اسلام آباد (اردو ٹائمز) چیف منسٹر پنجاب ۔۔ یہ ھے جواب قطبال کے ایک یونین کونسل سیکرٹری کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر: ایڈووکیٹ چوھدری تنویر طالب “ڈیتھ سرٹیفکیٹ وہاں سے بنے گا جہاں تدفین ہوئی ہے۔

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) چیف منسٹر پنجاب ۔۔ یہ ھے جواب قطبال کے ایک یونین کونسل سیکرٹری کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر: ایڈووکیٹ چوھدری تنویر طالب

“ڈیتھ سرٹیفکیٹ وہاں سے بنے گا جہاں تدفین ہوئی ہے۔”

یہ وہ جملہ تھا جس نے ایک سوگوار خاندان کو حیرت میں ڈال دیا۔ یونین کونسل قطبال، تحصیل فتح جنگ کے دفتر میں بیٹھے سیکریٹری کا موقف سن کر یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان کا قانون بدل چکا ہو اور شاید کسی نئے ضابطے نے پرانے قوانین کی جگہ لے لی ہو۔ لیکن جب قانون کی کتاب کھولی گئی تو ایک مختلف تصویر سامنے آئی۔

برتھس، ڈیتھس اینڈ میریجز رجسٹریشن ایکٹ 1886ء کی دفعہ 19 رجسٹرار کو پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے مقررہ مقامی دائرۂ اختیار (Local Area) میں واقع ہونے والی پیدائش یا وفات کا اندراج کرے۔ اسی قانون کی دفعہ 12 رجسٹرار کی تقرری مقامی علاقے کے لیے کرتی ہے جبکہ دفعہ 16 اس کے دفتر کو بھی اسی مقامی حدود سے منسلک کرتی ہے۔ قانون میں “جائے تدفین” کو دائرۂ اختیار کی بنیاد نہیں بنایا گیا بلکہ “جائے وقوعِ وفات” کو اہمیت دی گئی ہے۔

یہاں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قانون ایک بات کہہ رہا ہے تو یونین کونسل قطبال کے سیکریٹری دوسری بات کس قانون کے تحت کہہ رہے تھے؟

یہ سوال صرف ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا نہیں۔ یہ سوال پنجاب کے اس پورے انتظامی ڈھانچے کا ہے جس میں بعض اوقات قانون خاموش اور بابو بولتا ہوا نظر آتا ہے۔

ایک شہری کے گھر میں موت واقع ہوتی ہے۔ خاندان صدمے میں ہے۔ تدفین کے انتظامات الگ، تعزیت کرنے والوں کا ہجوم الگ اور مالی و نفسیاتی دباؤ الگ۔ ایسے میں ریاست کا پہلا چہرہ یونین کونسل کا دفتر بنتا ہے۔ شہری وہاں اس امید کے ساتھ جاتا ہے کہ اسے قانون کے مطابق سہولت ملے گی۔ لیکن اگر اسے مختلف دفاتر سے مختلف جوابات ملنا شروع ہو جائیں تو پھر سوال صرف انتظامی نااہلی کا نہیں رہتا بلکہ ریاستی اعتبار کا بن جاتا ہے۔

قطبال کے اس واقعے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف سیکریٹری صاحب تدفین کی جگہ کو بنیاد بنا رہے تھے جبکہ بعد میں ایک دوسرے سرکاری افسر نے مستقل پتے کو معیار قرار دیا۔ گویا ایک ہی معاملے میں دو سرکاری اہلکار دو الگ قوانین کے مطابق کام کر رہے تھے۔ اب اگر شہری پوچھے کہ اصل قانون کون سا ہے تو اس کے پاس جواب دینے والا کون ہے؟

یہی وہ مسئلہ ہے جس پر برسوں سے لکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں قوانین کی کمی نہیں۔ دفعات بھی موجود ہیں، قواعد بھی موجود ہیں اور نوٹیفکیشن بھی موجود ہیں۔ کمی صرف ان پر عمل درآمد کی ہے۔

مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے سرکاری دفاتر میں قانون کی کتاب کم اور زبانی روایات زیادہ چلتی ہیں۔ ایک دفتر میں آپ کو ایک ہدایت ملے گی، دوسرے دفتر میں اس کے برعکس۔ اگر آپ قانونی حوالہ مانگ لیں تو بعض اوقات ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے آپ نے کوئی گستاخی کر دی ہو۔ حالانکہ ایک شہری کا بنیادی حق ہے کہ اسے بتایا جائے کہ اس کے معاملے پر کون سی دفعہ لاگو ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یونین کونسل کا سیکریٹری قانون کے برخلاف کسی شہری کو واپس بھیج دے تو اس کا احتساب کون کرے گا؟ کیا اسسٹنٹ کمشنر؟ کیا ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ؟ کیا ڈپٹی کمشنر؟ یا پھر آخرکار شہری کو وزیراعلیٰ پنجاب کے پورٹل پر جا کر فریاد کرنا ہوگی؟

یہی وہ مقام ہے جہاں گورننس کا اصل بحران شروع ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز روزانہ درجنوں اجلاس کرتی ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیتی ہیں۔ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور عوامی سہولتوں کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یونین کونسل کی سطح پر بیٹھا ایک اہلکار قانون کی اپنی تشریح نافذ کر دے تو وزیراعلیٰ لاہور میں بیٹھ کر کتنے ایسے دفاتر کی نگرانی کر سکتی ہیں؟

دنیا کے کسی بھی مؤثر انتظامی نظام میں وزیراعلیٰ کا کام ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کروانا نہیں ہوتا۔ وزیراعلیٰ کا کام ایسا نظام قائم کرنا ہوتا ہے جس میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے کسی شہری کو وزیراعلیٰ تک پہنچنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

لیکن ہمارے ہاں صورتحال الٹ ہے۔ ایک عام آدمی کا مسئلہ یونین کونسل میں حل نہیں ہوتا، تحصیل میں حل نہیں ہوتا، ضلع میں حل نہیں ہوتا، اور پھر اسے مشورہ دیا جاتا ہے کہ آن لائن شکایت کر دیں، وزیراعلیٰ پورٹل پر درخواست دے دیں یا کسی سیاسی شخصیت سے سفارش کروا لیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہر معاملہ وزیراعلیٰ کے پاس ہی جانا ہے تو پھر ضلعی انتظامیہ، لوکل گورنمنٹ اور یونین کونسلوں کا پورا ڈھانچہ کس مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے؟

قطبال کا واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں روزانہ ہزاروں شہری ایسے ہی مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ کسی کو ڈومیسائل کے لیے چکر لگانے پڑتے ہیں، کسی کو انتقال کے لیے، کسی کو پیدائش کے اندراج کے لیے اور کسی کو وفات کے سرٹیفکیٹ کے لیے۔ مسئلہ ہمیشہ قانون کا نہیں ہوتا، مسئلہ قانون کو سمجھنے اور نافذ کرنے والوں کا ہوتا ہے۔

اگر واقعی یونین کونسل قطبال کے سیکریٹری کے پاس کوئی ایسا قانون موجود ہے جو تدفین کی جگہ کو اندراجِ وفات کا معیار قرار دیتا ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ اگر ایسا کوئی قانون موجود نہیں تو پھر متعلقہ افسر سے یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ ایک سوگوار خاندان کو غیر ضروری مشکلات میں کیوں ڈالا گیا؟

ریاست کی طاقت اس کے بڑے دفاتر سے نہیں بلکہ اس کے چھوٹے دفاتر سے پہچانی جاتی ہے۔ عوام کا اعتماد وزیراعظم ہاؤس یا وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے دروازے پر پیدا نہیں ہوتا بلکہ یونین کونسل، تھانے، تحصیل اور ہسپتال کے کاؤنٹر پر پیدا ہوتا ہے۔

جب ایک شہری کسی دفتر میں داخل ہو اور اسے قانون کے مطابق، عزت کے ساتھ اور فوری سہولت ملے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن جب اسے ایک میز سے دوسری میز اور ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیجا جائے تو ریاست کمزور ہوتی ہے۔

یونین کونسل قطبال کا معاملہ شاید چند روز بعد فائلوں میں دب جائے گا۔ متعلقہ خاندان کسی نہ کسی طرح اپنا مسئلہ حل بھی کروا لے گا۔ لیکن اصل سوال اپنی جگہ موجود رہے گا:

کیا پنجاب میں قانون چلے گا یا قانون کی تشریح کرنے والے بابو؟

کیا شہری کو اس کا حق قانون کی بنیاد پر ملے گا یا کسی افسر کی ذاتی رائے کی بنیاد پر؟

اور سب سے اہم سوال، کیا وزیر اعلیٰ مریم نواز کو واقعی ہر یونین کونسل، ہر تحصیل اور ہر دفتر کا مسئلہ خود حل کرنا ہوگا، یا پھر وہ دن بھی آئے گا جب ایک عام شہری کو اپنے حق کے لیے کسی سفارش، کسی شکایت پورٹل اور کسی بڑے افسر کی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی؟

یونین کونسل قطبال کے ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ نے دراصل پنجاب کی گورننس کے پورے نظام کے سامنے یہی سوال کھڑا کر دیا ہے۔

قانون تو آج بھی وہی کہہ رہا ہے جو 1886ء میں لکھا گیا تھا۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اسے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والا کوئی موجود ہے؟

VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download