LOADING

Type to search

پاکستان

کراچی (اردو ٹائمز) خاموش انتظامی رویے بھی کام کی جگہ پر ہراسانی بن سکتے ہیں

Share

کراچی (اردو ٹائمز): خاموش انتظامی رویے بھی کام کی جگہ پر ہراسانی بن سکتے ہیں خواتین کے لیے محفوظ، باوقار اور مساوی کام کی جگہ کیوں ضروری ہے؟ کام کی جگہ پر ہراسانی ہمیشہ بلند آواز، توہین آمیز الفاظ یا کسی واضح نامناسب رویے کی صورت میں سامنے نہیں آتی۔ بعض اوقات یہ بظاہر معمول کے انتظامی فیصلوں، مسلسل نظرانداز کیے جانے، اہم اجلاسوں سے دور رکھنے، ذمہ داریاں واپس لینے، جائز درخواستوں میں غیر ضروری تاخیر کرنے یا کسی خاتون کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوششوں کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر عالیہ کمال احسن نے ایک آگاہی مضمون میں یہ باتیں بیان کرتے ہوئے پاکستان میں خواتین کے لیے محفوظ، باوقار اور مساوی کام کی جگہوں کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر عالیہ کے مطابق جب کسی ملازم کو مسلسل اور منظم انداز میں پیشہ ورانہ طور پر الگ تھلگ کیا جائے، دباؤ کا سامنا ہو یا معمول کی ذمہ داریاں انجام دینے میں مشکلات پیدا کی جائیں تو ایسے رویے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس نوعیت کے مسلسل اجتماعی رویے کو بعض اوقات کام کی جگہ پر اجتماعی ہراسانی بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہر اختلاف، سخت انتظامی فیصلہ یا پیشہ ورانہ تنازع ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہر معاملے کا جائزہ اس کے حقائق، پس منظر، رویے کے تسلسل، ممکنہ امتیازی یا انتقامی عناصر اور متعلقہ قانون و ادارہ جاتی پالیسیوں کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔

خواتین کو کن رویوں پر توجہ دینی چاہیے؟

آگاہی کے لیے ان رویوں کو سمجھنا ضروری ہے جو کسی بڑے مسئلے کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ ان میں کسی خاتون کو بار بار اہم اجلاسوں یا پیشہ ورانہ مواقع سے محروم رکھنا، جائز درخواستوں کو مسلسل نظرانداز کرنا، بغیر واضح وجہ کے اس کے عہدے سے متعلق ذمہ داریاں واپس لینا، ضروری معلومات یا وسائل تک رسائی محدود کرنا، اور اس کی تعلیم، تجربے یا پیشہ ورانہ قابلیت کو مسلسل کم تر ظاہر کرنا شامل ہوسکتا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی ملازم شکایت درج کرانے کے بعد دباؤ، دھمکیوں، تذلیل یا کسی دوسرے انتقامی رویے کا سامنا کرے تو اس معاملے کو بھی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

طبی شعبے میں معاملہ زیادہ حساس ہے

ڈاکٹر عالیہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں یہ معاملہ مزید اہم ہوجاتا ہے کیونکہ طبی عملے کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں براہِ راست مریضوں کی دیکھ بھال سے منسلک ہوتی ہیں۔

اگر کسی ڈاکٹر، نرس یا دیگر طبی کارکن کو غیر منصفانہ طور پر اس کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا جائے، ضروری معلومات یا وسائل تک رسائی سے محروم کیا جائے یا خوف اور دباؤ کے ماحول کا سامنا ہو تو اس کے اثرات صرف متعلقہ ملازم تک محدود نہیں رہ سکتے۔

صحت کے اداروں میں محفوظ اور باوقار ماحول نہ صرف ملازمین بلکہ ٹیم ورک، پیشہ ورانہ کارکردگی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں قانونی تحفظ

پاکستان میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کا قانون 2010 موجود ہے، جس میں 2022 میں اہم ترامیم کی گئیں۔

ان ترامیم کے ذریعے قانون کے دائرہ کار اور ’’کام کی جگہ‘‘ کے تصور کو وسعت دی گئی، جبکہ صنفی امتیاز کو بھی قانونی دائرہ کار میں شامل کیا گیا۔

ہراسانی سے تحفظ کے لیے وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین بمقابلہ ہراسانی (فوسپا) ایک آزاد قانونی فورم ہے، جسے قانون کے تحت شکایات سننے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے علاوہ اداروں میں اندرونی انسدادِ ہراسانی تحقیقاتی کمیٹی کا نظام بھی ہونا ضروری ہے۔

سندھ میں صوبائی محتسب سندھ (کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ) بھی خواتین کی کام کی جگہ پر ہراسانی سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ایک الگ ادارہ جاتی فورم فراہم کرتا ہے۔

دریں اثنا سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن خواتین کے حقوق، قانون سازی، پالیسی اور صنفی مساوات کے فروغ میں قانونی کردار ادا کرتا ہے۔

جب شکایتی نظام نے کام کیا

پاکستان میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں خواتین ملازمین یا ڈاکٹروں کی جانب سے دائر کی گئی شکایات پر ادارہ جاتی شکایتی نظام نے کارروائی کی۔

اسلام آباد کے ایک وفاقی تدریسی اسپتال سے متعلق ایک دستاویزی کیس میں ایک خاتون زیرِ تربیت ڈاکٹر نے ایک سینئر سرجن کے خلاف ادارے کی انسدادِ ہراسانی کمیٹی میں شکایت درج کرائی۔ تحقیقات کے بعد چار رکنی کمیٹی نے خاتون ڈاکٹر کے حق میں فیصلہ دیا اور متعلقہ سرجن کے خلاف ادارہ جاتی کارروائی کی گئی۔ بعد ازاں اس کیس کو کیمبرج یونیورسٹی پریس کی جانب سے شائع کردہ ایک مطالعاتی جائزے میں پاکستان کی مثال کے طور پر بھی دستاویزی شکل دی گئی۔

یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ جب شکایتی نظام مؤثر ہو، شواہد کا مناسب جائزہ لیا جائے اور ادارہ قانون و ضوابط کے مطابق کارروائی کرے تو متاثرہ فرد کی شکایت مؤثر انداز میں سنی جاسکتی ہے۔

ایک حالیہ فوسپا کیس میں ایک نجی کمپنی کے پانچ ملازمین پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق شکایت ایک سابق خاتون ملازم نے درج کرائی تھی اور معاملے میں شکایت کے بعد مبینہ انتقامی رویے کے الزامات بھی شامل تھے۔

اگرچہ یہ کیس صحت کے شعبے سے متعلق نہیں تھا، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ قانونی فورمز کے ذریعے شکایت درج ہونے پر عملی کارروائی بھی ممکن ہے۔

اگر کسی خاتون کو ہراسانی کا سامنا ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق متاثرہ فرد کو حتی الامکان واقعے کی تاریخ، وقت، مقام اور نوعیت کا ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے۔ متعلقہ ای میلز، پیغامات، نوٹسز اور دیگر دستاویزات بھی محفوظ کیے جانے چاہئیں۔

ادارے کی انسدادِ ہراسانی کمیٹی یا متعلقہ شکایتی نظام سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ پیچیدہ معاملات میں قانونی یا پیشہ ورانہ مشورہ لینا بھی اہم ہوسکتا ہے۔

تاہم ایک بنیادی اصول ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیے:

شکایت درج کرانا کسی شخص کے مجرم ہونے کا ثبوت نہیں، لیکن شکایت کو نظرانداز کرنا بھی انصاف نہیں۔

ہر شکایت کو شواہد، رازداری، غیر جانب داری اور منصفانہ طریقہ کار کی بنیاد پر نمٹایا جانا چاہیے۔

اداروں کی ذمہ داری

ڈاکٹر عالیہ کے مطابق ادارے کی ذمہ داری صرف شکایت موصول ہونے کے بعد کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ادارے کو پہلے سے ایسا ماحول بھی قائم کرنا چاہیے جہاں ملازمین کو معلوم ہو کہ وہ شکایت کہاں اور کس طریقے سے درج کراسکتے ہیں۔

اداروں کو واضح اور آسان شکایتی نظام برقرار رکھنا چاہیے، انسدادِ ہراسانی کمیٹیوں کو مؤثر بنانا چاہیے، شکایت کنندگان کو ممکنہ انتقامی کارروائی سے تحفظ دینا چاہیے اور تقرریوں، ترقیوں، ڈیوٹی شیڈول، ذمہ داریوں کی تقسیم اور وسائل کی فراہمی کے لیے شفاف طریقہ کار اپنانا چاہیے۔

خاموشی کے بجائے آگاہی

کام کی جگہ پر احترام اور وقار کسی فرد پر کیا جانے والا احسان نہیں بلکہ بنیادی پیشہ ورانہ اصول ہیں۔

خواتین کو اپنے حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے جبکہ اداروں کو اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے۔

کسی رویے کو ’’ہراسانی‘‘ قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ فوری طور پر کسی فرد کو قصوروار قرار دے دیا جائے۔ مقصد یہ ہے کہ مسئلے کی نشاندہی کی جائے، شکایت سنی جائے، شواہد کا جائزہ لیا جائے اور جہاں خلاف ورزی ثابت ہو وہاں قانون اور ادارہ جاتی ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ایک صحت مند ادارے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں کبھی شکایت سامنے نہ آئے، بلکہ یہ ہے کہ شکایت سامنے آنے پر ادارہ اسے کتنی سنجیدگی، شفافیت اور منصفانہ انداز میں نمٹاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X