی ایس سی کو ’’براعظموں کے درمیان ایک ایسا دیرپا پل بنائیں جو مکالمے، انصاف اور باہمی ترقی پر استوار ہو۔ آئی ایس سی کی سفیر نے کہاکہ آئیں ہم سب مل کر یہ عزم کریں کہ یہاں سے شروع ہونے والا کام ایک ایسی دنیا کی سمت روشنی بنے، جو خوف یا تقسیم سے نہیں بلکہ امید، یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری سے متعین ہو۔