اسلام آباد (اردو ٹائمز) کسی بھی اسکول کو صرف کنفارمنگ یوز کی بنیاد پر بے دخل نہیں کیا جائے۔۔ جسٹس محمد ارباب طاہر
رِٹ پٹیشن (نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز نیپس ورسز سی ڈی اے)نمبر 3106/2018، معزز جسٹس ارباب محمد طاہر صاحب کے روبرو اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقرر تھی۔
معزز عدالت نے ہماری رِٹ پٹیشن کو ڈسپوز آف کرتے ہوئے CDA Board کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اسکولوں کو باقاعدہ طور پر سنا جائے اور سماعت کے بعد اس معاملے کا مناسب حل نکالا جائے معزز جج صاحب نے یہ بھی واضح فرمایا کہ فی الحال CDA کی جانب سے کسی بھی اسکول کو صرف Conforming Use کی بنیاد پر بے دخل نہیں کیا جائے گا ہمارے وکیل جناب فیاض انجم جندران صاحب کی خصوصی درخواست پر معزز عدالت نے یقین دہانی کروائی کہ عدالتی حکم میں اس امر کا بھی ذکر کیا جائے گا کہ اسکولوں سے پلاٹس کے سلسلے میں CDA کی جانب سے جو Earnest Money وصول کی گئی ہے، اسے بھی مدِنظر رکھا جائے۔ اسی طرح یہ نکتہ بھی عدالتی حکم میں شامل کیا جائے گا کہ ماضی میں جن اسکولوں کو CDA کی جانب سے پلاٹس دیے جا چکے ہیں، ان کے تناظر میں ہمارے کیس میں امتیازی سلوک (Discrimination) نہیں ہونا چاہیے ایک نہایت اہم بات یہ بھی ہوئی کہ معزز جسٹس صاحب نے Right to Free and Compulsory Education Act, 2012 کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ تمام اسکول 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے پابند ہیں لہٰذا جن اسکولوں کی جانب سے پہلے ہی 10 فیصد مفت تعلیم کی فراہمی پر عمل کیا جا رہا ہے، وہ اس حوالے سے موجود ریکارڈ، خطوط یا دستاویزات اپنے وکیل کے پاس جمع کروا دیں تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں عدالت کے سامنے بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔
اور جن اسکولوں کی جانب سے ابھی تک اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا، انہیں چاہیے کہ 10 فیصد مفت تعلیم کی شرط پر عمل درآمد شروع کریں تاکہ مستقبل میں عدالت کے سامنے ان کا طرزِ عمل منصفانہ اور قانون کے مطابق ہو اور عدالت بھی ان کے جائز معاملات میں ان کی معاونت کر سکے۔
مجموعی طور پر آج کی کارروائی میں عدالت کی جانب سے اسکولوں کے مؤقف، ان کے قانونی حقوق اور CDA کے سابقہ طرزِ عمل کو مدِنظر رکھتے ہوئے معاملے کو CDA Board کے سامنے لے جانے کی اہم پیش رفت ہوئی ہے