LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم ; پیٹرول کی فراہمی کا عمل کامیابی سےجاری

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ملک بھر کے کم اور متوسط آمدنی والے شہریوں کو 100 روپے فی لیٹر رعایت (سبسڈی) پر پیٹرول کی فراہمی کا عمل کامیابی سے جاری ہے
حال ہی میں عوام سے موصول ہونے والے فیڈبیک کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اسکیم کے قواعد کو مزید آسان اور وسیع کر دیا گیا ہے
پہلے مرحلے میں پمپ سے ایک وقت میں کم از کم 5 لیٹر پیٹرول خریدنے کی لازمی شرط رکھی گئی تھی، جسے عوامی آراء کی روشنی میں اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب 5 لیٹر سے کم مقدار میں پیٹرول ڈلوانے والے محنت کش بھی ایک ٹوکن کے عوض ہفتہ وار 500 روپے کی نقد رعایت حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک مہینے میں مجموعی طور پر 4 ڈیجیٹل ٹوکن جاری کیے جا رہے ہیں
وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر اب یکم جنوری 2006ء یا اس کے بعد رجسٹرڈ ہونے والی تمام موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی اس اسکیم کے تحت اہل قرار دیے جا چکے ہیں۔ چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے پرانا طریقہ کار ہی برقرار ہے، جس کے تحت انہیں ہر 10 روز میں زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر (کل 1000 روپے) کی رعایت ملتی ہے۔ ایک مہینے میں 10 لیٹر کے 3 ٹوکن (مجموعی طور پر 30 لیٹر ماہانہ) جاری کیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ آئی ٹی اور نادرا کے اشتراک سے رجسٹریشن کے لیے 9771 کی ایس ایم ایس (SMS) سروس کو بالکل مفت کر دیا گیا ہے۔ رجسٹریشن کا طریقہ کار درج ذیل ہے:رجسٹریشن کے لیے: اپنے موبائل کے میسج آپشن میں جائیں اور یہ فارمیٹ لکھیں:REG [space] شناختی کارڈ نمبر [space] بغیر اسپیس سواری کا نمبر [space] صوبے کا پہلا انگریزی حرف [space] رجسٹریشن کی تاریخاور اسے 9771 پر بھیج دیں۔ (مثال کے طور پر، اگر سواری پنجاب میں رجسٹرڈ ہے تو صوبے کی جگہ صرف P لکھیں)۔پیٹرول ٹوکن کے لیے: رجسٹریشن مکمل ہونے کا تصدیقی پیغام ملنے کے بعد، پیٹرول پمپ جانے سے پہلے اپنے موبائل سے TOK لکھ کر 9771 پر ارسال کریں، جس کے بعد آپ کو ایک منفرد ڈیجیٹل ٹوکن نمبر موصول ہو جائے گا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اسٹیئرنگ کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے مطابق، اب انٹرنیٹ سے محروم اور دور دراز علاقوں کے پیٹرول پمپس پر بھی آف لائن ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوکن کیش کرانے کی منظوری دے دی گئی ہے تاکہ ریلیف بلا تعطل ہر مستحق شہری تک پہنچ سکے۔پاکستان کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھوتی ہیں، تو اس کا سب سے پہلا اور مہلک وار ملکی معیشت اور غریب عوام کی جیب پر ہوتا ہے۔ غریب عوام کو فوری ریلیف دینے کی یہ حکومتی کوشش قابلِ ستائش ضرور ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی کا دارومدار صرف پٹرول پمپ پر لائنیں لگانے یا سیاسی نعرے لگانے میں نہیں ہے۔ اس اسکیم کو اگر واقعی فائدہ مند بنانا ہے تو اس کے لیے ایک شفاف نظام، بہترین ٹیکنالوجی کا بلا تعطل استعمال اور طویل مدتی معاشی اصلاحات بے حد ضروری ہیں، ورنہ عارضی ریلیف کے ختم ہوتے ہی عوام خود کو دوبارہ اسی معاشی بحران کے منہ میں کھڑا پائیں گے
حالیہ دنوں میں بھی عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
اس بے لگام مہنگائی نے عام آدمی، خصوصاً ملازمین، رکشہ ڈرائیوروں اور دیہاڑی دار طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
پٹرول محض ایک ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کا پہیہ ہے، یہی وجہ ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے سے اشیائے خورونوش اور کرایوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس نے غریب کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک بڑے اقدام کا فیصلہ کیا اور موٹر سائیکل اور 800cc تک کی گاڑیوں کے لیے پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے تک کی رعایت کا اعلان کیا۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے متوسط اور غریب طبقے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچانے کے لیے “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا آغاز یا گیا ہےجو کہ ایک انتہائی قابلِ تحسین اقدام ہے,غریب عوام کے درد کو محسوس کرنا اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کی یہ کوشش یقیناً قابلِ ستائش ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی بڑی اسکیموں کا صرف اعلان کرنا آسان ہے لیکن اس پر شفاف طریقے سے عمل درآمد کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اگر ہم اس اسکیم کے تکنیکی ڈھانچے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسکیم نادرا (NADRA)، صوبائی ایکسائز محکموں اور موبائل کمپنیوں کے ڈیٹا کو ملا کر ایک ڈیجیٹل سسٹم کے تحت چلائی جائے گی، تاکہ پٹرول پمپ پر صارف کی شناخت اور گاڑی کی تصدیق کی جا سکے۔ یہ ڈیجیٹل نظام کی پیچیدگیاں کاغذ پر تو بہت مضبوط دکھائی دیتی ہیں، مگر زمینی حقائق مختلف ہیں۔ پٹرول پمپس پر شدید رش کے دوران ریئل ٹائم تصدیق کا عمل کتنا کامیاب رہے گا اور اس سے ٹریفک کا نظام کتنا متاثر ہوگا، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس کے علاوہ، ہمارے معاشرے کے وہ غریب لوگ جو انٹرنیٹ یا سمارٹ فون استعمال کرنا نہیں جانتے، ان کے لیے رجسٹریشن کا متبادل اور آسان طریقہ ہونا انتہائی ضروری ہے، ورنہ اصل حق دار اس ریلیف سے محروم رہ جائیں گے۔اس اسکیم کا ایک اور بڑا محدود پہلو رعایت کی حد ہے۔ اسکیم کے تحت پٹرول کی ایک ماہانہ حد (جیسے 20 یا 30 لیٹر) مقرر کی جائے گی۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ روزانہ کی بنیاد پر رائڈ شیئرنگ کرتے ہیں یا طویل سفر طے کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حد چند ہی دنوں میں ختم ہو جائے گی اور انہیں باقی پورا مہینہ پٹرول مارکیٹ ریٹ پر ہی خریدنا پڑے گا، جس سے ان کا معاشی بحران جوں کا توں رہے گا۔اگر ہم اس کے معاشی اثرات اور شفافیت کا تقاضا کریں، تو کئی اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ قومی خزانے پر بوجھ کا ہے۔ پٹرول پر اتنی بڑی سبسڈی دینے کے لیے بھاری فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر حکومت کے پاس اس کے لیے کوئی واضح بجٹ یا آمدن کا ذریعہ نہیں ہے، تو اس اسکیم سے ملک کا مالیاتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے جو معیشت کو مزید کمزور کرے گا۔ اس لیے اس اسکیم کو محض سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اس اسکیم پر ماہانہ کتنا خرچ آ رہا ہے اس کے ساتھ ہی، پٹرول پمپس پر کسی بھی قسم کی دھاندلی، فیک رجسٹریشن، بدعنوانی اور چور بازاری کا خدشہ بھی موجود رہے گا، جس کو روکنے کے لیے ایک سخت اور فول پروف نگرانی کا نظام لازمی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پٹرول پر عارضی سبسڈی دینا مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل نہیں اگر حکومت واقعی ملک کو معاشی دلدل سے نکالنا چاہتی ہے تو اسے طویل مدتی حل اور تجاویز پر غور کرنا ہوگا,
سب سے پہلے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر اور سستا کیا جائے تاکہ لوگ ذاتی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر انحصار کم کریں اور پٹرول کی مجموعی کھپت نیچے آئے۔توانائی کے متبادل ذرائع: پٹرولیم کے بھاری درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے ملک کو ہنگامی بنیادوں پر مقامی اور متبادل توانائی کے ذرائع الیکٹرک وہیکلز کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ صوبائی ایکسائز ڈپارٹمنٹس اور نادرا کے ڈیٹا کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ اور درست رکھا جائے تاکہ کوئی بھی شخص اس ڈیجیٹل نظام کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکے اور سبسڈی صرف مستحقین تک پہنچے۔حکومتی رہنماؤں کی جانب سے پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے مختلف بیانات اہم معاشی اور انتظامی تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔ حکومتی قیادت اس اسکیم کو غریب پرور قرار دے رہی ہے جبکہ اس کے مالی اور تکنیکی پہلوؤں پر وزراء نے تفصیلی بریفنگز دی ہیں
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ خلیج کی حالیہ صورتحال اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے سے سب سے زیادہ کم آمدنی والا طبقہ متاثر ہوا ہے۔ موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں عام آدمی کی ضرورت ہیں، اس لیے حکومت معاشی مشکلات کے باوجود غریب عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی وزیرِ اعظم نے پٹرول پمپس پر عوام کی رہنمائی اور رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے خصوصی سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ شہریوں کو رعایت حاصل کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔
وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ اس ریلیف اسکیم پر ماہانہ 25 سے 30 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔ اگر یہ اسکیم 10 ماہ تک جاری رہتی ہے تو یہ مجموعی حجم تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعظم نے اس اسکیم کو پائیدار بنیادوں پر چلانے کے لیے اضافی وسائل کو متحرک کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں ,وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ وزارتِ آئی ٹی اس نظام کی شفافیت کے لیے “فیول پاس سسٹم” (FPS) کو منظم کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موٹر سائیکل سواروں کو ہفتہ وار 5 لیٹر کا ٹوکن (جو 100 روپے فی لیٹر رعایت کے حساب سے 500 روپے بنتا ہے) جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ہر 10 دن بعد 1000 روپے کا ٹوکن فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے پمپس کا دورہ کر کے شہریوں کی رجسٹریشن کی مشکلات دور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ حکومتی ترجمانوں رانا ثناء اللہ اور عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ اسکیم کو مکمل طور پر سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رکھا گیا ہے۔ نادرا اور صوبائی ایکسائز محکموں کے ڈیٹا کا کراس چیک اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کوئی بھی شخص اس اسکیم کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ ریلیف صرف غیر تجارتی صارفین کے لیے مخصوص ہے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں اس اسکیم کو فوری طور پر فعال کرنے کے لیے 75 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی ہے، تاکہ فنڈز کی دستیابی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

TOTOMACAU

sabung ayam online

sabung ayam online

sabung ayam online

sabung ayam online

article 48666670061

article 48666670062

article 48666670063

article 48666670064

article 48666670065

article 48666670066

article 48666670067

article 48666670068

article 48666670069

article 48666670070

article 48666670071

article 48666670072

article 48666670073

article 48666670074

article 48666670075

article 48666670076

article 48666670077

article 48666670078

article 48666670079

article 48666670080

article 48666670081

article 48666670082

article 48666670083

article 48666670084

article 48666670085

article 48666670086

article 48666670087

article 48666670088

article 48666670089

article 48666670090

article 48666670091

article 48666670092

article 48666670093

article 48666670094

article 48666670095

article 48666670096

article 48666670097

article 48666670098

article 48666670099

article 48666670100

article 98666670021

article 98666670022

article 98666670023

article 98666670024

article 98666670025

article 98666670026

article 98666670027

article 98666670028

article 98666670029

article 98666670030

article 98666670031

article 98666670032

article 98666670033

article 98666670034

article 98666670035

article 98666670036

article 98666670037

article 98666670038

article 98666670039

article 98666670040

article 98666670041

article 98666670042

article 98666670043

article 98666670044

article 98666670045

article 98666670046

article 98666670047

article 98666670048

article 98666670049

article 98666670050

article 98666670051

article 98666670052

article 98666670053

article 98666670054

article 98666670055

article 98666670056

article 98666670057

article 98666670058

article 98666670059

article 98666670060

article 68666669981

article 68666669982

article 68666669983

article 68666669984

article 68666669985

article 68666669986

article 68666669987

article 68666669988

article 68666669989

article 68666669990

article 68666669991

article 68666669992

article 68666669993

article 68666669994

article 68666669995

article 68666669996

article 68666669997

article 68666669998

article 68666669999

article 68666670000

article 68666670001

article 68666670002

article 68666670003

article 68666670004

article 68666670005

article 68666670006

article 68666670007

article 68666670008

article 68666670009

article 68666670010

article 68666670011

article 68666670012

article 68666670013

article 68666670014

article 68666670015

article 68666670016

article 68666670017

article 68666670018

article 68666670019

article 68666670020

article 68666669961

article 68666669962

article 68666669963

article 68666669964

article 68666669965

article 68666669966

article 68666669967

article 68666669968

article 68666669969

article 68666669970

article 68666669971

article 68666669972

article 68666669973

article 68666669974

article 68666669975

article 68666669976

article 68666669977

article 68666669978

article 68666669979

article 68666669980

article 68666669981

article 68666669982

article 68666669983

article 68666669984

article 68666669985

article 68666669986

article 68666669987

article 68666669988

article 68666669989

article 68666669990

article 68666669991

article 68666669992

article 68666669993

article 68666669994

article 68666669995

article 68666669996

article 68666669997

article 68666669998

article 68666669999

article 68666670000

article 68666670001

article 68666670002

article 68666670003

article 68666670004

article 68666670005

article 68666670006

article 68666670007

article 68666670008

article 68666670009

article 68666670010

article 68666670011

article 68666670012

article 68666670013

article 68666670014

article 68666670015

article 68666670016

article 68666670017

article 68666670018

article 68666670019

article 68666670020

article 68666670021

article 68666670022

article 68666670023

article 68666670024

article 68666670025

article 66666669901

article 66666669941

article 66666669942

article 66666669943

article 66666669944

article 66666669945

article 66666669946

article 66666669947

article 66666669948

article 66666669949

article 66666669950

article 66666669951

article 66666669952

article 66666669953

article 66666669954

article 66666669955

article 66666669956

article 66666669957

article 66666669958

article 66666669959

article 66666669960

article 66666669961

article 66666669962

article 66666669963

article 66666669964

article 66666669965

article 66666669966

article 66666669967

article 66666669968

article 66666669969

article 66666669970

article 66666669971

article 66666669972

article 66666669973

article 66666669974

article 66666669975

article 66666669976

article 66666669977

article 66666669978

article 66666669979

article 66666669980

article 66666669981

article 66666669982

article 66666669983

article 66666669984

article 66666669985

article 66666669986

article 66666669987

article 66666669988

article 66666669989

article 66666669990

article 66666669991

article 66666669992

article 66666669993

article 66666669994

article 66666669995

article 66666669996

article 66666669997

article 66666669998

article 66666669999

article 66666670000

article 66666670001

article 66666670002

article 66666670003

article 66666670004

article 66666670005

article 66666670006

article 66666670007

article 66666670008

article 66666670009

article 66666670010

article 66666670011

article 66666670012

article 66666670013

article 66666670014

article 66666670015

article 66666670016

article 66666670017

article 66666670018

article 66666670019

article 66666670020

article 66666670021

article 66666670022

article 66666670023

article 66666670024

article 66666670025

article 88888970

article 88888971

article 88888972

article 88888973

article 88888974

article 88888975

article 88888976

article 88888977

article 88888978

article 88888979

article 88888980

article 88888981

article 88888982

article 88888983

article 88888984

article 88888985

article 88888986

article 88888987

article 88888988

article 88888989

article 88888990

article 88888991

article 88888992

article 88888993

article 88888994

article 88888995

article 88888996

article 88888997

article 88888998

article 88888999

article 88889000

article 88889001

article 88889002

article 88889003

article 88889004

article 88889005

article 88889006

article 88889007

article 88889008

article 88889009

article 88889010

article 88889011

article 88889012

article 88889013

article 88889014

article 10000606

article 10000607

article 10000608

article 10000609

article 10000610

article 10000611

article 10000612

article 10000613

article 10000614

article 10000615

article 10000616

article 10000617

article 10000618

article 10000619

article 10000620

article 10000621

article 10000622

article 10000623

article 10000624

article 10000625

article 10000626

article 10000627

article 10000628

article 10000629

article 10000630

article 10000631

article 10000632

article 10000633

article 10000634

article 10000635

article 10000636

article 10000637

article 10000638

article 10000639

article 10000640

article 10000641

article 10000642

article 10000643

article 10000644

article 10000645

article 10000646

article 10000647

article 10000648

article 10000649

article 10000650

article 10000651

article 10000652

article 10000653

article 10000654

article 10000655

article 10000656

article 10000657

article 10000658

article 10000659

article 10000660

article 10000661

article 10000662

article 10000663

article 10000664

article 10000665

article 10000666

article 10000667

article 10000668

article 10000669

article 10000670

article 10000671

article 10000672

article 10000673

article 10000674

article 10000675

article 5500446

article 5500447

article 5500448

article 5500449

article 5500450

article 5500451

article 5500452

article 5500453

article 5500454

article 5500455

article 5500456

article 5500457

article 5500458

article 5500459

article 5500460

article 5500461

article 5500462

article 5500463

article 5500464

article 5500465

article 5500466

article 5500467

article 5500468

article 5500469

article 5500470

article 5500471

article 5500472

article 5500473

article 5500474

article 5500475

article 5500476

article 5500477

article 5500478

article 5500479

article 5500480

article 5500481

article 5500482

article 5500483

article 5500484

article 5500485

article 5500486

article 5500487

article 5500488

article 5500489

article 5500490

article 5500491

article 5500492

article 5500493

article 5500494

article 5500495

article 5500496

article 5500497

article 5500498

article 5500499

article 5500500

article 5500501

article 5500502

article 5500503

article 5500504

article 5500505

article 5500506

article 5500507

article 5500508

article 5500509

article 5500510

article 5500511

article 5500512

article 5500513

article 5500514

article 5500515

article 838000893

article 838000894

article 838000895

article 838000896

article 838000897

article 838000898

article 838000899

article 838000900

article 838000901

article 838000902

article 838000903

article 838000904

article 838000905

article 838000906

article 838000907

article 838000908

article 838000909

article 838000910

article 838000911

article 838000912

article 838000913

article 838000914

article 838000915

article 838000916

article 838000917

article 838000918

article 838000919

article 838000920

article 838000921

article 838000922

article 838000923

article 838000924

article 838000925

article 838000926

article 838000927

article 838000928

article 838000929

article 838000930

article 838000931

article 838000932

news-1701