اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان کےکامیاب دورہ امریکہ سےمشرقِ وسطیٰ میں امن کی امید

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے شہباز شریف کا دورہ امریکہ کامیاب رہا۔ نیویارک کی بلند و بالا سفارتی راہداریوں سے لے کر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مقتدر ہال تک، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ دورۂ امریکہ محض ایک روایتی عالمی دورہ یا محض سالانہ تقریر کا کوئی اوسط سیشن نہیں تھا، بلکہ یہ کرۂ ارض پر منڈلاتے ہوئے جنگ کے مہیب بادلوں، بلاک سیاست کی کھینچا تانی اور مشرقِ وسطیٰ کے خونی تنازعات کے مابین پاکستان کی جانب سے دنیا کے سامنے پیش کیا جانے والا ایک جامع، جرات مندانہ اور تاریخ ساز “عالمی امن مشن” تھا۔پاکستان کے سینئر سفارتی نامہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے اس سنہری خارجہ اصول کی روشنی میں، جس کے تحت پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ برابری اور امن کا خواہاں ہے اور کسی کے خلاف بغض یا مصلحت پسندی کا قائل نہیں،

وزیراعظم شہباز شریف نے 24 کروڑ باہمت پاکستانیوں اور مظلوم امتِ مسلمہ کی ایسی سچی اور بے باک ترجمانی کی جس کی گونج سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ گئی۔

اس دورے کا سب سے بڑا تزویراتی اور تاریخی حاصل ایران اور امریکہ کے مابین جاری ممکنہ ایٹمی و عسکری تصادم کو روکنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ، بے داغ اور غیر جانبدارانہ ثالثی کا وہ مینوفیکچرنگ ماڈل تھا جس پر بین الاقوامی برادری حیران رہ گئی۔

وزیراعظم نے نیویارک میں عالمی میڈیا کے نمائندوں اور سربراہانِ مملکت کے اعلیٰ سطح کے تھنک ٹینکس سے گفتگو کرتے ہوئے دنیا پر یہ حقیقت واضح کی کہ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک اور تباہ کن تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لانے کے لیے ایک مخلص اور دیانتدار ثالث کا انتہائی پُرخلوص کردار ادا کر رہا ہے

اسلام آباد نے خطے میں پائیدار توازنِ طاقت کے لیے امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اس موقع پر اس تاریخی دستاویزی حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ اپریل 2026ء میں اسلام آباد کی سرزمیں پر منعقد ہونے والے 21 گھنٹے طویل انتہائی خفیہ اور اعلانیہ مذاکرات کی روشنی میں جو “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad MoU) تیار کی گئی تھی، اس پر بذاتِ خود ان کے اپنے دستخطوں کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے باضابطہ توثیق کر رکھی ہے ، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنا اور ایران پر عائد یکطرفہ معاشی پابندیوں کا مرحلہ وار خاتمہ کر کے خطے کو امن کا گہوارہ بنانا طے پایا تھا۔ اگرچہ بعد میں صیہونی لابی کی مہم جوئی اور بحری حدود میں ہونے والے غیر متوقع واقعات نے اس تاریخی یادداشت کے نفاذ میں عارضی رخنے ڈالے، لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اس دورے کے ذریعے امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کر کے اس چودہ نکاتی امن فریم ورک کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوا دیا، جس کی توثیق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر سے اور ملکی عسکری قیادت نے بھی واشگاف الفاظ میں کی ہے، کیونکہ پاکستان کی یہ بقا پر مبنی خارجہ پالیسی ہے کہ خلیج فارس میں لگی آگ کو اگر مذاکرات کی میز پر نہ بجھایا گیا تو اس کی تپش پوری دنیا کی انرجی سپلائی چین کو راکھ کر دے گی۔ اس عظیم امن مشن کے متوازی، وزیراعظم نے فلسطین کے دیرینہ اور خون آلود مقدمے کو جس جرات اور دردِ دل کے ساتھ جنرل اسمبلی کے سامنے رکھا، اس نے دنیا بھر کے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو عالمی کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے محض روایتی اعداد و شمار کا سہارا لینے کے بجائے صیہونی وحشیانہ جارحیت کا شکار بننے والی معصوم فلسطینی بچوں ہند رجب اور آٹھ سالہ وفا عقیلہ کے دل ہلا دینے والے سانحات کو دنیا کے سامنے اس انداز میں پیش کیا کہ اقوامِ متحدہ کا ہال تالیوں اور آنسوؤں سے گونج اٹھا، اور انہوں نے دنیا کی مہذب کہلانے والی طاقتوں سے یہ چبھتا ہوا سوال پوچھا کہ کیا غزہ کی جلتی ہوئی سرزمیں پر پیدا ہونے والا بچہ نیویارک، لندن، پیرس یا ٹوکیو کے بچوں کی طرح جینے، پڑھنے اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھنے کا کوئی بنیادی انسانی حق نہیں رکھتا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقوامِ متحدہ میں متعین ریاستِ فلسطین کے آفیشل مشن نے تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی اس بے باک سفارتی وکالت کا باضابطہ اعتراف کرتے ہوئے اسے اپنے عالمی ریکارڈ کا حصہ بنایا۔ پاکستان کے اس مخلصانہ قد کاٹھ کا اعتراف مسلم امہ اور دنیا کے دیگر بڑے بلاکس بھی کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا امن صرف اور صرف 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک ایسی آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام میں پنہاں ہے جس کا مستقل دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

دورۂ امریکہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کے امن کو داؤ پر لگانے والی بھارتی آبی جارحیت اور نئی دہلی کی ہٹ دھرمی کو بھی دنیا کے سب سے بڑے فورم پر بے نقاب کیا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے 1960ء کے تاریخی سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو یکطرفہ طور پر معطل یا التوا میں رکھنے کے غیر قانونی اقدامات کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی بینک اور سلامتی کونسل کو بطور ضامن ان کی تزویراتی ذمہ داریاں یاد دلائیں، اور دی ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت (Court of Arbitration) کے اس تاریخی فیصلے کا حوالہ دیا جس نے پاکستان کے قانونی مؤقف کی متفقہ تائید کی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور دیگر عالمی طاقتوں کو دوٹوک پیغام دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے دریاؤں پر کشن گنگا اور رتلے جیسے متنازع ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی آڑ میں پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں کوئی غیر قانونی رکاوٹ ڈالنے یا دریاؤں کا رخ موڑنے کی کسی بھی صیہونی طرز کی بھارتی کوشش کو پاکستان کے خلاف باقاعدہ “اعلانِ جنگ” (Act of War) تصور کیا جائے گا، کیونکہ24 کروڑ عوام کی زرعی معیشت اور فوڈ سیکیورٹی پر کوئی بھی ملکی حکومت کسی قسم کا معاشی یا تزویراتی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نےامتِ مسلمہ کا مقدمہ انتہائی جرات انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی بحرانوں کے حل کے لیے پاکستان کو ایک ناگزیر اور مخلص ثالث کے طور پر منوایا ہے، جس کی بدولت عالمی سطح پر پرامن بقائے باہمی اور تصفیوں کی نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔

وزیراعظم کے دورے کا سب سے بڑا تزویراتی حاصل ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن تب تک ایک ادھورا خواب رہے گا جب تک بھارت 5 اگست2019ء کے یکطرفہ اور غاصبانہ اقدامات کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ان کا بنیادی حقِ خود ارادیت فراہم نہیں کرتا۔ اس کامیاب ترین دورے نے بین الاقوامی محاذ پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی جوہری صلاحیت اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ جانوں کا نذرانہ دینے والی افواج کی بدولت دنیا میں جنگوں کو بھڑکانے والا نہیں بلکہ مخلصانہ انداز میں امن قائم کرنے والا ایک انتہائی ذمہ دار اور ناگزیر ملک ہے، جس کی خارجہ پالیسی کے اس کامیاب تزویراتی سفر نے پوری دنیا میں پاکستان کے سفارتی تشخص کو ایک نئی زندگی اور لازوال عالمی احترام عطا کیا ہے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا حالیہ اجلاس عالمی تاریخ کا ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوا ہے،

نیویارک میں عالمی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دونوں طاقتوں کے درمیان ایک دیانتدار اور بے داغ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کا احیاء ہی خطے کے پرامن مستقبل کا واحد راستہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے ساتھ اس 14 نکاتی امن فریم ورک پر پسِ پردہ ہونے والی پیش رفت کو صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی سراہا ہے، جو خطے کو کسی بڑے فوجی ٹکراؤ سے بچانے کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔وزیراعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی کے مقتدر پوڈیم سے غزہ کی مخدوش صورتحال پر صیہونی جارحیت کو “نسل کشی کا حملہ” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کے ضمیر پر گہری ضرب لگائی۔ انہوں نے معصوم فلسطینی بچوں ہند رجب اور وفا عقیلہ کا نام لے کر دنیا سے چبھتے ہوئے سوالات پوچھے، جس کی بازگشت سلامتی کونسل کے ایوانوں تک سنی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں متعین ریاستِ فلسطین کے آفیشل مشن نے پاکستان کی اس سچی اور بے باک ترجمانی کا باضابطہ اعتراف کرتے ہوئے اپنے آفیشل پلیٹ فارمز پر سراہا، جس نے ثابت کیا کہ پاکستان مظلوموں کا سب سے بڑا سفارتی وکیل بن کر ابھرا ہے۔وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران صرف مشرقِ وسطیٰ کے امن کی بات نہیں کی، بلکہ پاکستان کے جغرافیائی اور تزویراتی حقوق کا بھی ڈٹ کر دفاع کیا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوششوں کو غیر قانونی قرار دیا اور دی ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں واشنگٹن کو ضامن کا کردار ادا کرنے کی یاددہانی کروائی۔ انہوں نے بھارت کو سخت پیغام دیا کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کسی بھی مہم جوئی کو “اعلانِ جنگ” سمجھا جائے گا، جس نے بھارت کی ہٹ دھرمی کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف 13 روزہ دورہ امریکا اور برطانیہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔ وزیر اعظم نے 5 روز امریکا جبکہ 9 دن تک لندن میں قیام کیا۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بہت محنت کی، خلیج کا بحران نہ پیدا ہوتا تو پاکستان دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح بہت آگے جا چکا ہوتا۔ وزیراعظم نے لندن اسٹاک مارکیٹ کا دورہ اور اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپننگ کی تقریب میں شرکت کی۔لندن اسٹاک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور سینیر حکام نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے 3 ارب ڈالرز کے یورو بانڈز لسٹنگ کی رونمائی بھی کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بہت محنت کی ،میکرو اکنامک اشاریے مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ خلیج کا بحران نہ پیدا ہوتا تو پاکستان دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح بہت آگے جاچکا ہوتا۔ خطے میں امن کے لیے پاکستان نے اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق مارکیٹ اوپننگ تقریب میں وزیراعظم کی شرکت پاکستان اور لندن کے اہم مالیاتی اداروں کے درمیان بڑھتے روابط کا مظہر ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہیں لندن اسٹاک ایکسچینج ٹریڈنگ اوپننگ کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا للہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیاْ۔ وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے اہم دوطرفہ و کثیرالجہتی ملاقاتیں کیں۔

VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download